🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب فِي أَنَّ الإِسْنَادَ مِنَ الدِّينِ وَأَنَّ الرِّوَايَةَ لَا تَكُونُ إِلَّا عَنْ الثِّقَاتِ وَأَنَّ جَرْحَ الرُّوَاةِ بِمَا هُوَ فِيهِمْ جَائِزٌ بَلْ وَاجِبٌ وَأَنَّهُ لَيْسَ مِنْ الْغِيبَةِ الْمُحَرَّمَةِ بَلْ مِنْ الذَّبِّ عَنْ الشَّرِيعَةِ الْمُكَرَّمَةِ
باب: حدیث کی سند بیان کرنا ضروری ہے، اور وہ دین میں داخل ہے، اور روایت صرف معتبر راویوں سے ہو گی، اور راویوں پر تنقید کرنا جائز ہے بلکہ واجب ہے،یہ غیبت محرمہ نہیں ہے، بلکہ وہ شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 32
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذ َ مِنْ أَهْلِ مَرْوَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَانَ بْنَ عُثْمَانَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُبَارَكِ، يَقُولُ: الإِسْنَادُ مِنَ الدِّينِ، وَلَوْلَا الإِسْنَادُ، لَقَالَ: مَنْ شَاءَ مَا شَاءَ وقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ أَبِي رِزْمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ، يَقُولُ: بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقَوْمِ الْقَوَائِمُ يَعْنِي الإِسْنَاد وقَال مُحَمَّدٌ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاق إِبْرَاهِيمَ بْنَ عِيسَى الطَّالَقَانِيَّ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَك: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، الْحَدِيثُ الَّذِي جَاءَ، إِنَّ مِنَ الْبِرِّ، بَعْدَ الْبِرِّ، أَنْ تُصَلِّيَ لِأَبَوَيْكَ مَعَ صَلَاتِكَ، وَتَصُومَ لَهُمَا مَعَ صَوْمِكَ، قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: يَا أَبَا إِسْحَاق، عَمَّنْ هَذَا؟ قَالَ: قُلْتُ لَهُ: هَذَا مِنْ حَدِيثِ شِهَابِ بْنِ خِرَاشٍ، فَقَالَ: ثِقَةٌ، عَمَّنْ؟ قَالَ: قُلْتُ: عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: ثِقَةٌ، عَمَّنْ؟ قَالَ: قُلْتُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا أَبَا إِسْحَاق، إِنَّ بَيْنَ الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ، وَبَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَفَاوِزَ، تَنْقَطِعُ فِيهَا أَعْنَاقُ الْمَطِيِّ، وَلَكِنْ لَيْسَ فِي الصَّدَقَةِ اخْتِلَافٌ وَقَالَ مُحَمَّدٌ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ شَقِيقٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُبَارَكِ، يَقُولُ: عَلَى رُءُوسِ النَّاسِ دَعُوا حَدِيثَ عَمْرِو بْنِ ثَابِتٍ، فَإِنَّهُ كَانَ يَسُبُّ السَّلَفَ
محمد بن عبداللہ بن قہزاد نے (جو مرو کے باشندوں میں سے ہیں) کہا: میں نے عبدان بن عثمان سے سنا، کہہ رہے تھے: میں نے عبداللہ بن مبارک رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: اسناد (سلسلہ سند سے حدیث روایت کرنا) دین میں سے ہے۔ اگر اسناد نہ ہوتا تو جو کوئی جو کچھ چاہتا، کہہ دیتا۔ (امام مسلم رضی اللہ عنہ نے) کہا: اور محمد بن عبداللہ نے کہا: مجھے عباس بن ابی رزمہ نے حدیث سنائی، کہا: میں نے عبداللہ (بن مبارک) کو یہ کہتے ہوئے سنا: ہمارے اور لوگوں کے درمیان (فیصلہ کن چیز، بیان کی جانے والی خبروں کے) پاؤں، یعنی سندیں ہیں (جن پر روایات اس طرح کھڑی ہوتی ہیں جس طرح جاندار اپنے پاؤں پر کھڑے ہوتے ہیں)۔ ابواسحاق نے (جن کا نام ابراہیم بن عیسیٰ طاتقانی ہے) کہا: میں نے عبداللہ بن مبارک سے کہا: اے ابوعبدالرحمن! یہ حدیث کیسی ہے جو روایت کی گئی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ”نیکی کے بعد دوسری نیکی یہ ہے کہ تو نماز پڑھے اپنے ماں باپ کے لیے اپنی نماز کے بعد اور روزہ رکھے ان کے لیے اپنے روزے کے ساتھ۔“ انہوں نے کہا: اے ابواسحاق! یہ حدیث کون روایت کرتا ہے؟ میں نے کہا: شہاب بن خراش۔ انہوں نے کہا: وہ تو ثقہ ہے۔ پھر انہوں نے کہا: وہ کس سے روایت کرتا ہے؟ میں نے کہا: حجاج بن دینار سے۔ انہوں نے کہا وہ بھی ثقہ ہے۔ پھر انہوں نے کہا: وہ کس سے روایت کرتا ہے؟ میں نے کہا: وہ کہتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا۔ عبداللہ نے کہا: اے ابواسحاق! ابھی تو حجاج سے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک اتنے بڑے بڑے جنگل باقی ہیں کہ ان کے طے کرنے کے لیے اونٹوں کی گردنیں تھک جائیں البتہ صدقہ دینے میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں۔ عبداللہ بن مبارک لوگوں کے سامنے کہتے تھے چھوڑ دو روایت کرنا عمرو بن ثابت سے کیوں کہ وہ برا کہتا تھا اگلے بزرگوں کو۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 32]
حضرت امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کہتے تھے: اسناد دین کا حصہ ہے، اگر اسناد نہ ہوتی تو جو انسان جو کچھ چاہتا کہہ دیتا۔ اور فرماتے تھے: ہمارے اور لوگوں (راویوں) کے درمیان «الْقَوَائِمُ» (پاؤں یا ستون) ہیں۔ ابو اسحاق ابراہیم بن عیسیٰ طالقانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ سے پوچھا: اے ابو عبدالرحمن! یہ حدیث کیسی ہے؟ ”یہ نیکی در نیکی ہے کہ تم اپنی نماز کے ساتھ اپنے والدین کے لیے نماز پڑھو، اور اپنے روزوں کے ساتھ ان دونوں کے لیے روزے رکھو۔“ تو امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے پوچھا: اے ابو اسحاق! یہ حدیث کون بیان کرتا ہے؟ میں نے انہیں کہا: یہ شہاب بن خراش رحمہ اللہ کی حدیث ہے۔ انہوں نے کہا: وہ ثقہ (قابل اعتماد) راوی ہے، وہ کس سے بیان کرتا ہے؟ میں نے کہا: حجاج بن دینار رحمہ اللہ سے۔ انہوں نے کہا: وہ بھی قابل اعتماد ہے، اس نے یہ حدیث کس سے بیان کی ہے؟ میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے کہا: اے ابو اسحاق! حجاج بن دینار رحمہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان اتنے بڑے بیاباں (صحرا) ہیں، جن میں سواریوں کی گردنیں ٹوٹ جاتی ہیں، مگر صدقہ کے بارے میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔ حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ سب لوگوں کے سامنے علی الاعلان فرماتے تھے: عمرو بن ثابت کی حدیث قبول نہ کرو، کیونکہ وہ سلف صالحین کو گالیاں دیتا اور برا بھلا کہتا تھا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 32]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم كما في ((التحفة)) برقم (18487 و 18923 و 18923 و 18924 و 18925)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة


صحیح مسلم کی حدیث نمبر 32 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، صحیح مسلم 32
ہر روایت حوالے کے لئے صحیح و مقبول سند پیش کرنی چاہئے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہو یا صحابی کا اثر، سلف صالحین کی روایات ہوں یا کسی شخص کا منقول قول و فعل ہو، اہلِ سنت کے نزدیک ہر روایت و منقول کے لئے متصل اور مقبول (صحیح و حسن) سند کا ہونا ضروری ہے، جیسا کہ مشہور ثقہ امام عبداللہ بن المبارک المروزی رحمہ اللہ (متوفی 181 ھ) نے فرمایا:
«الإسناد من الدين ولو لا الإسناد لقال من شاء ما شاء»
سندیں (بیان کرنا) دین میں سے ہے اور اگر سندیں نہ ہوتیں تو ہر آدمی جو چاہتا کہہ دیتا۔
[مقدمه صحيح مسلم ج1ص 12، ترقيم دارالسلام: 32 وسنده صحيح]
امام یحییٰ بن سعید القطان رحمہ اللہ (متوفی 198ھ) نے فرمایا:
«لا تنظروا إلى الحديث ولكن انظروا إلى الإسناد فإن صح الإسناد و إلا فلا تغترّ بالحديث إذا لم يصح الإسناد .»
حدیث نہ دیکھو بلکہ سند دیکھو، پھر اگر سند صحیح ہو تو (ٹھیک ہے اور) اگر سند صحیح نہ ہو تو دھوکے میں نہ آنا۔
[الجامع لاخلاق الراوي و آداب السامع 2/ 102 ح 1301، وسنده صحيح]
ضعیف و مردود اور بے سند روایات کا ہونا اور نہ ہونا برابر ہے، جیسا کہ حافظ ابن حبان نے فرمایا:
«لأن ما روي الضعيف و مالم يرو: فى الحكم سيان»
کیونکہ جو روایت ضعیف بیان کرے اور جس کی روایت ہی نہ ہو: دونوں حکم میں برابر ہیں۔
[المجروحين لابن حبان ج1ص 328، دوسرانسخه ج1ص 412 ترجمة سعيد بن زياد]
اہلِ سنت کے نزدیک قرآن مجید کے بعد صحیح بخاری اور صحیح مسلم کا مقام ہے اور صحیحین کی تمام مسند متصل مرفوع احادیث صحیح ہیں، کیونکہ انہیں اُمت کی طرف سے تلقی بالقبول حاصل ہے۔ دیکھئے: [اختصار علوم الحديث لابن كثير 1/ 124۔ 128، نوع اول اور مقدمه ابن الصلاح مع التقييد والايضاح ص 41۔ 42، دوسرانسخه ص 97، نوع اول]
صحیحین کے علاوہ ہر کتاب کی روایت اور حوالہ صرف وہی مقبول ہے جس میں تین شرطیں ہوں:
➊ صاحبِ کتاب ثقہ و صدوق عند جمہور المحدثین ہو۔
➋ کتابِ مذکور اپنے مصنف (صاحبِ کتاب) سے ثابت ہو۔
➌ صاحبِ کتاب سے آخری راوی یا قائل و فاعل تک سند متصل و مقبول (صحیح یا حسن) ہو۔
ان میں سے اگر ایک شرط بھی مفقود ہو تو حوالہ بے کار ہے اور روایتِ مذکورہ مردود ہے۔
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھیں . . .
مقالات جلد 4 صفحہ 319
اور ماہنامہ الحدیث شمارہ 78 صفحہ 40

حافظ ابونصر عبید اللہ بن سعید بن حاتم الوائلی السجزی (حنفی) رحمہ اللہ (متوفی 444ھ) نے فرمایا:
«فكل مدعٍ للسنة يجب أن يطالب بالنقل الصحيح بما يقوله فإن أتي بذلك علم صدقه و قبل قوله . . .»
پس ہر شخص جو سنت (ماننے) کا مدعی ہے، یہ ضروری ہے کہ وہ جو کہتا ہے اُس کے بارے میں اُس سے صحیح سند کا مطالبہ کیا جائے پھر وہ اگر یہ (صحیح سند) پیش کر دے تو اس کی سچائی معلوم ہو جاتی ہے اور اس کی بات قبول کی جاتی ہے۔۔۔
[رسالة السجزي اليٰ اهل زبيد فى الرد عليٰ من انكر الحرف والصوت ص 146]
اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں:
➊ ہر روایت اور ہر حوالے کے لئے صحیح و مقبول سند پیش کرنی چاہئے۔
➋ بے سند روایت اور بے سند حوالہ مردود ہوتا ہے۔
امام شافعی نے فرمایا:
جو شخص حجت (دلیل اور سند) کے بغیر علم طلب کرتا ہے، اس کی مثال ایسی ہے جیسے رات میں لکڑیاں اکٹھی کرنے والا، جو لکڑیاں اٹھا کر لے جا رہا ہے جن میں زہریلا سانپ ہے، جو اسے ڈس لے گا اور اسے پتا بھی نہیں ہو گا۔
[المدخل اليٰ كتاب الاكليل للحاكم ص 28 وسنده صحيح]
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھئے . . .
تحقیقی و علمی مقالات للشیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ (جلد 3 صفحہ 215)
اور ماہنامہ الحدیث (شمارہ 69 صفحہ 2)
[تحقیقی و علمی مقالات للشیخ زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 215]

حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل،صحیح مسلم 32
اسناد دین میں سے ہیں
اسناد دین میں سے ہیں (اور) اگر سند نہ ہوتی تو جس کے جو دل میں آتا کہتا۔
مشہور ثقہ امام عبداللہ بن المبارک المروزی رحمہ اللہ نے فرمایا:
«الْإِسْنَادُ مِنَ الدِّينِ، وَلَوْلَا الْإِسْنَادُ لَقَالَ مَنْ شَاءَ مَا شَاءَ»
اسناد دین میں سے ہیں (اور) اگر سند نہ ہوتی تو جس کے جو دل میں آتا کہتا۔
[صحيح مسلم، ترقيم دارالسلام: 32، ماهنامه منهاج القرآن لاهور ج 20 شماره: 11، نومبر 2006ء ص 22]
اس سنہری قول سے معلوم ہوا کہ بے سند بات مردود ہوتی ہے۔
ادارہ منہاج القرآن کے بانی محمد طاہر القادری صاحب اس کی تشریح میں ”فرماتے“ ہیں:
”پس روایت حدیث، علم حدیث، علم تفسیر اور مکمل دین کا مدار اسناد پر ہے۔ سند کے بغیر کوئی چیز قبول نہ کی جاتی تھی۔ “
[ماهنامه منهاج القرآن ج 20 شماره: 11 ص 23]
اس تمہید کے بعد عرض ہے کہ علاء الدین محمد بن احمد بن ابی احمد السمرقندی نے تحفۃ الفقہاء نامی کتاب میں لکھا ہے:
«والصحيح مذهبنا لما روي عن ابن عباس أنه قال: إن العشرة الذين بشر لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم بالجنة ما كانوا يرفعون أيديهم إلا لإ فتتاح الصلٰوة. قال السمرقندي: وخلاف هٰؤلاء الصحابة قبيح»
اور صحیح ہمارا (حنفی) مذہب ہے، اس وجہ سے کہ جو ابن عباس (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا گیا ہے کہ انھوں نے فرمایا: بے شک عشرہ مبشرہ جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی خوش خبری دی، وہ شروع نماز کے سوا رفع یدین نہیں کرتے تھے۔ سمرقندی نے کہا: اور ان صحابہ کی مخالفت بُری (حرکت) ہے۔
[ج 1 ص 132، 133، دوسرا نسخه ص 66، 67]
سمرقندی کے بعد تقریباً یہی عبارت علاء الدین ابوبکر بن مسعود الکاسانی (متوفی 587ھ) نے بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع [ج 1 ص 207] میں اور بدر الدین محمود بن احمد العینی (متوفی 855ھ) نے بحوالہ بدائع الصنائع اپنی کتاب عمدۃ القاری [ج5 ص272] میں نقل کر رکھی ہے۔ ملا کاسانی نے بدائع الصنائع کے شروع میں یہ اشارہ کر دیا ہے کہ انھوں نے اپنے استاد محمد بن احمد بن ابی احمد السمرقندی سے لے کر اپنی کتاب مرتب کی ہے۔ [ج 1 ص 2]
معلوم ہوا کہ اس روایت کا دارومدار سمرقندی مذکور پر ہے۔ سمرقندی صاحب 553 ہجری میں فوت ہوئے۔ دیکھئے: [معجم المؤلفين ج 3 ص 67 ت 11750]
یعنی وہ پانچویں یا چھٹی صدی ہجری میں پیدا ہوئے تھے۔ فقیر محمد جہلمی تقلیدی نے انھیں حدیقۂ ششم (چھٹی صدی کے فقہاء و علماء کے بیان) میں ذکر کیا ہے۔ [حدائق الحنفيه ص 267]
سمرقندی مذکور سے لے کر صدیوں پہلے 68 ھ میں فوت ہونے والے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ تک کوئی سند اور حوالہ موجود نہیں ہے، لہٰذا یہ روایت بے سند اور بے حوالہ ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔
تنبیہ بلیغ: ایسی بے سند وبے حوالہ روایت کو «أخرجه السمرقندي فى تحفة الفقهاء» إلخ، اس کی تخریج سمرقندی نے تحفۃ الفقہاء میں کی ہے الخ، کہہ کر سادہ لوح عوام کو دھوکا نہیں دینا چاہئے۔ لوگ تو یہ سمجھیں گے کہ سمرقندی کوئی بہت بڑا محدث ہوگا جس نے یہ روایت اپنی سند کے ساتھ اپنی کتاب تحفۃ الفقہاء میں نقل کر رکھی ہے۔ حالانکہ سمرقندی کا محدث ہونا ہی ثابت نہیں ہے بلکہ وہ ایک تقلیدی فقیہ تھا جس نے یہ روایت بغیر کسی سند اور حوالے کے «رُوي» کے گول مول لفظ سے لکھ رکھی ہے۔ اب عوام میں کس کے پاس وقت ہے کہ اصل کتاب کھول کر تحقیق کرتا پھرے۔!
عام طور پر غیر ثابت اور ضعیف روایت کے لئے صیغۂ تمریض «رُوِيَ» وغیرہ کے الفاظ بیان کئے جاتے ہیں، دیکھئے: [مقدمة ابن الصلاح مع شرح العراقي ص 136 نوع 22]
لہٰذا جس روایت کی کوئی سند سرے سے موجود ہی نہ ہو اور پھر بعض الناس اسے «رُوي» وغیرہ الفاظ سے بیان کریں تو ایسی روایت موضوع، بے اصل اور مردود ہی ہوتی ہے۔
سمرقندی و کاسانی کی پیش کردہ یہ بے سند و بے حوالہ روایت متن اور اصولِ روایت و اصولِ درایت کے لحاظ سے بھی مردود ہے۔
دلیل اول: امام ابو بکر بن ابی شیبہ رحمہ اللہ (متوفی 235ھ) فرماتے ہیں:
«حدثنا هشيم قال: أخبرنا أبو جمرة قال: رأيت ابن عباس يرفع يديه إذا افتتح الصلٰوة وإذا ركع وإذا رفع رأسه من الركوع»
ہمیں ہشیم نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابو جمرہ نے خبر دی، کہا: میں نے ابن عباس (رضی اللہ عنہ) کو دیکھا آپ شروع نماز اور رکوع کرتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کرتے تھے۔
[مصنف ابن ابي شيبه ج 1 ص 235 ح 2431]
اس روایت کی سند حسن لذاتہ یا صحیح ہے۔
معلوم ہوا کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بذاتِ خود رکوع سے پہلے اور بعد والا رفع یدین کرتے تھے لہٰذا یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ انھوں نے رفع یدین کے خلاف کوئی روایت بیان کر رکھی ہو۔ «من ادعي خلافه فعليه أن يأتى بالدليل.»
دلیل دوم: عشرۂ مبشرہ میں سے اول صحابی سیدنا ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔ دیکھئے امام بیہقی کی کتاب السنن الکبریٰ [ج 2 ص 73] «وقال: رواته ثقات» اس کے راوی ثقہ (قابلِ اعتماد) ہیں۔
تنبیہ: اس روایت کی سند بالکل صحیح ہے اور اس پر بعض الناس کی جرح مردود ہے۔ دیکھئے میری کتاب نورالعینین فی مسئلۃ رفع الیدین [ص 119 تا 121]
دلیل سوم: سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے بھی رکوع سے پہلے اور بعد والا رفع یدین مروی ہے۔ دیکھئے نصب الرایہ [ج 1 ص 416] ومسند الفاروق لابن کثیر [ج 1 ص 165، 166] وشرح سنن الترمذی لابن سید الناس [قلمي ج 2 ص 217] وسندہ حسن، نیز دیکھئے نورالعینین [ص 195 تا 204] اس روایت کی سند حسن ہے اور یہ روایت شواہد کے ساتھ صحیح لغیرہ ہے۔
دلیل چہارم: سیدنا ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر عشرۂ مبشرہ میں سے کسی ایک صحابی سے بھی رکوع سے پہلے اور بعد والے رفع یدین کا ترک، ممانعت یا منسوخیت قطعاً ثابت نہیں ہے۔
تنبیہ: طاہر القادری صاحب نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ترک رفع یدین کی تین روایات لکھی ہیں۔ المنہاج السوی طبع چہارم [ص 228، 229 ح 258، 260، 261] یہ تینوں روایات اُصولِ حدیث کی رُو سے ضعیف ہیں۔ دیکھئے: نورالعینین [ص 231، 234، 236]
ان میں سے پہلی روایت کے راوی محمد بن جابر پر خود امام دارقطنی و امام بیہقی نے جرح کر رکھی ہے۔ اہلِ سنت کے جلیل القدر امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اس روایت کے بارے میں فرماتے ہیں: «هٰذا حديث منكر» یہ حدیث منکر ہے۔ [المسائل: رواية عبدالله بن احمد ج1ص 242 ت 327]
ابھی تک ماہنامہ الحدیث حضرو اور نورالعینین کی محولہ تنقید و جرح کا کوئی جواب ہمارے پاس نہیں آیا۔ والحمد للہ
خلاصۃ التحقیق: محمد طاہر القادری صاحب کی مسؤلہ روایتِ مذکورہ بےسند اور بےحوالہ ہونے کی وجہ سے بے اصل، باطل اور مردود ہے۔ «وما علينا إلا البلاغ»
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھئے . . .
فتاویٰ علمیہ المعروف توضیح الاحکام (جلد 1 صفحہ 363 تا 366) للشیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
[فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)، حدیث/صفحہ نمبر: 363]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 32
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
جس طرح کوئی حیوان پاؤں کے بغیر نہیں چل سکتا،
یا کوئی گھر ستون کے بغیر نہیں ٹھہر سکتا،
اس طرح کوئی روایت سند کے بغیر قبول نہیں ہوسکتی۔
اگر سند ملحوظ نہ ہوتو انسان جو چاہتا بیان کر دیتا،
اور اس کی تحقیق تفتیش نہ ہو سکتی۔
اب سند کی صورت میں ہر حدیث کی جانچ پڑتال ہوسکتی ہے،
اور اس کی صحت وضعیف کوجانا جا سکتا ہے۔
فائدہ:
حجاج بن دینارؒ تبع تابعی ہیں،
تو اس کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ایک طویل زمانہ ہے،
اور کم از کم تابعی اورصحابی کا واسطہ چھوٹا ہوا ہے،
معلوم نہیں وہ تابعی کسی صحابی سے روایت بیان کر تا ہے،
یا کسی اورتابعی سے،
اور معلوم نہیں صحابی سے نچلے راوی ثقہ ہیں یا غیر ثقہ،
اس لیے اس کو حدیث کیسے تسلیم کیا جاسکتا ہے۔
ہاں،
ماں باپ کو ثواب پہنچانے کےلیے صدقہ وخیرات کرنا،
احادیث کی بنا پر بالاتفاق جائز ہے۔
نماز،
روزہ اوردوسری بدنی عبادتوں کے بارے میں اختلاف ہے۔
فائدہ:
عمرہ بن ثابت شیعہ رافضی تھا،
اس کے نزدیک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صرف چار انسان مسلمان رہ گئے تھے،
اور عشرہ مبشرہ اورسابقون اولون کے ایمان کا منکرمومن نہیں ہو سکتا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 32]

Sahih Muslim Hadith 32 in Urdu