الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
4. باب في إغماض الميت والدعاء له إذا حضر:
باب: میت کی آنکھوں کو بند کرنا اور اس کے لئے دعا کرنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 920 ترقیم شاملہ: -- 2131
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " وَاخْلُفْهُ فِي تَرِكَتِهِ "، وَقَالَ: " اللَّهُمَّ أَوْسِعْ لَهُ فِي قَبْرِهِ "، وَلَمْ يَقُلِ افْسَحْ لَهُ، وَزَادَ قَالَ خَالِدٌ الْحَذَّاءُ: " وَدَعْوَةٌ أُخْرَى سَابِعَةٌ نَسِيتُهَا ".
عبیداللہ بن حسن نے کہا: ہمیں خالد حذا نے اسی (مذکورہ بالا) سند کے ساتھ اس (سابقہ حدیث) کے ہم معنی حدیث بیان کی، اس کے سوا کہ انہوں نے «وَاخْلُفْهُ فِي عَقِبِهِ» کے بجائے «وَاخْلُفْهُ فِي تَرِكَتِهِ» (جو کچھ اس نے چھوڑا ہے، یعنی اہل و مال، اس میں اس کا جانشین بن) کہا، اور انہوں نے «اللَّهُمَّ أَوْسِعْ لَهُ فِي قَبْرِهِ» (اے اللہ! اس کے لیے اس کی قبر میں وسعت پیدا فرما) کہا اور «افْسَحْ لَهُ» (اور اس کے لیے کشادگی پیدا فرما) نہیں کہا اور (عبیداللہ نے) یہ زائد بیان کیا کہ خالد حذا نے کہا: ایک اور ساتویں دعا کی جسے میں بھول گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2131]
امام صاحب خالد حذاء کی سند سے ہی یہ روایت اپنے دوسرے استاد سے روایت کرتے ہیں۔ اس میں یہ الفاظ ہیں (وَاخْلُفْهُ فِى تَرِكَتِهِ) اس کے پس ماندگان کے لیے تو نگہبان اور محافظ بن کر اس کی جانشینی فرما اور (أفْسَحْ لَهُ) کی جگہ (أوسع له) اس کے لیے وسیع فرما اور خالد حذاء کہتے ہیں، ایک ساتویں دعا بھی کی جو میں بھول گیا ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2131]
ترقیم فوادعبدالباقی: 920
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2131 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2131
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
(شَقَّ بَصَرُهُ)
آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں نظر اوپر اٹھ گئی یہی معنی شخص (بَصَرُهُ)
کا ہے (تَبعه البصر يا يتبع بصره نفسه)
اس کی بنیائی اس کی روح کا پیچھا اور تعاقب کرتی ہے۔
اس کے ساتھ ہی نکل جاتی ہے۔
(فِي عَقِبِه فِي الغَابِرِينَ)
پیچھے رہ جانے والی اس کی اولاد اور یہی معنی (تركته)
کا ہے۔
اوپر جو دعا گزری ہے (اللَّهُمَّ اغْفِرْ لأَبِي سَلَمَةَ)
سے (وَنَوِّرْ لَهُ فِيْهِ)
تک چھ کلمات ہیں یا چھ دعائیں ہیں ساتواں کلمہ یا دعا راوی کو بھول گئی۔
فوائد ومسائل:
(شَقَّ بَصَرُهُ)
آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں نظر اوپر اٹھ گئی یہی معنی شخص (بَصَرُهُ)
کا ہے (تَبعه البصر يا يتبع بصره نفسه)
اس کی بنیائی اس کی روح کا پیچھا اور تعاقب کرتی ہے۔
اس کے ساتھ ہی نکل جاتی ہے۔
(فِي عَقِبِه فِي الغَابِرِينَ)
پیچھے رہ جانے والی اس کی اولاد اور یہی معنی (تركته)
کا ہے۔
اوپر جو دعا گزری ہے (اللَّهُمَّ اغْفِرْ لأَبِي سَلَمَةَ)
سے (وَنَوِّرْ لَهُ فِيْهِ)
تک چھ کلمات ہیں یا چھ دعائیں ہیں ساتواں کلمہ یا دعا راوی کو بھول گئی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2131]
عبيد الله بن الحسن التميمي ← خالد الحذاء