صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
37. باب صوم سرر شعبان:
باب: شعبان کے روزوں کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1162 ترقیم شاملہ: -- 2754
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ ، وَيَحْيَى اللُّؤْلُئِيُّ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَانِئِ ابْنِ أَخِي مُطَرِّفٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، بِمِثْلِهِ.
نضر نے ہمیں خبر دی (کہا:) ہمیں شعبہ نے خبر دی (کہا:) ہمیں مطرف کے بھتیجے عبداللہ بن ہانی نے اسی سند کے ساتھ اس (سابقہ حدیث) کے مانند حدیث روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2754]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2754]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1162
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2754 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2754
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
(سُرَر)
سے مراد بقول بعض مہینہ کے ابتدائی ایام ہیں اور بقول بعض درمیانی ایام کیونکہ یہ (سُرَة)
سے ماخوذ ہے،
جس كا معنی درمیان ہے اور اس سے مراد ایام ابیض ہیں جن کی تلقین مستقل باب میں آرہی ہے لیکن جمہور کے نزدیک یہ استسرار یعنی پوشیدہ ہوناچھپ جانا سے ماخوذ ہے،
اس لیے اس سے مراد مہینہ کے آخری دن ہیں،
لیکن اس پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےشعبان کے آخری دنوں کے روزہ سے منع فرمایا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ممانعت اس شخص کے لیے ہے جو صرف شعبان کے آخری دن،
رمضان کے استقبال کے لیے یا احتیاطی طور پر ایک دوروزے رکھتا ہے،
لیکن جو انسان ہمیشہ ہرماہ کے آخری دنوں میں روزے رکھتا ہے،
اس کو اپنی روایت روزے رکھتا ہے اس کو اپنی عادت کے مطابق روزے رکھنے چاہئیں اور اس شخص نے ممانعت سے ڈر کر ہی چھوڑے تھے اس لیے آپ نے فرمایا:
”ان کی قضائی دینا تاکہ تیری عادت برقرار رہے۔
“
فوائد ومسائل:
(سُرَر)
سے مراد بقول بعض مہینہ کے ابتدائی ایام ہیں اور بقول بعض درمیانی ایام کیونکہ یہ (سُرَة)
سے ماخوذ ہے،
جس كا معنی درمیان ہے اور اس سے مراد ایام ابیض ہیں جن کی تلقین مستقل باب میں آرہی ہے لیکن جمہور کے نزدیک یہ استسرار یعنی پوشیدہ ہوناچھپ جانا سے ماخوذ ہے،
اس لیے اس سے مراد مہینہ کے آخری دن ہیں،
لیکن اس پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےشعبان کے آخری دنوں کے روزہ سے منع فرمایا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ممانعت اس شخص کے لیے ہے جو صرف شعبان کے آخری دن،
رمضان کے استقبال کے لیے یا احتیاطی طور پر ایک دوروزے رکھتا ہے،
لیکن جو انسان ہمیشہ ہرماہ کے آخری دنوں میں روزے رکھتا ہے،
اس کو اپنی روایت روزے رکھتا ہے اس کو اپنی عادت کے مطابق روزے رکھنے چاہئیں اور اس شخص نے ممانعت سے ڈر کر ہی چھوڑے تھے اس لیے آپ نے فرمایا:
”ان کی قضائی دینا تاکہ تیری عادت برقرار رہے۔
“
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2754]
شعبة بن الحجاج العتكي ← عبد الله بن هانئ العامري