صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
10. باب التشديد في النياحة:
باب: نوحہ کرنے کی سختی کے ساتھ ممانعت۔
ترقیم عبدالباقی: 936 ترقیم شاملہ: -- 2165
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَمِيعًا، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا سورة الممتحنة آية 12، وَلا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ سورة الممتحنة آية 12، قَالَتْ: كَانَ مِنْهُ النِّيَاحَةُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا آلَ فُلَانٍ، فَإِنَّهُمْ كَانُوا أَسْعَدُونِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَا بُدَّ لِي مِنْ أَنْ أُسْعِدَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِلَّا آلَ فُلَانٍ ".
عاصم نے حفصہ سے اور انہوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی: «وَإِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَىٰ أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا» (عورتیں آپ سے بیعت کریں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی۔۔۔ اور کسی نیک کام میں آپ کی مخالفت نہیں کریں گی) کہا: اس (عہد) میں سے ایک نوحہ گری (کی شق) بھی تھی، تو میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! فلاں خاندان کے سوا، کیونکہ انہوں نے جاہلیت کے دور میں (نوحہ کرنے پر) میرے ساتھ تعاون کیا تھا، تو اب میرے لیے بھی لازم ہے کہ میں (ایک بار) ان کے ساتھ تعاون کروں۔“ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فلاں کے خاندان کے سوا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2165]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب سورہ ممتحنہ کی یہ آیت اتری: ﴿یُبَایِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا... وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ﴾ [سورة الممتحنة: 12] ”عورتیں آپ سے اس بات پر بیعت کریں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی۔۔۔ اور آخر میں ہے کہ کسی نیک کام میں آپ کی مخالفت نہیں کریں گی۔“ وہ بتاتی ہیں کہ (باز رہنے والی چیزوں میں) نوحہ بھی داخل تھا۔ تو میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! فلاں خاندان کے سوا، کیونکہ انہوں نے جاہلیت کے دور میں نوحہ کرنے میں میرے ساتھ تعاون کیا تھا تو میرے لیے ان کے تعاون کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فلاں شخص کا خاندان مستثنیٰ ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2165]
ترقیم فوادعبدالباقی: 936
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2165 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2165
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ بعض کام ناجائز ہوتے ہیں لیکن اللہ کا رسول چونکہ اللہ تعالیٰ کا نمائندہ ہوتا ہے اس لیے وہ اللہ کی منشا اور مرضی کے مطابق،
بعض لوگوں کو وقتی طور پر اس کام کرنے کی اجازت دے دیتا ہے اور اس وقتی اجازت کے بعد وہ انسان بھی دوسروں کے ساتھ اس حکم میں شریک ہوتا ہے لیکن اس وقتی اجازت کا یہ معنی نہیں ہے۔
کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم )
کو مستقل طور پر یہ اختیار دے دیا ہے کہ آپ عمومی احکام میں سے جس فرد کو چاہیں خاص کر لیں،
بلکہ یہ کام آپ:
﴿لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللَّهُ﴾ (النساء: 105)
تاکہ آپ لوگوں میں اس کے مطابق فیصلہ کریں جو بات اللہ تعالیٰ نے آپ کو سجھائی ہے اصول کےمطابق کرتے ہیں اس لیے اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی فیصلہ یا حکم اللہ تعالیٰ کی منشاء مرضی کے مطابق نہ ہوتا تو فوراً آپ کو آگاہ کر دیا جاتا تھا۔
اور اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کا فرستادہ اور نمائندہ ہوتا ہے۔
اس لیے اس کا حکم اللہ تعالیٰ کا حکم متصور ہوتا ہے۔
اس لیے فرمایا:
﴿مَّن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ﴾ (النساء: 80)
”جو رسول کی اطاعت کرتا ہے وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے“ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض احکام قرآن سے زائد اور مستقل دئیے ہیں۔
جن کا بعض حضرات نے حیلوں بہانوں سے انکارکیا ہے۔
مثلاً آپ کا ایک شاہد (گواہ)
کی موجودگی میں مدعی سے قسم لینا،
دودھ روکے ہوئے جانور کو دو صاع کھجور دے کر،
جانور کے مالک کو واپس کرنا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نماز جنازہ میں سورۃ فاتحہ پڑھنا وغیرہ بے شمار احادیث ہیں،
جن کو یہ حضرات ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ بعض کام ناجائز ہوتے ہیں لیکن اللہ کا رسول چونکہ اللہ تعالیٰ کا نمائندہ ہوتا ہے اس لیے وہ اللہ کی منشا اور مرضی کے مطابق،
بعض لوگوں کو وقتی طور پر اس کام کرنے کی اجازت دے دیتا ہے اور اس وقتی اجازت کے بعد وہ انسان بھی دوسروں کے ساتھ اس حکم میں شریک ہوتا ہے لیکن اس وقتی اجازت کا یہ معنی نہیں ہے۔
کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم )
کو مستقل طور پر یہ اختیار دے دیا ہے کہ آپ عمومی احکام میں سے جس فرد کو چاہیں خاص کر لیں،
بلکہ یہ کام آپ:
﴿لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللَّهُ﴾ (النساء: 105)
تاکہ آپ لوگوں میں اس کے مطابق فیصلہ کریں جو بات اللہ تعالیٰ نے آپ کو سجھائی ہے اصول کےمطابق کرتے ہیں اس لیے اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی فیصلہ یا حکم اللہ تعالیٰ کی منشاء مرضی کے مطابق نہ ہوتا تو فوراً آپ کو آگاہ کر دیا جاتا تھا۔
اور اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کا فرستادہ اور نمائندہ ہوتا ہے۔
اس لیے اس کا حکم اللہ تعالیٰ کا حکم متصور ہوتا ہے۔
اس لیے فرمایا:
﴿مَّن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ﴾ (النساء: 80)
”جو رسول کی اطاعت کرتا ہے وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے“ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض احکام قرآن سے زائد اور مستقل دئیے ہیں۔
جن کا بعض حضرات نے حیلوں بہانوں سے انکارکیا ہے۔
مثلاً آپ کا ایک شاہد (گواہ)
کی موجودگی میں مدعی سے قسم لینا،
دودھ روکے ہوئے جانور کو دو صاع کھجور دے کر،
جانور کے مالک کو واپس کرنا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نماز جنازہ میں سورۃ فاتحہ پڑھنا وغیرہ بے شمار احادیث ہیں،
جن کو یہ حضرات ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2165]
Sahih Muslim Hadith 2165 in Urdu
حفصة بنت سيرين الأنصارية ← أم عطية الأنصارية