🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب استحباب الطيب قبيل الإحرام في البدن واستحبا به بالمسك وانه لٓا باس ببقاء وبيصه وهو بريقة ولمعانه
باب: احرام سے پہلے بدن میں خوشبو لگانے اور کستوری کے استعمال کرنے اور اس بات کے بیان میں کہ خوشبو کا اثر باقی رہنے میں کوئی حرج نہیں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1192 ترقیم شاملہ: -- 2842
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ جَمِيعًا، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، قَالَ سَعِيدٌ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ الرَّجُلِ يَتَطَيَّبُ، ثُمَّ يُصْبِحُ مُحْرِمًا، فَقَالَ: مَا أُحِبُّ أَنْ أُصْبِحَ مُحْرِمًا أَنْضَخُ طِيبًا، لَأَنْ أَطَّلِيَ بِقَطِرَانٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَفْعَلَ ذَلِكَ، فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَأَخْبَرْتُهَا أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: مَا أُحِبُّ أَنْ أُصْبِحَ مُحْرِمًا أَنْضَخُ طِيبًا لَأَنْ أَطَّلِيَ بِقَطِرَانٍ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَفْعَلَ ذَلِكَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : " أَنَا طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ إِحْرَامِهِ، ثُمَّ طَافَ فِي نِسَائِهِ، ثُمَّ أَصْبَحَ مُحْرِمًا ".
ابوعوانہ نے ابراہیم بن محمد بن منتشر سے انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہا میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو خوشبو لگاتا ہے پھر احرام باندھ لیتا ہے انہوں نے جواب دیا: مجھے یہ پسند نہیں کہ میں احرام باندھوں (اور) مجھ سے خوشبو پھوٹ رہی ہو یہ بات مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں اپنے اوپر تار کول مل لوں۔ پھر میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں بتایا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا ہے: مجھے یہ پسند نہیں کہ میں محرم ہوں اور مجھ (میرے جسم) سے خوشبو پھوٹ رہی ہو اس سے زیادہ مجھے یہ پسند ہے کہ میں اپنے اوپر تار کول مل لوں۔ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام باندھتے وقت خوشبو لگائی تھی پھر آپ نے اپنی تمام بیویوں کے ہاں چکر لگایا پھر آپ نے احرام کی نیت کر لی (احرام کا آغاز کر لیا یعنی خوشبو لگانے سے تھوڑی دیر بعد احرام باندھ لیا)۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2842]
ابراہیم بن محمد بن منتشر اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا جو خوشبو لگا کر احرام باندھتا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا، میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ میں احرام باندھوں اور مجھ سے خوشبو پھوٹ رہی ہو، یہ کام کرنے سے زیادہ مجھے یہ پسند ہے کہ میں تارکول مل لوں، پھر میں عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں آگاہ کیا کہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما نے کہا کہ میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ میں احرام باندھوں اور مجھ سے خوشبو پھوٹ رہی ہو، میں تارکول مل لوں تو یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں یہ کام کروں، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے جواب دیا، خود میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام باندھتے وقت خوشبو لگائی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے پاس گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح احرام باندھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2842]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1192
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥محمد بن المنتشر الهمداني
Newمحمد بن المنتشر الهمداني ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥إبراهيم بن محمد الهمداني
Newإبراهيم بن محمد الهمداني ← محمد بن المنتشر الهمداني
ثقة
👤←👥الوضاح بن عبد الله اليشكري، أبو عوانة
Newالوضاح بن عبد الله اليشكري ← إبراهيم بن محمد الهمداني
ثقة ثبت
👤←👥الفضيل بن الحسين الجحدري، أبو كامل
Newالفضيل بن الحسين الجحدري ← الوضاح بن عبد الله اليشكري
ثقة حافظ
👤←👥سعيد بن منصور الخراساني، أبو عثمان
Newسعيد بن منصور الخراساني ← الفضيل بن الحسين الجحدري
ثقة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2842 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2842
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
انضح طيبا:
مجھ سے خوشبو کی مہک پھوٹے،
خا اور حا انضخ اور انضح دونوں ہم معنی ہیں۔
(2)
لأن اطلي بقطران:
میں تار کول یا گندھک سے لت پت ہوں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2842]