صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
3. باب التلبية وصفتها ووقتها:
باب: تلبیہ کے طریقے اور اس کے وقت کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1185 ترقیم شاملہ: -- 2815
وحَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْيَمَامِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ يَعْنِي ابْنَ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ الْمُشْرِكُونَ يَقُولُونَ: لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، قَالَ: فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَيْلَكُمْ قَدْ قَدْ "، فَيَقُولُونَ: إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ، يَقُولُونَ: هَذَا وَهُمْ يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہا: مشرکین کہا کرتے تھے: «لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ» ۔ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”تمہاری بربادی! بس کرو، بس کرو (یہیں پر رک جاؤ)۔“ مگر وہ آگے کہتے: «إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ» (مگر ایک شریک ہے جو تیرا ہے، تو اس کا مالک ہے، وہ مالک نہیں)۔ وہ لوگ بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے یہی کہتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2815]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مشرکینِ مکہ کہتے تھے: «لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ» ”ہم تیرے حضور حاضر ہیں، تیرا کوئی شریک نہیں“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: «وَيْلَكُمْ، قَدْ قَدْ» ”تم برباد ہو، یہیں رک جاؤ، بس کرو“ لیکن وہ آگے کہتے: «إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ، تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ» ”مگر وہ شریک جو تیرا ہے تو ہی اس کا اور اس کی مملوکہ چیزوں کا مالک ہے، یا وہ کسی چیز کا مالک نہیں ہے“۔ یہ کلمات وہ اس وقت کہتے جب طواف کر رہے ہوتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2815]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1185
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2815 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2815
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
(مَامَالَك)
میں ما نافیہ بن سکتا ہے۔
اس صورت میں معنی ہو گا تو ہی اس کا مالک ہے وہ کسی چیز کا مالک نہیں ہے اور ما موصولہ بن سکتا ہے تو معنی ہو گا تو ہی اس کا اور جس کا وہ مالک ہے۔
مالک ہے۔
اس تلبیہ سے ثابت ہوتا ہے وہ کسی کو بھی اللہ کے برابر اور شریک قرار نہیں دیتے تھے صرف یہی سمجھتے تھے کہ کچھ چیزوں کا اختیار اللہ تعالیٰ نے انہیں بخش دیا ہے یا وہ ان کی سفارش کو رد نہیں کرتا اور آج کے نام نہاد مسلمان تو اس سے بھی آگے گزر چکے ہیں اور کہتے ہیں۔
احد،
احمد کے پردہ میں دنیا میں اتر آیا ہے اور اسکے پاس وحدت کے سوا کیا ہے،
جو کچھ لینا ہے ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے لے لیں گے اسی طرح اولیاء اور بزرگوں کو بہت سی چیزوں کا اختیار بخشتے ہیں۔
فوائد ومسائل:
(مَامَالَك)
میں ما نافیہ بن سکتا ہے۔
اس صورت میں معنی ہو گا تو ہی اس کا مالک ہے وہ کسی چیز کا مالک نہیں ہے اور ما موصولہ بن سکتا ہے تو معنی ہو گا تو ہی اس کا اور جس کا وہ مالک ہے۔
مالک ہے۔
اس تلبیہ سے ثابت ہوتا ہے وہ کسی کو بھی اللہ کے برابر اور شریک قرار نہیں دیتے تھے صرف یہی سمجھتے تھے کہ کچھ چیزوں کا اختیار اللہ تعالیٰ نے انہیں بخش دیا ہے یا وہ ان کی سفارش کو رد نہیں کرتا اور آج کے نام نہاد مسلمان تو اس سے بھی آگے گزر چکے ہیں اور کہتے ہیں۔
احد،
احمد کے پردہ میں دنیا میں اتر آیا ہے اور اسکے پاس وحدت کے سوا کیا ہے،
جو کچھ لینا ہے ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے لے لیں گے اسی طرح اولیاء اور بزرگوں کو بہت سی چیزوں کا اختیار بخشتے ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2815]
Sahih Muslim Hadith 2815 in Urdu
سماك بن الوليد الحنفي ← عبد الله بن العباس القرشي