صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
9. باب ما يندب للمحرم وغيره قتله من الدواب في الحل والحرم:
باب: حل اور حرم میں محرم اور غیر محرم کے لیے جن جانوروں کا مارنا جائز ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1200 ترقیم شاملہ: -- 2871
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ مَا يَقْتُلُ الرَّجُلُ مِنَ الدَّوَابِّ وَهُوَ مُحْرِمٌ؟، قَالَ: حَدَّثَتْنِي إِحْدَى نِسْوَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ" يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْكَلْبِ الْعَقُورِ، وَالْفَأْرَةِ، وَالْعَقْرَبِ، وَالْحُدَيَّا، وَالْغُرَابِ، وَالْحَيَّةِ، قَالَ: وَفِي الصَّلَاةِ أَيْضًا".
ابوعوانہ نے زید بن جبیر سے حدیث سنائی کہا ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: ایک آدمی احرام کی حالت میں کون سے جانور کو قتل کر سکتا ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اہلیہ نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (احرام کی حالت میں) باولے کتے، چوہے، بچھو، چیل، کوے اور سانپ کو مارنے کا حکم دیتے تھے۔ (ابن عمر رضی اللہ عنہما نے) فرمایا: اور نماز میں بھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2871]
زید بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر ؓ سے سوال کیا، انسان احرام کی حالت میں کون سے جانور قتل کر سکتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا، مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیوی نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم درندے، چوہے، چیل، کوے اور سانپ کو قتل کرنے کا حکم دیتے تھے اور فرمایا نماز میں بھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2871]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1200
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
عبد الله بن عمر العدوي ← حفصة بنت عمر العدوية