صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
6. باب بيان انه لا اعتبار بكبر الهلال وصغره وان الله تعالى امده للرؤية فإن غم فليكمل ثلاثون.
باب: چاند کے چھوٹے بڑے ہونے کا اعتبار نہیں اور جب بادل ہوں تو تیس دن شمار کر لیا کرو۔
ترقیم عبدالباقی: 1088 ترقیم شاملہ: -- 2529
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، قَالَ: خَرَجْنَا لِلْعُمْرَةِ فَلَمَّا نَزَلْنَا بِبَطْنِ نَخْلَةَ، قَالَ: تَرَاءَيْنَا الْهِلَالَ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ، وَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ، قَالَ: فَلَقِينَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقُلْنَا: إِنَّا رَأَيْنَا الْهِلَالَ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ، وَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ، فَقَالَ: أَيَّ لَيْلَةٍ رَأَيْتُمُوهُ؟، قَالَ: فَقُلْنَا: لَيْلَةَ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ مَدَّهُ لِلرُّؤْيَةِ، فَهُوَ لِلَيْلَةٍ رَأَيْتُمُوهُ ".
حصین، عمر بن مرہ، حضرت ابوالبختری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم عمرہ کے لیے نکلے تو جب ہم وادی نخلہ میں اترے تو ہم نے چاند دیکھا بعض لوگوں نے کہا کہ یہ تیسری کا چاند ہے۔ اور کسی نے کہا کہ یہ دو راتوں کا چاند ہے۔ تو ہماری ملاقات حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہوئی تو ہم نے ان سے عرض کیا کہ ہم نے چاند دیکھا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ تیسری تاریخ کا چاند ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ دوسری کا چاند ہے۔ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تم نے کس رات چاند دیکھا تھا؟ تو ہم نے عرض کیا کہ فلاں فلاں رات کا تو آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے دیکھنے کے لیے اسے بڑھا دیا ہے۔ در حقیقت وہ اسی رات کا چاند ہے جس رات تم نے اسے دیکھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2529]
ابو البختری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ ہم عمرہ کے لیے نکلے، جب بطن نخلہ نامی مقام پر پڑاؤ کیا تو ہم نے ایک دوسرے کو چاند دکھایا، بعض لوگوں نے کہا: تیسری رات کا چاند ہے اور بعض نے کہا: دوسری رات کا ہے اور ہماری ملاقات ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوئی تو ہم نے پوچھا: ہم نے چاند دیکھا تو بعض لوگوں نے کہا: تیسری رات کا چاند ہے اور بعض لوگوں نے کہا: دوسری رات کا ہے۔ آپ نے پوچھا: تم نے اسے کس رات دیکھا؟ تو ہم نے بتایا کہ فلاں فلاں رات کو دیکھا ہے۔ اس پر انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اسے دیکھنے کے لیے بڑھا دیتا ہے درحقیقت وہ اس رات کا ہے جس رات تم نے اسے دیکھا ہے ”مَدَّة“ دیکھنے کے لیے اس کی مدت رؤیت بڑھا دی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2529]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1088
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
سعيد بن أبي عمران الطائي ← عبد الله بن العباس القرشي