🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
57. باب بيان تجاوز الله تعالى عن حديث النفس والخواطر بالقلب إذا لم تستقر وبيان انه سبحانه وتعالى لم يكلف إلا ما يطاق وبيان حكم الهم بالحسنة وبالسيئة
باب: اس چیز کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے دل میں آنے والے ان وسوسوں کو معاف کر دیا ہے جب تک کہ دل میں پختہ نہ ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے اور اس بات کا بیان کہ نیکی اور گناہ کے ارادے کا کیا حکم ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 125 ترقیم شاملہ: -- 329
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ ، وَأُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ ، وَاللَّفْظُ لِأُمَيَّةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال: لَمَّا نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ سورة البقرة آية 284، قَالَ: فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ بَرَكُوا عَلَى الرُّكَبِ، فَقَالُوا: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ كُلِّفْنَا مِنَ الأَعْمَالِ مَا نُطِيقُ، الصَّلَاةُ، وَالصِّيَامُ، وَالْجِهَادُ، وَالصَّدَقَةُ، وَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيْكَ هَذِهِ الآيَةُ وَلَا نُطِيقُهَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتُرِيدُونَ أَنْ تَقُولُوا كَمَا قَالَ أَهْلُ الْكِتَابَيْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ: سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا، بَلْ قُولُوا: سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا، وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ، قَالُوا: سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا، وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ، فَلَمَّا اقْتَرَأَهَا الْقَوْمُ ذَلَّتْ بِهَا أَلْسِنَتُهُمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي إِثْرِهَا آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ سورة البقرة آية 285، فَلَمَّا فَعَلُوا ذَلِكَ، نَسَخَهَا اللَّهُ تَعَالَى، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا سورة البقرة آية 286، قَالَ: نَعَمْ، رَبَّنَا وَلا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا سورة البقرة آية 286، قَالَ: نَعَمْ، رَبَّنَا وَلا تُحَمِّلْنَا مَا لا طَاقَةَ لَنَا بِهِ سورة البقرة آية 286، قَالَ: نَعَمْ، وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ سورة البقرة آية 286، قَالَ: نَعَمْ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت اتری: آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے، اللہ ہی کا ہے اور تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اسے ظاہر کرو یا چھپاؤ، اللہ تعالیٰ اس پر تمہارا محاسبہ کرے گا، پھر جسے چاہے گا بخش دے گا اور جسے چاہے گا عذاب دے گا اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں پر یہ بات انتہائی گراں گزری۔ کہا: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! (پہلے) ہمیں ایسے اعمال کا پابند کیا گیا جو ہماری طاقت میں ہیں: نماز، روزہ، جہاد اور صدقہ اور اب آپ پر یہ آیت اتری ہے جس کی ہم طاقت نہیں رکھتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم وہی بات کہنا چاہتے ہو جو تم سے پہلے دونوں اہل کتاب نے کہی: ہم نے سنا اور نافرمانی کی! بلکہ تم کہو: ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ اے ہمارے رب! تیری بخشش چاہتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔ جب صحابہ نے یہ الفاظ دہرانے لگے اور ان کی زبانیں ان الفاظ پر رواں ہو گئیں، تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس (ہدایت) پر ایمان لائے جو ان کے رب کی طرف ان پر نازل کی گئی اور سارے مومن بھی۔ سب ایمان لائے اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر، (اور کہا:) ہم (ایمان لانے میں) اس کے رسولوں کے درمیان فرق نہیں کرتے اور انہوں نے کہا: ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی، اے ہمارے رب! تیری بخشش چاہتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ چنانچہ جب انہوں نے یہ (مان کر اس پر عمل) کیا تو اللہ عزوجل نے اس آیت (کے ابتدائی معنی) منسوخ کرتے ہوئے یہ آیت نازل فرمائی: اللہ کسی شخص پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ اس نے جو (نیکی) کمائی اور جو (برائی) کمائی (اس کا وبال) اسی پر ہے، اے ہمارے رب! اگر ہم بھول جائیں یا ہم خطا کریں تو ہمارا مؤاخذہ نہ کرنا۔ (اللہ نے) فرمایا: ہاں۔ (انہوں نے کہا:) اے ہمارے پروردگار! اور ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جیسا تو نے ان لوگوں پر ڈالا جو ہم سے پہلے (گزر چکے) ہیں۔ (اللہ نے) فرمایا: ہاں! (پھر کہا:) اے ہمارے رب! ہم سے وہ چیز نہ اٹھوا جس کے اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں۔ (اللہ نے) فرمایا: ہاں! (پھر کہا:) اور ہم سے درگزر فرما اور ہمیں بخشش دے اور ہم پر مہربانی فرما۔ تو ہی ہمارا کارساز ہے، پس تو کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔ (اللہ نے) فرمایا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 329]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت اتری:  آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے اور تمھارے نفسوں (دلوں) میں جو کچھ ہے اس کو ظاہر کرو یا چھپاؤ، اللہ اس پر تمھارا محاسبہ کرے گا، پھر جسے چاہے گا بخش دے گا اور جسے چاہے گا عذاب دے گا اور اللہ جو چاہے کر سکتا ہے۔  [سورة البقرة: 284] تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں پر یہ بات شاق گزری، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر دوزانو بیٹھ گئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمیں ایسے اعمال کا مکلف ٹھہرایا گیا ہے جو ہماری مقدرت میں ہیں (ہم کر سکتے ہیں) مثلاً: نماز، روزہ، جہاد اور صدقہ، اور اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت اتری ہے جس پر عمل ہمارے بس میں نہیں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم دونوں کتاب والوں (یہود اور نصاریٰ) کی طرح جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں، یہ کہنا چاہتے ہو کہ ہم نے سنا اور نافرمانی کی (نہ مانا)؟ بلکہ یوں کہو: «سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ» ہم نے سنا اور اطاعت کی (مانا)۔ اے ہمارے رب! ہم تیری بخشش کے طلب گار ہیں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: «سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ» ہم نے سن کر مان لیا، اے ہمارے رب! ہم تیری بخشش چاہتے ہیں اور تیری ہی طرف پہنچنا ہے۔ جب صحابہ نے یہ الفاظ پڑھے تو ان کے لیے ان کی زبانیں نرم ہو گئیں (آسانی سے الفاظ ان کی زبانوں پر جاری ہو گئے)، اللہ تعالیٰ نے پہلی آیت کے بعد یہ آیات اتاریں: ﴿اور رسول پر اس کے رب کی طرف سے جو کچھ اتارا گیا اس پر رسول اور مومن ایمان لے آئے، سب ایمان لائے اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر۔ ہم اس کے رسولوں کے درمیان (ایمان لانے میں) بالکل فرق نہیں کرتے اور انھوں نے کہا: ہم نے سنا اور ہم نے مان لیا۔ اے ہمارے رب! ہم تیری بخشش کے خواستگار ہیں اور تیری ہی طرف واپسی ہے۔﴾ [سورة البقرة: 285] جب انھوں نے یہ کہا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری، جس نے پہلی آیت کو منسوخ کر دیا: ﴿اللہ کسی نفس کو اس کی طاقت سے زائد تکلیف نہیں دیتا (ذمہ داری نہیں ڈالتا) اس کے نفع کے لیے ہیں (جو نیکیاں) اس نے کمائیں اور اسی پر وبال ہے (ان برائیوں کا) جو اس نے کیں۔ اے ہمارے رب! اگر ہم بھول جائیں تو ہمارا مؤاخذہ نہ کرنا یا اگر ہم چوک جائیں (تو پھر بھی نہ پکڑنا)﴾ [سورة البقرة: 286] (اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ٹھیک ہے) ﴿اے ہمارے مالک! اور ہم پر بوجھ نہ ڈال ان لوگوں کی طرح جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں﴾ [سورة البقرة: 286] (اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ٹھیک ہے) ﴿اے ہمارے آقا! ہم کو ہماری طاقت سے زیادہ احکام کا مکلف نہ ٹھہرا (ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جس کے اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں) اور ہم سے درگزر فرما اور ہمیں بخش دے۔ اور ہم پر مہربانی فرما! تو ہمارا مولیٰ ہے کافروں کے مقابلہ میں ہماری نصرت فرما۔﴾ [سورة البقرة: 286] (اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ٹھیک ہے[صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 329]
ترقیم فوادعبدالباقی: 125
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (14014)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن يعقوب الجهني، أبو العلاء
Newعبد الرحمن بن يعقوب الجهني ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥العلاء بن عبد الرحمن الحرقي، أبو شبل
Newالعلاء بن عبد الرحمن الحرقي ← عبد الرحمن بن يعقوب الجهني
صدوق حسن الحديث
👤←👥روح بن القاسم التميمي، أبو غياث
Newروح بن القاسم التميمي ← العلاء بن عبد الرحمن الحرقي
ثقة حافظ
👤←👥يزيد بن زريع العيشي، أبو معاوية
Newيزيد بن زريع العيشي ← روح بن القاسم التميمي
ثقة ثبت
👤←👥أمية بن بسطام العيشي، أبو بكر
Newأمية بن بسطام العيشي ← يزيد بن زريع العيشي
ثقة
👤←👥محمد بن المنهال الضرير، أبو عبد الله، أبو جعفر
Newمحمد بن المنهال الضرير ← أمية بن بسطام العيشي
ثقة حافظ
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 329 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 329
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
:
نَسْخٌ:
کا لغوی معنی ہے ازالہ کرنا،
ہٹا دینا،
کہتے ہیں:
"نَسَخَتِ الشَّمْسُ الظِّلَّ" دھوپ نے سایہ زائل کر دیا۔
دوسرا معنی ہے:
نقل کرنا،
کہتے ہیں:
"نَسَخْتُ الْكِتَابَ" میں نے کتاب نقل کی۔
فوائد ومسائل:
صحابہ کرامؓ ﴿مَا فِي أَنفُسِكُمْ﴾ کے (ما)
کو عام سمجھا،
کہ دل کے اندر جو وساوس آتے ہیں،
یا جن خیالات کا خطور ہوتا ہے،
یا دل کے اندر جو عقائد وافکار جم جاتے ہیں،
سب اس میں داخل ہوتے ہیں۔
جب کہ دل کے اندر پیدا ہونے والے خیالات یا وساوس جو آتے اور گزرجاتے ہیں،
وہ انسان کے بس میں نہیں ہیں۔
اگر ان پر بھی مواخذہ ہو تو کوئی انسان مواخذہ سے بچ نہیں سکے گا،
اس لیے یہ آیت ان کے لیے انتہائی پریشانی اور اضطراب کا باعث بنی،
اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے،
جبکہ یہ ظاہری معنی مراد نہیں تھا۔
مواخذہ تو انہی افکار ونظریات یا دل میں جم جانے والے عقائد وتصورات پر ہے جن کو انسان شعوری طور پر دل میں جگہ دیتا ہے،
اس لیے آپ نے جواب دیا:
اہل کتاب والا طرز عمل اختیار نہ کرو،
کہ جو کام ان کے بس میں ہوتے تھے،
وہاں بھی ان کا عمل سَمِعْنَا اور عَصَیْنَا تھا کہ (سن لیا لیکن عمل نہیں کریں گے)
۔
صحابہ کرامؓ نے سر تسلیم ختم کر دیا،
تو اگلی آیت میں ظاہری معنی لینے کی تردید کر دی گئی اور پہلی آیت کا مفہوم واضح ہوگیا۔
ظاہری معنی کی تبدیلی وتغییر یا ازالہ کو نسخ سے تعبیر کیا گیا ہے،
رفع حکم والا معنی مراد نہیں ہے کہ پہلے تو یہی حکم کہ وساوس وخطرات پر بھی مواخذہ ہوگا،
جو انسان کے بس میں نہیں ہیں اور پھر ﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا﴾ سے اس حکم کو منسوخ کر دیا گیا ہو،
بلکہ اللہ کا مقصد پہلے ہی سے دل میں جم جانے عقائد واعمال تھے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 329]

Sahih Muslim Hadith 329 in Urdu