🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. باب استحباب صيام ثلاثة ايام من كل شهر وصوم يوم عرفة وعاشوراء والاثنين والخميس.
باب: ہر مہینے تین دن کے روزے اور یوم عرفہ کا روزہ اور عاشورہ اور سوموار اور جمعرات کے دن کے روزے کے استحباب کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1162 ترقیم شاملہ: -- 2746
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ جَمِيعًا، عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ غَيْلَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ : رَجُلٌ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: كَيْفَ تَصُومُ؟، " فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ غَضَبَهُ، قَالَ: رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ، وَغَضَبِ رَسُولِهِ فَجَعَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُرَدِّدُ هَذَا الْكَلَامَ حَتَّى سَكَنَ غَضَبُهُ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ الدَّهْرَ كُلَّهُ؟، قَالَ: " لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ "، أَوَ قَالَ: " لَمْ يَصُمْ وَلَمْ يُفْطِرْ "، قَالَ: كَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمَيْنِ، وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟، قَالَ: " وَيُطِيقُ ذَلِكَ أَحَدٌ "، قَالَ: كَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمًا، وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟، قَالَ: " ذَاكَ صَوْمُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام "، قَالَ: كَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمًا، وَيُفْطِرُ يَوْمَيْنِ؟، قَالَ: " وَدِدْتُ أَنِّي طُوِّقْتُ ذَلِكَ "، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثٌ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ، فَهَذَا صِيَامُ الدَّهْرِ كُلِّهِ، صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ، وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ، وَصِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ، أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ ".
حماد نے غیلان سے، انہوں نے عبداللہ بن معبدزمانی سے اور انہوں نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا: آپ کس طرح روزے رکھتے ہیں؟ اس کی بات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آ گئے، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ دیکھا تو کہنے لگے: ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہیں، ہم اللہ کے غصے سے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے غصے سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہما بار بار ان کلمات کو دہرانے لگے حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اللہ کے رسول! اس شخص کا کیا حکم ہے جو سال بھر (مسلسل) روزہ رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ اس نے روزہ رکھا نہ اس نے افطار کیا۔ یا فرمایا: اس نے روزہ نہیں رکھا، اس نے افطار نہیں کیا۔ کہا: اس کا کیا حکم ہے جو دو دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن افطار کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا کوئی اس کی طاقت رکھتا ہے؟ پوچھا: اس کا کیا حکم ہے جو ایک دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن افطار کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے۔ پوچھا: اس کا کیا حکم ہے جو ایک دن روزہ رکھتا ہے اور دو دن افطار کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے پسند ہے کہ مجھے اس کی طاقت مل جاتی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر مہینے کے تین روزے اور ایک رمضان (کے روزوں) سے (لے کر دوسرے) رمضان (کے روزے) یہ (عمل) سارے سال کے روزوں (کے برابر) ہے۔ اور عرفہ کے دن کا روزہ، میں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ پچھلے سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا اور اگلے سال کے گناہوں کا بھی، اور یوم عاشورہ کا روزہ، میں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ پچھلے سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2746]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کس طرح رکھتے ہیں؟ (یعنی نفلی روزوں کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول اور دستور کیا ہے) تو اس کی بات سے (سوال سے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو گئے، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضی کو دیکھا تو کہنے لگے: «رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا» ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہیں، «نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِ» ہم اللہ کے غضب اور اس کے رسول کے غضب سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بار بار ان کلمات کو دہرانے لگے حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاج مبارک میں جو ناگواری پیدا ہو گئی تھی اس کا اثر زائل ہو گیا) تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ شخص کیسا ہے جو ہمیشہ بلا ناغہ روزہ رکھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ اس نے روزہ رکھا اور نہ ہی افطار کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اس کے بارے میں کیا ارشاد ہے جو دو دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا کسی میں اس کی طاقت ہے؟ (یعنی یہ بہت مشکل ہے، ہمیشہ روزہ رکھنے سے بھی زیادہ مشکل ہے، اس لیے اس کا ارادہ نہیں کرنا چاہیے)۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اس کے بارے میں کیا فرمان ہے جو ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن ناغہ کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ صومِ داؤد علیہ السلام ہے۔ (جن کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی جسمانی قوت بخشی تھی)۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اس آدمی کے بارے میں کیا حکم ہے جو ایک دن روزہ رکھے اور دو دن ناغہ کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا جی چاہتا ہے کہ مجھے اس کی طاقت عطا فرمائی جائے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر مہینے کے تین روزے اور رمضان تا رمضان، یہ (اجر و ثواب کے لحاظ سے) ہمیشہ روزہ رکھنے کے برابر ہے۔ اور میں عرفہ کے دن (9 ذوالحجہ) کے روزے کے بارے میں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ وہ اسے ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہوں کا کفارہ بنا دے گا (یعنی اس کی برکت سے دو سال کے گناہوں کی گندگیاں دھل جائیں گی) اور میں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ عاشورہ (10 محرم) کے روزے سے گزشتہ سال کے گناہ دھل جائیں گے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2746]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1162
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥الحارث بن ربعي السلمي، أبو قتادةصحابي
👤←👥عبد الله بن معبد الزماني
Newعبد الله بن معبد الزماني ← الحارث بن ربعي السلمي
ثقة
👤←👥غيلان بن جرير المعولي
Newغيلان بن جرير المعولي ← عبد الله بن معبد الزماني
ثقة
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← غيلان بن جرير المعولي
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← حماد بن زيد الأزدي
ثقة ثبت
👤←👥يحيى بن يحيى النيسابوري، أبو زكريا
Newيحيى بن يحيى النيسابوري ← قتيبة بن سعيد الثقفي
ثقة ثبت إمام
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2746 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2746
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حدیث کا اصل مفہوم اور مقصد تو بالکل واضح ہے،
لیکن چند ضمنی باتیں وضاحت طلب ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سوال سے ناراض ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخ انور پر ناگواری اور برہمی کے آثار نمایاں ہو گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح روزے رکھتے ہیں؟ اس کا سبب یہ ہے کہ اس کا سوال غلط اور نامناسب تھا اس کو یہ پوچھنا چاہیے تھا کہ میں کس طرح روزے رکھوں اور میرے لیے کون سا طرز عمل مناسب ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت سے شعبوں اور امورزندگی میں،
منصب نبوت اور مصالح امت کی رعایت کی بنا پر ایسا طرز عمل بھی اختیار فرماتے تھے جس کی پیروی ہر ایک شخص کے بس میں نہیں اور نہ ہی مناسب ہے۔
اس لیے سائل کو روزے رکھنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول نہیں پوچھنا چاہیے تھا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شفیق استاد اور مربی بھی تھے،
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناگواری دراصل تربیت کا ہی حصہ تھی۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سوال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناگواری محسوس کر کے تمام مسلمانوں کی طرف سے بار بار ایسے کلمات دہرائے جن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناگواری زائل ہو گئی اور اس کے بعد نفلی روزوں کے بارے میں صحیح طریقے سے سوالات کیے اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوابات مرحمت فرمائے۔
(لا صام ولا أفطر - أو لم يصم ولم يفطر)
کا مقصد یہ ہے کہ یہ پسندیدہ طرز عمل نہیں ہے کیونکہ روزہ عادت بن جائےگا تو اس کو اثر اور احساس ختم ہو جائے گا۔
آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
روزوں کے سلسلہ میں عام مسلمانوں کے لیے یہی کافی ہے کہ رمضان کے فرض روزے رکھا لیا کریں اور اس کے علاوہ ہر ماہ تین روزے رکھ لیا کریں،
جو (بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا)
ہر نیک عمل کا اجر کم از کم دس گناہ کے اصول کے مطابق،
پورے ماہ کا ثواب مل جائے گا اوریہ صوم الدہر بن جائیں گے،
مزید اجروثواب کے لیے یوم عرفہ اور یوم عاشورہ کاروزہ رکھا لیا کریں،
لیکن واضح رہے عرفہ کا روزہ غیر حاجیوں کو اس دن کی رحمتوں اور برکتوں میں حصہ دار بنانے کے لیے ہے جو عرفات میں حاجیوں پر نازل ہوتی ہیں،
حاجیوں کے لیے اس دن کی مخصوص اور مقبول ترین عبادت میدان عرفات کا وقوف ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2746]

Sahih Muslim Hadith 2746 in Urdu