صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
32. باب بيان كفر من قال مطرنا بالنوء:
باب: اس شخص کے کفر کا بیان جو کہے کہ بارش ستاروں کی گردش ہوتی ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 73 ترقیم شاملہ: -- 234
وحَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مُطِرَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَصْبَحَ مِنَ النَّاسِ شَاكِرٌ، وَمِنْهُمْ كَافِرٌ "، قَالُوا: هَذِهِ رَحْمَةُ اللَّهِ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَقَدْ صَدَقَ نَوْءُ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فَلا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ حَتَّى بَلَغَ وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ سورة الواقعة آية 75 - 82.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں لوگوں کو بارش سے نوازا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں میں سے کچھ شکر گزار ہو گئے ہیں اور کچھ کافر (ناشکرے)، (بعض) لوگوں نے کہا: یہ اللہ کی رحمت ہے اور بعض نے کہا: فلاں فلاں نوء (ایک ستارے کا غروب اور اس کے سبب سے دوسرے کی بلندی) سچی نکلی۔“ (ابن عباس رضی اللہ عنہما) فرماتے ہیں، اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ”میں ستاروں کے گرنے کی جگہوں کی قسم کھاتا ہوں۔“ (سے لے کر) اس آیت تک: ”اور تم اپنا حصہ یہ رکھتے ہو کہ تم اس کی تکذیب کرتے ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 234]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں لوگوں پر بارش برسی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ لوگ شکر گزار بنے اور کچھ ناشکرے۔ کچھ نے کہا: یہ اللہ کی رحمت ہے، اور کچھ نے کہا: فلاں نوء اور فلاں نوء کا کام ہے۔“ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اس پر یہ آیت اتری: ﴿فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ﴾ [سورة الواقعة: 75] ”مجھے ستاروں کے گرنے کی قسم“ سے لے کر ﴿وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ﴾ [سورة الواقعة: 82] ”تمھارا حصہ اور نصیب یہی ہے کہ تم جھٹلاتے ہو۔“ تک۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 234]
ترقیم فوادعبدالباقی: 73
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (5672)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 234 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 234
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
:
رزق کا معنی:
بعض نے حصہ و نصیب،
بعض نے شکر کیا ہے اور بعض نے مضاف محذوف مانا،
یعنی:
شكر رزقكم۔
مفردات الحدیث:
:
رزق کا معنی:
بعض نے حصہ و نصیب،
بعض نے شکر کیا ہے اور بعض نے مضاف محذوف مانا،
یعنی:
شكر رزقكم۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 234]
Sahih Muslim Hadith 234 in Urdu
سماك بن الوليد الحنفي ← عبد الله بن العباس القرشي