یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
68. باب استحباب دخول الكعبة للحاج وغيره والصلاة فيها والدعاء في نواحيها كلها:
باب: حاجی اور غیر حاجی کے لئے کعبہ میں داخل ہونے اور اس کے تمام اطراف میں نماز پڑھنے اور دعا کرنے کا استحباب۔
ترقیم عبدالباقی: 1330 ترقیم شاملہ: -- 3237
حدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، جميعا عَنِ ابْنِ بَكْرٍ، قَالَ عبد: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ : أَسَمِعْتَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: إِنَّمَا أُمِرْتُمْ بِالطَّوَافِ، وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِدُخُولِهِ، قَالَ: لَمْ يَكُنْ يَنْهَى عَنْ دُخُولِهِ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ : " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ الْبَيْتَ دَعَا فِي نَوَاحِيهِ كُلِّهَا، وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ، حَتَّى خَرَجَ، فَلَمَّا خَرَجَ رَكَعَ فِي قُبُلِ الْبَيْتِ رَكْعَتَيْنِ، وَقَالَ: هَذِهِ الْقِبْلَةُ "، قُلْتُ لَهُ: مَا نَوَاحِيهَا، أَفِي زَوَايَاهَا، قَالَ: " بَلْ فِي كُلِّ قِبْلَةٍ مِنَ الْبَيْتِ ".
ابن جریج نے ہمیں خبر دی کہا: میں نے عطاء سے پوچھا: کیا آپ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ تمہیں طواف کا حکم دیا گیا ہے اس (بیت اللہ) میں داخل ہونے کا حکم نہیں دیا گیا انہوں نے جواب دیا وہ اس میں داخل ہونے سے منع نہیں کرتے تھے لیکن میں نے ان سے سنا کہہ رہے تھے مجھے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ میں داخل ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے تمام اطراف میں دعا کی اور اس میں نماز ادا نہیں کی۔ یہاں تک کہ باہر آگئے جب آپ تشریف لائے تو قبلہ کے سامنے کی طرف دو رکعتیں ادا کیں اور فرمایا: ”یہ قبلہ ہے۔“ میں نے ان سے پوچھا: اس کے اطراف سے کیا مراد ہے؟ کیا اس کے کونوں میں؟ انہوں نے کہا: بلکہ بیت اللہ کی ہر جہت میں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3237]
ابن جریج رحمۃ اللہعلیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا، کیا آپ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ کہتے سنا ہے کہ تمہیں طواف کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور تمہیں کعبہ کے اندر داخل ہونے کا حکم نہیں دیا گیا، اس نے جواب دیا، وہ اس میں داخل ہونے سے منع نہیں کرتے تھے، لیکن میں نے انہیں یہ کہتے سنا ہے کہ مجھے اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تمام اطراف میں دعا مانگی، اور اس میں نماز نہیں پڑھی، حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکل آئے، تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے، بیت اللہ کے سامنے دو رکعتیں پڑھیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ قبلہ ہے۔“ میں نے اس سے پوچھا، اس کے جوانب سے کیا مراد ہے؟ کیا اس کے کونوں میں؟ اس نے کہا، بلکہ بیت اللہ کے تمام اطراف سے سامنے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3237]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1330
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
Sahih Muslim Hadith 3237 in Urdu
عبد الله بن العباس القرشي ← أسامة بن زيد الكلبي