🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. باب استحباب صيام ثلاثة ايام من كل شهر وصوم يوم عرفة وعاشوراء والاثنين والخميس.
باب: ہر مہینے تین دن کے روزے اور یوم عرفہ کا روزہ اور عاشورہ اور سوموار اور جمعرات کے دن کے روزے کے استحباب کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1161 ترقیم شاملہ: -- 2745
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ وَهُوَ ابْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ أَوَ قَالَ لِرَجُلٍ وَهُوَ يَسْمَعُ: " يَا فُلَانُ أَصُمْتَ مِنْ سُرَّةِ هَذَا الشَّهْرِ؟ "، قَالَ: لَا، قَالَ: " فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ يَوْمَيْنِ ".
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا، یا کسی اور شخص سے پوچھا اور وہ سن رہے تھے: اے فلاں! کیا تم نے اس مہینے کے وسط میں روزے رکھے ہیں؟ اس نے جواب دیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو جب (رمضان مکمل کر کے) روزے ترک کرو تو (ہر مہینے) دو دن کے روزے رکھتے رہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2745]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یا کسی اور شخص سے پوچھا، جبکہ وہ سن رہے تھے: اے فلاں شخص! کیا تم نے اس ماہ کے آخر میں روزے رکھے ہیں؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب افطار کرو تو روزے اور رکھو۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال شعبان کے روزوں کے بارے میں سوال کیا تھا)- [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2745]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1161
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمران بن حصين الأزدي، أبو نجيدصحابي
👤←👥مطرف بن عبد الله الحرشي، أبو عبد الله
Newمطرف بن عبد الله الحرشي ← عمران بن حصين الأزدي
ثقة
👤←👥غيلان بن جرير المعولي
Newغيلان بن جرير المعولي ← مطرف بن عبد الله الحرشي
ثقة
👤←👥مهدي بن ميمون الأزدي، أبو يحيى
Newمهدي بن ميمون الأزدي ← غيلان بن جرير المعولي
ثقة
👤←👥عبد الله بن محمد الضبعي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن، أبو عبيد
Newعبد الله بن محمد الضبعي ← مهدي بن ميمون الأزدي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
1983
صمت سرر هذا الشهر قال الرجل لا قال فإذا أفطرت فصم يومين
صحيح مسلم
2752
هل صمت من سرر هذا الشهر شيئا قال لا قال رسول الله فإذا أفطرت من رمضان فصم يومين مكانه
صحيح مسلم
2753
هل صمت من سرر هذا الشهر شيئا قال لا قال فقال له إذا أفطرت رمضان فصم يوما
صحيح مسلم
2745
أصمت من سرة هذا الشهر قال لا قال فإذا أفطرت فصم يومين
صحيح مسلم
2751
أصمت من سرر شعبان قال لا قال فإذا أفطرت فصم يومين
سنن أبي داود
2328
صمت من شهر شعبان شيئا قال لا قال فإذا أفطرت فصم يوما
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2745 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2745
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
جمہور اہل لغت اور اہل حدیث کے نزدیک (سَرَرُ)
سے مراد مہینہ کے آخری ایام ہیں،
کیونکہ ان میں چاند چھپ جاتا ہے،
بعض کےنزدیک اس سے مراد مہینہ کے ابتدائی دن ہیں اور بعض کے نزدیک یہ (سرة السئ) (اس کا وسط ودرمیان)
سے ماخوذ ہے اور ایام ابیض مراد ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2745]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2328
رمضان کے استقبال کا بیان۔
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے پوچھا: کیا تم نے شعبان کے کچھ روزے رکھے ہیں ۱؎؟، جواب دیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب (رمضان کے) روزے رکھ چکو تو ایک روزہ اور رکھ لیا کرو، ان دونوں میں کسی ایک راوی کی روایت میں ہے: دو روزے رکھ لیا کرو۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2328]
فوائد ومسائل:
(1) یہ حدیث بظاہر گزشتہ حدیث سے متعارض ہے جس میں ہے کہ رمضان شروع ہونے سے پہلے ایک دو دن کے روزے مت رکھو۔
مگر ان میں جمع کی صورت یہ ہے کہ یہ رخصت اور تاکید اس شخص کے لیے ہے جس نے کسی روزے کی نذر مانی ہو یا وہ پہلے سے خاص دن کے روزے رکھنے کا عادی ہو تو اسے چاہیے کہ حسب معمول اپنے روزے رکھے۔
مگر کوئی سابقہ عادت یا نذر کے بغیر بطور نفل کے استقبالی روزہ رکھنا چاہیے تو اجازت نہیں ہے۔

(2) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس شخص کو رمضان کے بعد ایک یا دو روزے رکھنے کی تاکید فرمائی، وہ شخص مہینے کے آخر میں روزے رکھا کرتا تھا، لیکن اس نے شعبان کے آخر میں اس لیے روزے چھوڑ دیے تھے کہ کہیں استقبالِ رمضان کے ذیل میں نہ آ جائیں جو ممنوع ہیں۔

(3) لفظ (سَرَر) کے مختلف معانی مندرجہ ذیل روایت کے بعد مذکور ہیں۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2328]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1983
1983. حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے ان سے سوال کیا۔ یا کسی اورشخص سے آپ نے دریافت کیا جبکہ حضرت عمران ؓ سن رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: اے ابو فلاں! کیا تو نے اس مہینے کے آخر میں روزے نہیں رکھے؟۔۔۔ ابو نعمان نے کہا کہ میرے گمان کے مطابق آپ نے ماہ رمضان کے متعلق دریافت کیا۔۔۔ اس شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !نہیں۔ آپ نے فرمایا: جب تم رمضان کے روزوں سے فارغ ہوجاؤ تو دو دن روزے رکھ لینا۔ (راوی حدیث) حلت نے رمضان کے الفاظ بیان نہیں کیے۔ امام بخاری ؒ کہتے ہیں کہ ثابت نے مطرف سے، انھوں نے حضرت عمران بن حصین ؓ سے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: کیا تو نے شعبان کے آخر میں روزے نہیں رکھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1983]
حدیث حاشیہ:
امام بخاری ؒ نے عنوان میں مطلق طور پر مہینے کا آخر کا ذکر کیا ہے جبکہ حدیث میں ماہ شعبان کے آخر کار ذکر ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاری ؒ کے نزدیک مطلق طور پر ہر مہینے کے آخر میں روزہ رکھنا مشرو ع ہے تاکہ انسان کو اس کی عادت پڑ جائے۔
جبکہ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رمضان سے پہلے ایک دو دن کا روزہ رکھنا منع ہے۔
یہ اس صورت میں ہے جب بطور استقبال رکھے جائیں اگر استقبال کی نیت نہ ہو بلکہ انسان کی عادت ہو تو شعبان کے آخر میں روزے رکھنے میں کوئی قباحت نہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1983]