صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
41. باب تحريم قتل الكافر بعد ان قال لا إله إلا الله:
باب: کافر کو لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد قتل کرنا حرام ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 97 ترقیم شاملہ: -- 279
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِر ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، أَنَّ خَالِدًا الأَثْبَجَ ابْنَ أَخِي صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ حَدَّثَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَ، أَنَّ جُنْدَبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيَّ ، بَعَثَ إِلَى عَسْعَسِ بْنِ سَلَامَةَ زَمَنَ فِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ: اجْمَعْ لِي نَفَرًا مِنْ إِخْوَانِكَ حَتَّى أُحَدِّثَهُمْ، فَبَعَثَ رَسُولًا إِلَيْهِمْ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا، جَاءَ جُنْدَبٌ وَعَلَيْهِ بُرْنُسٌ أَصْفَرُ، فَقَالَ: تَحَدَّثُوا بِمَا كُنْتُمْ تَحَدَّثُونَ بِهِ، حَتَّى دَارَ الْحَدِيثُ، فَلَمَّا دَارَ الْحَدِيثُ إِلَيْهِ، حَسَرَ الْبُرْنُسَ عَنْ رَأْسِهِ، فَقَالَ: إِنِّي أَتَيْتُكُمْ وَلَا أُرِيدُ أَنْ أُخْبِرَكُمْ عَنْ نَبِيِّكُمْ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى قَوْمٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، وَإِنَّهُمُ الْتَقَوْا، فَكَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِذَا شَاءَ أَنْ يَقْصِدَ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَصَدَ لَهُ فَقَتَلَهُ، وَإِنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَصَدَ غَفْلَتَهُ، قَالَ: وَكُنَّا نُحَدَّثُ أَنَّهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَلَمَّا رَفَعَ عَلَيْهِ السَّيْفَ، قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ، فَقَتَلَهُ، فَجَاءَ الْبَشِيرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ، فَأَخْبَرَهُ حَتَّى أَخْبَرَهُ خَبَرَ الرَّجُلِ كَيْفَ صَنَعَ، فَدَعَاهُ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: لِمَ قَتَلْتَهُ؟ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهَ، أَوْجَعَ فِي الْمُسْلِمِينَ، وَقَتَلَ فُلَانًا وَفُلَانًا، وَسَمَّى لَهُ نَفَرًا، وَإِنِّي حَمَلْتُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا رَأَى السَّيْفَ، قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَقَتَلْتَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَكَيْفَ تَصْنَعُ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، إِذَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَغْفِرْ لِي، قَالَ: وَكَيْفَ تَصْنَعُ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، إِذَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: فَجَعَلَ لَا يَزِيدُهُ عَلَى أَنْ يَقُولَ: " كَيْفَ تَصْنَعُ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، إِذَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ ".
صفوان بن محرز نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے فتنے کے زمانے میں جندب بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے عسعس بن سلامہ کو پیغام بھیجا اور کہا: میرے لیے اپنے ساتھیوں میں ایک نفر (نفر سے دس تک کی جماعت) جمع کرو تاکہ میں ان سے بات کروں: چنانچہ عسعس نے اپنے ان ساتھیوں کی جانب ایک قاصد بھیجا جب وہ جمع ہو گئے تو جندب ایک زرد رنگ کی لمبی ٹوپی پہنے ہوئے آئے اور کہا: جو باتیں تم کر رہے تھے، وہ کرتے رہو۔ یہاں تک کہ بات چیت کا دور چل پڑا۔ جب بات ان تک پہنچی (ان کے بولنے کی باری آئی) تو انہوں نے اپنے سر سے لمبی ٹوپی اتار دی اور کہا: میں تمہارے پاس آیا تھا اور میرا ارادہ یہ نہ تھا کہ تمہیں تمہارے نبی سے کوئی حدیث سناؤں (لیکن اب یہ ضروری ہو گیا ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کا ایک لشکر مشرکین کی ایک قوم کی طرف بھیجا اور ان کے آمنے سامنے ہوا۔ مشرکوں کا ایک آدمی تھا، وہ جب مسلمانوں کے کسی آدمی پر حملہ کرنا چاہتا تو اس پر حملہ کرتا اور اسے قتل کر دیتا۔ اور مسلمانوں کا ایک آدمی تھا جو اس (مشرک) کی بے دھیانی کا متلاشی تھا، (جندب بن عبداللہ نے) کہا: ہم ایک دوسرے سے کہتے تھے کہ وہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ ہیں۔ جب ان کی تلوار مارنے کی باری آئی تو اس نے «لا إله إلا اللہ» کہہ دیا۔ لیکن انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ فتح کی خوشخبری دینے والا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ نے اس سے (حالات کے متعلق) پوچھا، اس نے آپ کو حالات بتائے حتیٰ کہ اس آدمی (حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ) کی خبر بھی دے دی کہ انہوں نے کیا کیا۔ آپ نے انہیں بلا کر پوچھا اور فرمایا: ”تم نے اسے کیوں قتل کیا؟“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے مسلمانوں کو بہت ایذا پہنچائی تھی اور فلاں فلاں کو قتل کیا تھا، انہوں نے کچھ لوگوں کے نام گنوائے، (پھر کہا:) میں اس پر حملہ کیا، اس نے جب تلوار دیکھی تو «لا إله إلا اللہ» کہہ دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے اسے قتل کر دیا؟“ (اسامہ رضی اللہ عنہ) کہا: جی ہاں! فرمایا: ”قیامت کے دن جب «لا إله إلا اللہ» (تمہارے سامنے) آئے گا تو اس کا کیا کرو گے؟“ (اسامہ رضی اللہ عنہ نے) عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے لیے بخشش طلب کیجیے۔ آپ نے فرمایا: ”قیامت کے دن (تمہارے سامنے کلمہ) «لا إله إلا اللہ» آئے گا تو اس کا کیا کرو گے؟“ (جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے مزید کوئی بات نہیں کر رہے تھے، یہی کہہ رہے تھے: ”قیامت کے دن «لا إله إلا اللہ» (تمہارے سامنے) آئے گا تو اس کیا کرو گے؟“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 279]
صفوان بن محرز رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے فتنہ کے زمانہ میں جندب بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے عسعس بن سلامہ کے پاس پیغام بھیجا کہ میرے لیے اپنے ساتھیوں کا ایک گروہ جمع کرو، تاکہ میں ان سے بات کروں۔ عسعس نے اپنے ساتھیوں کو بلا بھیجا، تو جب وہ جمع ہو گئے، جندب رضی اللہ عنہ ایک برنس (برانڈی) زرد رنگ کی پہنے ہوئے آئے اور فرمایا: جو باتیں تم کر رہے تھے وہ کرتے رہو تو جب بات ان تک پہنچی (ان کے بولنے کی باری آئی) انھوں نے سر سے برانڈی اتار دی پھر کہا: میں تمھارے نبی کی حدیث بیان کرنے کے ارادے سے نہیں آیا تھا۔ (لیکن اب آپ کی حدیث بیان کرتا ہوں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کا ایک لشکر مشرک لوگوں کی طرف بھیجا، اور ان کا آمنا سامنا ہوا، مشرکوں میں سے ایک آدمی تھا جس مسلمان پر حملہ کرنا چاہتا حملہ کر کے اس کو قتل کر دیتا، ایک مسلمان آدمی نے اس کی غفلت سے فائدہ اٹھانا چاہا (اس کی گھات میں رہا) ہمیں بتایا جاتا تھا: کہ وہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ تھے۔ تو جب انھوں نے اس پر تلوار اٹھائی (ان کی تلوار کی زد میں آگیا) تو اس نے لا إله إلا الله کہہ دیا، لیکن انھوں نے اسے قتل کر دیا۔ فتح کی بشارت دینے والا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا، اس نے حالات بتائے یہاں تک کہ اس آدمی نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے کارنامہ کی بھی خبر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلا کر پوچھا: ”تو نے اس کو قتل کیوں کیا؟“ انھوں نے جواب دیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس نے مسلمانوں کو تکلیف پہنچائی اور فلاں فلاں کو قتل کیا۔ انھوں نے چند آدمیوں کے نام لیے، جب میں نے اس پر حملہ کیا، تو تلوار دیکھ کر اس نے لا إله إلا الله کہہ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا: ”تو نے اسے قتل کیا ہے؟“ اسامہ رضی اللہ عنہ نے ہاں میں جواب دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن جب لا إله إلا الله آئے گا تو کیا جواب دو گے؟“ اسامہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے لیے بخشش طلب کیجیے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لا إله إلا الله جب قیامت کو آئے گا تو اس کا کیا جواب دو گے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے زائد کچھ نہیں کہہ رہے تھے: ”جب قیامت کے روز لا إله إلا الله آئے گا تو اس کا کیا جواب دو گے؟“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 279]
ترقیم فوادعبدالباقی: 97
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (3258)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 279 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 279
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
بُرْنُس:
اس جبہ یا برانڈی کو کہتے ہیں جس کے ساتھ ٹوپی موجود ہو۔
مفردات الحدیث:
بُرْنُس:
اس جبہ یا برانڈی کو کہتے ہیں جس کے ساتھ ٹوپی موجود ہو۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 279]
صفوان بن محرز المازني ← جندب بن عبد الله البجلي