صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
19. باب صوم يوم عاشوراء:
باب: عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1128 ترقیم شاملہ: -- 2652
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا بِصِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ، وَيَحُثُّنَا عَلَيْهِ، وَيَتَعَاهَدُنَا عِنْدَهُ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ، لَمْ يَأْمُرْنَا، وَلَمْ يَنْهَنَا، وَلَمْ يَتَعَاهَدْنَا عِنْدَهُ ".
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبیداللہ بن موسیٰ، شیبان، اشعث بن ابی شعشاء، جعفر بن ابی ثور، حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کا حکم فرماتے تھے اور ہمیں اس پر آمادہ کرتے تھے اور اس کا اہتمام کرتے تھے تو جب رمضان کے روزے فرض کر دیے گئے تو پھر آپ نہ ہمیں اس کا حکم فرماتے اور نہ اس سے منع فرماتے اور نہ ہی اس کا اہتمام فرماتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2652]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں عاشورہ کے دن کے روزہ کی تلقین فرماتے تھے اور اس کے لیے ہمیں آمادہ کرتے تھے اور اس کے بارے میں ہمارا دھیان رکھتے اور نگرانی فرماتے تھے جب رمضان فرض ٹھہرا۔ نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کا حکم دیا اور نہ روکا اور نہ اس دن ہماری نگرانی اور نگہداشت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2652]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1128
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2652 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2652
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کی فرضیت سے پہلے جس قدر ترغیب و تشویق اور تاکید و تلقین فرماتے رہے بعد میں اس قدر تاکید یا ترغیب نہیں دی۔
وگرنہ مطلقاً ترغیب و تحریض تو بعد میں بھی کی گئی ہےاس کا اجرو ثواب بیان کیا گیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی روزہ رکھتے تھے۔
فوائد ومسائل:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کی فرضیت سے پہلے جس قدر ترغیب و تشویق اور تاکید و تلقین فرماتے رہے بعد میں اس قدر تاکید یا ترغیب نہیں دی۔
وگرنہ مطلقاً ترغیب و تحریض تو بعد میں بھی کی گئی ہےاس کا اجرو ثواب بیان کیا گیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی روزہ رکھتے تھے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2652]
جعفر بن أبي ثور السوائي ← جابر بن سمرة العامري