صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
12. باب بيان ان القبلة في الصوم ليست محرمة على من لم تحرك شهوته:
باب: روزہ میں اپنی بیوی کا بوسہ لینا حرام نہیں بشرطیکہ شہوت نہ ہو۔
ترقیم عبدالباقی: 1108 ترقیم شاملہ: -- 2588
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ الْحِمْيَرِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُقَبِّلُ الصَّائِمُ؟، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَلْ هَذِهِ لِأُمِّ سَلَمَةَ "، فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ذَلِكَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَتْقَاكُمْ لِلَّهِ، وَأَخْشَاكُمْ لَهُ ".
ہارون بن سعید، ابن وہب، عمرو، ابن حارث، عبدربہ بن سعید، عبداللہ بن کعب حمیری، حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ روزہ دار بوسہ لے سکتا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”یہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھو۔“ تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کرتے ہیں۔ حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے اگلے پچھلے گناہ سارے معاف فرما دیے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”سنو! اللہ کی قسم! میں تم میں سب سے زیادہ تقویٰ والا اور اللہ سے ڈرنے والا ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2588]
حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”کیا روزے دار بوسہ لے سکتا ہے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جواب دیا: ”اس (ام سلمہ رضی اللہ عنہا) سے پوچھ لے۔“ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کرتے ہیں، انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ آپ کے تو اگلے پچھلے ذنب معاف کر چکا ہے (اس لیے آپ کے لیے جائز ہو سکتا ہے)۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”ہاں! اللہ کی قسم! میں تم سب سے زیادہ اس کی حدود کی پابندی کرنے والا اور تم سب سے زیادہ اس سے ڈرنے والا ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2588]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1108
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2588 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2588
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ بوس و کنار کر لیتے ہیں تو آپ کے لیے یہ ممکن ہے کیونکہ آپ کے تو اللہ تعالیٰ نے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیے ہیں۔
اس میں لفظ ذنب قابل غور ہے۔
کیونکہ اس کا اطلاق کسی کی شان سے فروتر یا خلاف اولیٰ کام سے لے کر بڑے سے بڑے جرم و گناہ پر ہو جاتا ہے اس لیے آئمہ تفسیر و حدیث نے اس کے مختلف معانی بیان کیے ہیں۔
بقول علامہ آلوسی یہاں گناہ کا معنی نہیں ہے بلکہ ذنب ان کاموں کو کہا گیا ہے جن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی شان سے فروتر خیال کرتے تھے اور علامہ ابو مسعود کے نزدیک بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم تبلیغ اور تشریع کے پیش نظر افضل اور اولیٰ کام ترک کر دیتے تاکہ مسلمان کو پتہ چل سکے ان کاموں کا ترک کرنا بھی جائز ہے یا بعض دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے روکا اور پھر اس کو کر بھی لیا تاکہ پتہ چل سکے یہ کام مکروہ تنزیہی ہے حرام نہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بھی ذنب خیال کر لیا اور بقول علامہ عینی اس کا تعلق (حسناتُ الأبرار سيئاتُ المقربين)
سے ہے اور بقول علامہ عزالدین تمام انبیاء علیہ السلام (مغفورلهم)
ہیں لیکن ان کی مغفرت کا دنیا میں آپ کی طرح اعلان نہیں ہوا اسی وجہ سے میدان حشر میں اولوالعزم رسول بھی شفاعت کبری سے نفسی نفسی کہہ کر گریز کریں گے اور آپ بغیر کسی فکرو و تشویش اور جھجک کے اطمینان اور شرح صدر سے شفاعت فرمائیں گے اور بقول تاج الدین سبکی یہ آپ کی عزت افزائی کے لیے فرمایا گیا ہے اور قاضی سلیمان منصور پوری نےرحمۃ للعالمین ج3 میں خصوصیت 12 کے تحت بڑی تفصیل سے یہ بیان کیا ہے کہ یہاں ذنب کا معنی الزام ہے جیسا کہ قرآن مجید میں موسیٰ علیہ السلام کا قول نقل کیا گیا ہے:
(وَلَهُمْ عَلَيَّ ذَنبٌ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ)
ان کا میرے ذمہ الزام ہے۔
اس لیے میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کریں گے لیکن اگر مختلف احادیث کا سیاق و سباق سامنے رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین یہ سمجھتے کہ آپ اگر خلاف اولیٰ یا بظاہر نامناسب کام کر لیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے مثلاً بخاری شریف میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ایک حدیث ہے۔
کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کو ایسے اعمال کا حکم دیتے جس میں زیادہ مشقت و کلفت نہ ہوتی تو وہ عرض کرتے (إِنَّا لَسْنَا كَهَيْئَتِكَ)
ہمارا معاملہ آپ جیسا نہیں ہے کیونکہ آپ کے اگلے اور پچھلے ذنب معاف ہو چکے ہیں۔
(اس لیے آپ کے لیے آسان اور کم عبادت بھی کافی ہے)
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ناراضی کے آثار نمایاں ہو جاتے اور فرماتے میں تم سب سے زیادہ اللہ کی حدود کی پابندی کرنے والا ہوں اور تم سب سے زیادہ اس کا علم رکھتا ہوں اس لیے میرا عمل سب سے بہتر اور اعلیٰ ہونا چاہیے اسی طرح عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مذکورہ بالا روایت ہے کہ اگر آپ بوس و کنار کر لیں تو کوئی حرج نہیں کیونکہ اپ کے اگلے پچھلے گناہ (خلاف اولیٰ اور آپ کی شان سے فروتر)
معاف ہو چکے ہیں اس طرح آگے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت آ رہی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں بعض دفعہ نماز کے وقت جنبی ہوتا ہوں تو کیا میں روزہ رکھ سکتا ہوں،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
میں ایسی صورت حال میں روزہ رکھ لیتا ہوں تو اس نے کہا۔
(لَسْتَ مِثْلَنَا)
كیونکہ:
﴿لِّيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ﴾ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور سب سے زیادہ ان چیزوں کو جانتا ہوں جن سے مجھے بچنا ہے اس طرح اسی صحابی نے جنابت کی حالت کو روزہ کے مناسب نہ سمجھا لیکن حضور کے لیے اسی کو جائز خیال کیا۔
اسی طرح ایک متفق علیہ حدیث ہے آپ بعض دفعہ اس قدر طویل قیام فرماتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک سوج جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قدر مشقت کی کیا ضرورت ہے ﴿لِّيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ﴾ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(أفَلا أكُونُ عَبْدًا شَكُورًا)
کیا عزت افزائی پر اس کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ ذنب سے مراد خلاف اولیٰ آپ کی شان سے فروتر یا خوب تر کو چھوڑ کر مباح کام کرنا ہے جو فی نفسہ گناہ نہیں ہے نہ برا کام ہے لیکن آپ کی شان اعلیٰ و افضل سے کم تر ہے۔
فوائد ومسائل:
حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ بوس و کنار کر لیتے ہیں تو آپ کے لیے یہ ممکن ہے کیونکہ آپ کے تو اللہ تعالیٰ نے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیے ہیں۔
اس میں لفظ ذنب قابل غور ہے۔
کیونکہ اس کا اطلاق کسی کی شان سے فروتر یا خلاف اولیٰ کام سے لے کر بڑے سے بڑے جرم و گناہ پر ہو جاتا ہے اس لیے آئمہ تفسیر و حدیث نے اس کے مختلف معانی بیان کیے ہیں۔
بقول علامہ آلوسی یہاں گناہ کا معنی نہیں ہے بلکہ ذنب ان کاموں کو کہا گیا ہے جن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی شان سے فروتر خیال کرتے تھے اور علامہ ابو مسعود کے نزدیک بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم تبلیغ اور تشریع کے پیش نظر افضل اور اولیٰ کام ترک کر دیتے تاکہ مسلمان کو پتہ چل سکے ان کاموں کا ترک کرنا بھی جائز ہے یا بعض دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے روکا اور پھر اس کو کر بھی لیا تاکہ پتہ چل سکے یہ کام مکروہ تنزیہی ہے حرام نہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بھی ذنب خیال کر لیا اور بقول علامہ عینی اس کا تعلق (حسناتُ الأبرار سيئاتُ المقربين)
سے ہے اور بقول علامہ عزالدین تمام انبیاء علیہ السلام (مغفورلهم)
ہیں لیکن ان کی مغفرت کا دنیا میں آپ کی طرح اعلان نہیں ہوا اسی وجہ سے میدان حشر میں اولوالعزم رسول بھی شفاعت کبری سے نفسی نفسی کہہ کر گریز کریں گے اور آپ بغیر کسی فکرو و تشویش اور جھجک کے اطمینان اور شرح صدر سے شفاعت فرمائیں گے اور بقول تاج الدین سبکی یہ آپ کی عزت افزائی کے لیے فرمایا گیا ہے اور قاضی سلیمان منصور پوری نےرحمۃ للعالمین ج3 میں خصوصیت 12 کے تحت بڑی تفصیل سے یہ بیان کیا ہے کہ یہاں ذنب کا معنی الزام ہے جیسا کہ قرآن مجید میں موسیٰ علیہ السلام کا قول نقل کیا گیا ہے:
(وَلَهُمْ عَلَيَّ ذَنبٌ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ)
ان کا میرے ذمہ الزام ہے۔
اس لیے میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کریں گے لیکن اگر مختلف احادیث کا سیاق و سباق سامنے رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین یہ سمجھتے کہ آپ اگر خلاف اولیٰ یا بظاہر نامناسب کام کر لیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے مثلاً بخاری شریف میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ایک حدیث ہے۔
کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کو ایسے اعمال کا حکم دیتے جس میں زیادہ مشقت و کلفت نہ ہوتی تو وہ عرض کرتے (إِنَّا لَسْنَا كَهَيْئَتِكَ)
ہمارا معاملہ آپ جیسا نہیں ہے کیونکہ آپ کے اگلے اور پچھلے ذنب معاف ہو چکے ہیں۔
(اس لیے آپ کے لیے آسان اور کم عبادت بھی کافی ہے)
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ناراضی کے آثار نمایاں ہو جاتے اور فرماتے میں تم سب سے زیادہ اللہ کی حدود کی پابندی کرنے والا ہوں اور تم سب سے زیادہ اس کا علم رکھتا ہوں اس لیے میرا عمل سب سے بہتر اور اعلیٰ ہونا چاہیے اسی طرح عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مذکورہ بالا روایت ہے کہ اگر آپ بوس و کنار کر لیں تو کوئی حرج نہیں کیونکہ اپ کے اگلے پچھلے گناہ (خلاف اولیٰ اور آپ کی شان سے فروتر)
معاف ہو چکے ہیں اس طرح آگے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت آ رہی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں بعض دفعہ نماز کے وقت جنبی ہوتا ہوں تو کیا میں روزہ رکھ سکتا ہوں،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
میں ایسی صورت حال میں روزہ رکھ لیتا ہوں تو اس نے کہا۔
(لَسْتَ مِثْلَنَا)
كیونکہ:
﴿لِّيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ﴾ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور سب سے زیادہ ان چیزوں کو جانتا ہوں جن سے مجھے بچنا ہے اس طرح اسی صحابی نے جنابت کی حالت کو روزہ کے مناسب نہ سمجھا لیکن حضور کے لیے اسی کو جائز خیال کیا۔
اسی طرح ایک متفق علیہ حدیث ہے آپ بعض دفعہ اس قدر طویل قیام فرماتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک سوج جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قدر مشقت کی کیا ضرورت ہے ﴿لِّيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ﴾ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(أفَلا أكُونُ عَبْدًا شَكُورًا)
کیا عزت افزائی پر اس کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ ذنب سے مراد خلاف اولیٰ آپ کی شان سے فروتر یا خوب تر کو چھوڑ کر مباح کام کرنا ہے جو فی نفسہ گناہ نہیں ہے نہ برا کام ہے لیکن آپ کی شان اعلیٰ و افضل سے کم تر ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2588]
Sahih Muslim Hadith 2588 in Urdu
عبد الله بن كعب الحميري ← عمر بن أبي سلمة القرشي