🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب وصول ثواب الصدقة عن الميت إليه:
باب: میت کے ایصال ثواب کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1004 ترقیم شاملہ: -- 2327
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إسحاق ، كُلُّهُمْ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ وَلَمْ تُوصِ، كَمَا قَالَ ابْنُ بِشْرٍ وَلَمْ يَقُلْ ذَلِكَ الْبَاقُونَ.
یحییٰ بن سعید، ابواسامہ، علی بن مسہر اور شعیب بن اسحاق سب نے ہشام سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ (اسی کی طرح) روایت بیان کی۔ ابواسامہ کی حدیث میں ’ولم توص‘ (اس نے وصیت نہیں کی) کے الفاظ ہیں، جس طرح ابن بشر نے کہا ہے۔ (جبکہ) باقی راویوں نے یہ الفاظ بیان نہیں کئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2327]
امام صاحب نے اپنے مختلف اساتذہ سے ہشام ہی کی سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کی ہے، ابو سلمہ رحمہ اللہ کی روایت میں، ابن بشر رحمہ اللہ کی روایت کی طرح «وَلَمْ تُوصِ» (اس نے وصیت نہیں کی) کے الفاظ ہیں، لیکن باقیوں کی روایت میں یہ لفظ نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2327]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1004
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكرثقة إمام في الحديث
👤←👥شعيب بن إسحاق القرشي، أبو محمد
Newشعيب بن إسحاق القرشي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة
👤←👥الحكم بن موسى البغدادي، أبو صالح
Newالحكم بن موسى البغدادي ← شعيب بن إسحاق القرشي
ثقة
👤←👥علي بن مسهر القرشي، أبو الحسن
Newعلي بن مسهر القرشي ← الحكم بن موسى البغدادي
ثقة
👤←👥علي بن حجر السعدي، أبو الحسن
Newعلي بن حجر السعدي ← علي بن مسهر القرشي
ثقة حافظ
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة
Newحماد بن أسامة القرشي ← علي بن حجر السعدي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← حماد بن أسامة القرشي
ثقة حافظ
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← محمد بن العلاء الهمداني
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة
Newزهير بن حرب الحرشي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة ثبت
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2327 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2327
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اصول اور ضابطہ یہ ہے کہ انسان اپنی ہی محنت اور کوشش کا مالک ہے دوسرے کی محنت اور کوشش کا جس میں اس کا کسی قسم کا دخل نہیں ہے یعنی وہ اس کا باعث یا سبب نہیں۔
اس کی تحریک اور عمل میں اس کا حصہ نہیں ہے وہ اس کا مالک بھی نہیں ہے لیکن جن کے عمل و کردار میں اس کا کسی قسم کا دخل ہے اور اس کا تھوڑا بہت اس سے تعلق ہے وہ اس کا اگرچہ مالک نہیں ہے مالک کرنے والا ہی ہے لیکن اپنے دخل اور تعلق کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس کو بھی اس سے ثواب ملے گا۔
مالک اپنی چیز اگر خود کسی کو دے دے اور اللہ چاہے تو اس اہداء اور عطا کو قبول کرے کیونکہ اجر دینے والا تو وہی ہے اور اگر نہ چاہے تو قبول نہ کرے عبادات مالیہ میں بالاتفاق اہل سنت کے نزدیک دوسرے کا قرض ادا کیا جا سکتا ہے اور اس کی طرف سے صدقہ و خیرات بھی کیا جا سکتا ہے لیکن عبادات بدنیہ میں ہر جگہ نیابت جائز نہیں ہے مثلاً کوئی کسی کی طرف سے اس کی زندگی میں نماز نہیں پڑھ سکتا تلاوت نہیں کر سکتا صحت و سلامتی سے متصف ہے تو اس کی طرف سے حج نہیں کر سکتا اور روزہ نہیں رکھ سکتا لیکن مرنے کے بعد ان میں سے بعض کاموں کی اجازت ہے۔
اس کی طرف سے حج کیا جا سکتا ہے اس کے فوت شدہ روزے رکھے جا سکتے ہیں کیونکہ ان کے بارے میں نصوص موجود ہیں کہ صحابہ و تابعین کا عمل بھی اس کی تائید کرتا ہے لیکن جس عبادت کے بارے میں کوئی نص موجود نہیں ہے اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین و تابعین کا مجموعی عمل اس کا مؤید نہیں ہے اس کے بارے میں اپنی طرف سے قیاس ورائے سے کام لے کر فیصلہ کرنا درست نہیں ہے جس طرح کسی کی طرف سے قرآن مجید پڑھنا،
نماز پڑھنا اور نفلی روزے رکھنا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2327]

Sahih Muslim Hadith 2327 in Urdu