🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. باب اي يوم يصام في عاشوراء:
باب: عاشورہ کا روزہ کس دن رکھا جائے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1133 ترقیم شاملہ: -- 2664
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، عَنْ حَاجِبِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَاءَهُ فِي زَمْزَمَ، فَقُلْتُ لَهُ أَخْبِرْنِي عَنْ صَوْمِ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: " إِذَا رَأَيْتَ هِلَالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ، وَأَصْبِحْ يَوْمَ التَّاسِعِ صَائِمًا، قُلْتُ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ، قَالَ: نَعَمْ،
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع بن جراح، حاجب بن عمر، حکم بن اعرج سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا اس حال میں کہ وہ زم زم کے قریب اپنی چادر سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے تو میں نے ان سے عرض کیا کہ مجھے عاشورہ کے روزے کے بارے میں خبر دیجیے انہوں نے فرمایا: جب تو محرم کا چاند دیکھے تو گنتا رہ اور نویں تاریخ کے دن کی صبح روزے کی حالت میں کر۔ میں نے عرض کیا کہ کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح روزہ رکھتے تھے انہوں نے فرمایا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2664]
حکم بن اعرج رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پہنچا جبکہ وہ زمزم کے پاس اپنی چادر کو سرہانہ (تکیہ) بنائے ہوئے تھے تو میں نے ان سے پوچھا، مجھے عاشورہ کے روزے کے بارے میں بتائیے تو انھوں نے جواب دیا جب محرم کا چاند دیکھ لو تو اس کو گنتے رہو اور نویں دن کی صبح روزہ کی حالت میں کرو۔ میں نے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا روزہ ایسے ہی رکھتے تھے؟ انھوں نے کہا، ہاں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2664]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1133
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥الحكم بن عبد الله الثقفي
Newالحكم بن عبد الله الثقفي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥حاجب بن عمر الثقفي، أبو خشينة
Newحاجب بن عمر الثقفي ← الحكم بن عبد الله الثقفي
ثقة
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← حاجب بن عمر الثقفي
ثقة حافظ إمام
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
2664
أصبح يوم التاسع صائما قلت هكذا كان رسول الله يصومه قال نعم
جامع الترمذي
754
أصبح من التاسع صائما قال فقلت أهكذا كان يصومه محمد قال نعم
سنن أبي داود
2446
يوم التاسع فأصبح صائما فقلت كذا كان محمد يصوم فقال كذلك كان محمد يصوم
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2664 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2664
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی کے آخری سال،
اس بات کا اظہار فرمایا تھا کہ اگر میں زندہ رہا تو نوویں (9)
تاریخ کا بھی روزہ رکھوں گا،
جیساکہ آگے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی روایت آ رہی ہے،
اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں،
ایک یہ کہ آئندہ ہم دسویں محرم کی بجائے یہ روزہ نویں محرم ہی کو رکھا کریں گے،
دوسرا یہ کہ آئندہ سے ہم دسویں محرم کے ساتھ نویں محرم کا بھی روزہ رکھا کریں گے تاکہ ہمارے اور یہود ونصاریٰ کے طرز عمل میں فرق ہو جائے اور مشابہت ختم ہو جائے اور مسند احمد کی روایت سے اسی دوسرے نص کو ترجیح حاصل ہےآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تم عاشورہ کا روزہ رکھو اور یہود کی مخالفت بھی کرو اور ایک دن قبل یا بعد کا روزہ بھی رکھو۔
جمہور امت کا اس معنی پر اتفاق ہے اگرچہ اس دور کے بعض علماء کا خیال ہے کہ ہمارے زمانہ میں چونکہ یہودونصاریٰ کا کوئی کام بھی قمری مہینوں کے حساب سے نہیں ہوتا،
اس لیے اب کسی اشتراک اور تشابہ کا سوال پیدا نہیں ہوتا اورلہٰذا فی زماننا رفع تشابه کے لیے نویں یا گیارہویں کا روزہ رکھنا ضروری نہیں ہے۔
طحاوی کی روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا،
یہود کی مخالفت کرو اور نویں،
دسویں دونوں کا روزہ رکھو۔
(فتح المہلم ص 145،
ج۔
3)
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2664]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2446
(محرم کی) نویں تاریخ کے (بھی) عاشوراء ہونے کا بیان۔
حکم بن الاعرج کہتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت وہ مسجد الحرام میں اپنی چادر کا تکیہ لگائے ہوئے تھے، میں نے عاشوراء کے روزے سے متعلق ان سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا: جب تم محرم کا چاند دیکھو تو گنتے رہو اور نویں تاریخ آنے پر روزہ رکھو، میں نے پوچھا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح روزہ رکھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: (ہاں) محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح روزہ رکھتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2446]
فوائد ومسائل:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عملا تو نویں تاریخ کا روزہ نہیں رکھا، مگر آپ کا عزم یہی تھا۔
اسی پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہہ دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہی کیا کرتے تھے۔
اور مطلوب بھی یہی ہے کہ نویں دسویں یا دسویں گیارھویں کا روزہ رکھا جائے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2446]