🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. باب في الوقوف وقوله تعالى: {ثم افيضوا من حيث افاض الناس}:
باب: وقوف کے بارے میں، اور اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں «ثم افيضوا من حيث افاض الناس» ۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1219 ترقیم شاملہ: -- 2955
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " كَانَتِ الْعَرَبُ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرَاةً إِلَّا الْحُمْسَ وَالْحُمْسُ قُرَيْشٌ، وَمَا وَلَدَتْ كَانُوا يَطُوفُونَ عُرَاةً إِلَّا أَنْ تُعْطِيَهُمُ الْحُمْسُ ثِيَابًا، فَيُعْطِي الرِّجَالُ الرِّجَالَ وَالنِّسَاءُ النِّسَاءَ، وَكَانَتِ الْحُمْسُ لَا يَخْرُجُونَ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ، وَكَانَ النَّاسُ كُلُّهُمْ يَبْلُغُونَ عَرَفَاتٍ "، قَالَ هِشَامٌ: فَحَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " الْحُمْسُ هُمُ الَّذِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِمْ: ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ سورة البقرة آية 199، قَالَتْ: كَانَ النَّاسُ يُفِيضُونَ مِنْ عَرَفَاتٍ وَكَانَ الْحُمْسُ يُفِيضُونَ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ يَقُولُونَ: لَا نُفِيضُ إِلَّا مِنَ الْحَرَمِ، فَلَمَّا نَزَلَتْ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ سورة البقرة آية 199 رَجَعُوا إِلَى عَرَفَاتٍ ".
ابواسامہ نے کہا، ہمیں ہشام نے اپنے والد سے بیان کیا، کہا: حمس (کہلانے والے قبائل) کے علاوہ عرب (کے تمام قبائل) عریاں ہو کر بیت اللہ کا طواف کرتے تھے۔ حمس (سے مراد) قریش اور ان (کی باہر بیاہی ہوئی خواتین) کے ہاں جنم لینے والے ہیں۔ عام لوگ برہنہ ہی طواف کرتے تھے، سوائے ان کے جنہیں اہل حمس کپڑے دے دیتے (دستور یہ تھا کہ) مرد مردوں کو (طواف کے لیے) لباس دیتے اور عورتیں عورتوں کو۔ (اسی طرح) حمس (دوران حج) مزدلفہ سے آگے نہیں بڑھتے تھے اور باقی سب لوگ عرفات تک پہنچتے تھے۔ ہشام نے کہا: مجھے میرے والد (عروہ) نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کی، انہوں نے فرمایا: یہ حمس ہی تھے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: پھر تم وہیں سے (طواف کے لیے) چلو جہاں سے (دوسرے) لوگ چلیں۔ انہوں نے فرمایا: لوگ (حج میں) عرفات سے لوٹتے تھے اور اہل حمس مزدلفہ سے چلتے تھے اور کہتے تھے: ہم حرم کے سوا کہیں اور سے نہیں چلیں گے جب آیت پھر تم وہیں سے چلو جہاں سے دوسرے لوگ چلیں نازل ہوئی تو یہ عرفات کی طرف لوٹ آئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2955]
ہشام اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ عرب حُمس قریش کو چھوڑ کر، بیت اللہ کا ننگے طواف کرتے تھے، اور حُمس سے مراد قریش اور ان کی اولاد ہے، عرب ان کے سوا جن کو قریش کپڑے عنایت کر دیتے، برہنہ طواف کرتے تھے، مرد، مردوں کو کپڑے دیتے اور عورتیں عورتوں کو دیتیں، اور حُمس مزدلفہ سے باہر نہیں نکلتے تھے، اور باقی سب لوگ عرفات پہنچتے تھے، ہشام کہتے ہیں، مجھے میرے باپ نے حضرت عائشہ رضی الله تعالی عنها سے نقل کیا کہ حُمس ہی کی بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا: پھر وہاں سے واپس لوٹو، جہاں سے لوگ واپس لوٹتے ہیں۔ وہ بیان فرماتی ہیں کہ سب لوگ عرفات سے واپس لوٹتے اور حُمس مزدلفہ سے واپس آ جاتے تھے، وہ کہتے تھے، ہم حرم ہی سے واپس لوٹ آئیں گے، تو جب یہ آیت نازل ہوئی، وہاں سے واپس لوٹو، جہاں سے لوگ واپس لوٹتے ہیں۔ تو وہ عرفات تک پہنچ کر لوٹنے لگے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2955]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1219
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة
Newحماد بن أسامة القرشي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← حماد بن أسامة القرشي
ثقة حافظ
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2955 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2955
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
قریش حرم کے باشندے تھے اس لیے ان کا یہ نظریہ تھا کہ حرم کے باشندوں کو حدود حرم سے باہر نہیں نکلنا چاہیے اور عرفات حدود حرم سے باہر واقع ہے اس لیے وہ مزدلفہ میں ہی ٹھہر جاتے تھے۔
قرآن نے اس نظریہ کی تردید کر کے قریش کو بھی عرفات میں وقوف کرنے کا حکم دیا اور وقوف عرفات حج کا اہم ترین رکن ہے اگر یہ رہ جائے تو حج نہیں ہوگا۔
کسی قسم کے فدیہ سے بھی اس کی تلافی ممکن نہیں ہے،
اس پر پوری امت کا اتفاق ہے،
اور وقوف عرفات کا وقت 9 ذوالحجہ کو زوال آفتاب سے شروع ہو جاتا ہے اور اگلے دن 10 ذوالحجہ کی صبح تک رہتا ہے،
اس لیے جو شخص اس وقت کے اندر اندر عرفات پہنچ گیا اس کا حج ہو جائے گا۔
امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ،
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور جمہور امت کا یہی نظریہ ہے صرف امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک وقوف عرفات کا وقت عرفہ کے روز صبح ہی شروع ہو جاتا ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے عمل کے خلاف ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2955]