صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
5. باب فِي أَنَّ الإِسْنَادَ مِنَ الدِّينِ وَأَنَّ الرِّوَايَةَ لَا تَكُونُ إِلَّا عَنْ الثِّقَاتِ وَأَنَّ جَرْحَ الرُّوَاةِ بِمَا هُوَ فِيهِمْ جَائِزٌ بَلْ وَاجِبٌ وَأَنَّهُ لَيْسَ مِنْ الْغِيبَةِ الْمُحَرَّمَةِ بَلْ مِنْ الذَّبِّ عَنْ الشَّرِيعَةِ الْمُكَرَّمَةِ
باب: حدیث کی سند بیان کرنا ضروری ہے، اور وہ دین میں داخل ہے، اور روایت صرف معتبر راویوں سے ہو گی، اور راویوں پر تنقید کرنا جائز ہے بلکہ واجب ہے،یہ غیبت محرمہ نہیں ہے، بلکہ وہ شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 28
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، قَالَ: لَقِيتُ طَاوُسًا، فَقُلْتُ: حَدَّثَنِي فُلَانٌ، كَيْتَ وَكَيْتَ، قَالَ:" إِنْ كَانَ صَاحِبُكَ مَلِيًّا، فَخُذْ عَنْهُ
اوزاعی نے سلیمان بن موسیٰ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں طاؤس رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے کہا: مجھے ایک شخص نے اس اس طرح حدیث سنائی۔ انہوں نے کہا: اگر تمہارے صاحب (استاد) پوری طرح قابل اعتماد ہیں تو ان سے اخذ کر لو۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 28]
سلیمان بن موسیٰ رحمہ اللہ، طاؤس رحمہ اللہ سے ملے اور ان سے کہا کہ فلاں نے فلاں فلاں حدیث سنائی ہے، طاؤس رحمہ اللہ نے کہا: اگر تیرا استاد ثقہ، قابلِ اعتماد ہے تو اس سے لے لو۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 28]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم كما في ((التحفة)) برقم (18826)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 28 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 28
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اگر راوی ثقہ،
ضابط اوردین دار ہے،
اس لئے قابل اعتماد ہے،
تو اس کی روایت قبول ہوگی،
وگرنہ قابل قبول نہ ہوگی۔
فوائد ومسائل:
اگر راوی ثقہ،
ضابط اوردین دار ہے،
اس لئے قابل اعتماد ہے،
تو اس کی روایت قبول ہوگی،
وگرنہ قابل قبول نہ ہوگی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 28]
Sahih Muslim Hadith 28 in Urdu