صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
13. باب الابتداء في النفقة بالنفس ثم اهله ثم القرابة:
باب: پہلے اپنی ذات پر، پھر اپنے گھر والوں پر، پھر قرابت والوں پر خرچ کرنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 997 ترقیم شاملہ: -- 2314
وحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو مَذْكُورٍ، أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ يُقَالُ لَهُ يَعْقُوبُ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ اللَّيْثِ.
ایوب نے ابوزبیر سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انصار میں سے ابومذکور نامی ایک آدمی نے اپنے غلام کو، جسے یعقوب کہا جاتا تھا، اپنے مرنے کے بعد آزاد قرار دیا۔۔۔ آگے انہوں نے لیث کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2314]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابو مذکور نامی ایک انصاری شخص نے اپنا ایک غلام، جس کا نام یعقوب تھا، اسے اپنی وفات کے بعد کے لیے آزاد کر دیا، پھر آگے لیث کی مذکورہ بالا روایت کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2314]
ترقیم فوادعبدالباقی: 997
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2314 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2314
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
انسان پر سب سے مقدم حق اس کا اپنا ہے اور اپنی جائز ضروریات پر مناسب انداز سے صرف کرنا بھی اجروثواب کا باعث ہے۔
صرف دوسروں پر خرچ کرنے سے ہی اجر نہیں ملتا،
اپنے بعد سب سے مقدم اہل و عیال کا حق ہے اور پھر درجہ بدرجہ رشتہ داروں کا حق ہے اس لیے حقوق کی ادائیگی میں اقرب فالا قرب کا لحاظ رکھنا ضروری ہے بلاوجہ مقدم کو مؤخر نہیں کیا جا سکتا اور ضرورت و حاجت کی صورت میں مدبر غلام کو فروخت کرنا جائز ہے اور مدبر وہ غلام ہے جس کو مالک یہ کہہ دے تو میرے مرنے کے بعد آزاد ہو گا۔
فوائد ومسائل:
انسان پر سب سے مقدم حق اس کا اپنا ہے اور اپنی جائز ضروریات پر مناسب انداز سے صرف کرنا بھی اجروثواب کا باعث ہے۔
صرف دوسروں پر خرچ کرنے سے ہی اجر نہیں ملتا،
اپنے بعد سب سے مقدم اہل و عیال کا حق ہے اور پھر درجہ بدرجہ رشتہ داروں کا حق ہے اس لیے حقوق کی ادائیگی میں اقرب فالا قرب کا لحاظ رکھنا ضروری ہے بلاوجہ مقدم کو مؤخر نہیں کیا جا سکتا اور ضرورت و حاجت کی صورت میں مدبر غلام کو فروخت کرنا جائز ہے اور مدبر وہ غلام ہے جس کو مالک یہ کہہ دے تو میرے مرنے کے بعد آزاد ہو گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2314]
Sahih Muslim Hadith 2314 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري