صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
14. باب فضل النفقة والصدقة على الاقربين والزوج والاولاد والوالدين ولو كانوا مشركين:
باب: والدین اور دیگر اقرباء پر خرچ کرنے کی فضیلت اگرچہ وہ مشرک ہوں۔
ترقیم عبدالباقی: 998 ترقیم شاملہ: -- 2315
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ إسحاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَكْثَرَ أَنْصَارِيٍّ بِالْمَدِينَةِ مَالًا، وَكَانَ أَحَبُّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرَحَى، وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيهَا طَيِّبٍ، قَالَ أَنَسٌ: فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92 قَامَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92، وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلَيَّ بَيْرَحَى، وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ، فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ شِئْتَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَخْ ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ، قَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ فِيهَا وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبِينَ"، فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ وَبَنِي عَمِّهِ.
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرما رہے تھے: ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مدینہ میں کسی بھی انصاری سے زیادہ مالدار تھے، ان کے مال میں سے بیرحاء والا باغ انہیں سب سے زیادہ پسند تھا جو مسجد نبوی کے سامنے واقع تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں تشریف لے جاتے اور اس کا عمدہ پانی نوش فرماتے۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی: «لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ» ”تم نیکی حاصل نہیں کر سکو گے جب تک اپنی پسندیدہ چیز (اللہ کی راہ میں) خرچ نہ کرو۔“ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور عرض کی: ”اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں: «لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ» ”تم نیکی حاصل نہیں کر سکو گے جب تک اپنی پسندیدہ چیز (اللہ کی راہ میں) خرچ نہ کرو۔“ مجھے اپنے اموال میں سے سب سے زیادہ بیرحاء پسند ہے اور وہ اللہ کے لیے صدقہ ہے، مجھے اس کے اچھے بدلے اور اللہ کے ہاں ذخیرہ (کے طور پر محفوظ) ہونے کی امید ہے۔ اے اللہ کے رسول! آپ اسے جہاں چاہیں رکھیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت خوب، یہ سودمند مال ہے، یہ نفع بخش مال ہے، جو تم نے اس کے بارے میں کہا میں نے سن لیا ہے اور میری رائے یہ ہے کہ تم اسے (اپنے) قرابت داروں کو دے دو۔“ تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے عزیزوں اور اپنے چچا کے بیٹوں میں تقسیم کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2315]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ انصارِ مدینہ میں سب سے زیادہ مالدار تھے اور ان کا بیرحاء نامی باغ انہیں سب سے زیادہ محبوب تھا جو مسجدِ نبوی کے سامنے واقع تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں تشریف لے جاتے اور اس کا عمدہ پانی نوش فرماتے، جب یہ آیت اتری: ﴿لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ﴾ [سورة آل عمران: 92] ”تم نیکی حاصل نہیں کر سکو گے جب تک اپنی محبوب چیز (اللہ کی راہ میں) خرچ نہ کرو گے“ تو ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں کہ ﴿لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ﴾ [سورة آل عمران: 92] ”تم نیکی حاصل نہیں کر سکو گے حتی کہ اپنی پسندیدہ چیز راہِ خدا میں دو“ اور مجھے اپنے اموال میں سب سے زیادہ میرا یہ بیرحاء باغ پسند ہے اور وہ اللہ کے لیے صدقہ ہے، میں اس کے اللہ کے ہاں نیکی کا سامان اور آخرت کا ذخیرہ بننے کی امید رکھتا ہوں، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ جہاں چاہیں اسے خرچ فرمائیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «بَخٍ، ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ، ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ، وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ، وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبِينَ» ”بہت خوب! یہ سود مند اور نفع بخش مال ہے، یہ فائدہ بخش مال ہے، میں نے تیری بات سن لی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ تم اسے اپنے اقارب کو (رشتہ داروں کو) دے دو“ چنانچہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے عزیزوں اور عم زاد بھائیوں میں تقسیم کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2315]
ترقیم فوادعبدالباقی: 998
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥إسحاق بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو يحيى، أبو نجيح إسحاق بن عبد الله الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة حجة | |
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله مالك بن أنس الأصبحي ← إسحاق بن عبد الله الأنصاري | رأس المتقنين وكبير المتثبتين | |
👤←👥يحيى بن يحيى النيسابوري، أبو زكريا يحيى بن يحيى النيسابوري ← مالك بن أنس الأصبحي | ثقة ثبت إمام |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5611
| نزلت لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون |
صحيح البخاري |
2752
| أرى أن تجعلها في الأقربين قال أبو طلحة أفعل يا رسول الله فقسمها أبو طلحة في أقاربه وبني عمه |
صحيح البخاري |
2318
| ذلك مال رائح قد سمعت ما قلت فيها وأرى أن تجعلها في الأقربين قال أفعل يا رسول الله فقسمها أبو طلحة في أقاربه وبني عمه |
صحيح البخاري |
4554
| ذلك مال رايح ذلك مال رايح وقد سمعت ما قلت وإني أرى أن تجعلها في الأقربين |
صحيح البخاري |
2769
| لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون |
صحيح البخاري |
1461
| ذلك مال رابح ذلك مال رابح وقد سمعت ما قلت وإني أرى أن تجعلها في الأقربين فقال أبو طلحة أفعل يا رسول الله فقسمها أبو طلحة في أقاربه وبني عمه |
صحيح مسلم |
2315
| ذلك مال رابح ذلك مال رابح قد سمعت ما قلت فيها وإني أرى أن تجعلها في الأقربين |
صحيح مسلم |
2316
| اجعلها في قرابتك |
جامع الترمذي |
2997
| اجعله في قرابتك |
سنن أبي داود |
1689
| اجعلها في قرابتك |
سنن النسائى الصغرى |
3632
| اجعلها في قرابتك |
موطا امام مالك رواية ابن القاسم |
287
| ذلك مال رابح، ذلك مال رابح قد سمعت ما قلت فيها، وإني ارى ان تجعلها فى الاقربين |
Sahih Muslim Hadith 2315 in Urdu
إسحاق بن عبد الله الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري