صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
57. باب بيان تجاوز الله تعالى عن حديث النفس والخواطر بالقلب إذا لم تستقر وبيان انه سبحانه وتعالى لم يكلف إلا ما يطاق وبيان حكم الهم بالحسنة وبالسيئة
باب: اس چیز کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے دل میں آنے والے ان وسوسوں کو معاف کر دیا ہے جب تک کہ دل میں پختہ نہ ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے اور اس بات کا بیان کہ نیکی اور گناہ کے ارادے کا کیا حکم ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 126 ترقیم شاملہ: -- 330
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالَ إِسْحَاق: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الآخَرَانِ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ مَوْلَى خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ سورة البقرة آية 284، قَالَ: دَخَلَ قُلُوبَهُمْ مِنْهَا شَيْءٌ، لَمْ يَدْخُلْ قُلُوبَهُمْ مِنْ شَيْءٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَسَلَّمْنَا "، قَالَ: فَأَلْقَى اللَّهُ الإِيمَانَ فِي قُلُوبِهِمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا سورة البقرة آية 286، قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ رَبَّنَا وَلا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا سورة البقرة آية 286، قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلانَا سورة البقرة آية 286، قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی: ”تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے، اس کو ظاہر کرو یا چھپاؤ، اللہ اس پر تمہارا مؤاخذہ کرے گا۔“ (ابن عباس رضی اللہ عنہما نے) کہا: اس سے صحابہ کے دلوں میں ایک چیز (شدید خوف کی کیفیت کہ احکام الہٰی کے اس تقاضے پر عمل نہ ہو سکے گا) در آئی جو کسی اور بات سے نہیں آئی تھی۔ تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو: ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی اور ہم نے تسلیم کیا۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اللہ کسی نفس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ اسی کے لیے ہے جو اس نے کمایا اور اسی پر (وبال) پڑتا ہے جو اس نے ارتکاب کیا۔ ”اے ہمارے رب! اگر ہم بھول جائیں یا چوک جائیں تو ہمارا مؤاخذہ نہ کرنا۔“ اللہ نے فرمایا: میں نے ایسا کر دیا۔ ”اے ہمارے رب! ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جیسا کہ تو نے ان لوگوں پر ڈالا جو ہم سے پہلے تھے۔“ فرمایا: میں نے ایسا کر دیا۔ ”ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما، تو ہی ہمارا مولیٰ ہے۔“ اللہ نے فرمایا: میں نے ایسا کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 330]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب یہ آیت «وَإِن تُبْدُوا مَا فِي أَنفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُم بِهِ اللَّهُ» (البقرة: 285) ”تمھارے دلوں میں جو کچھ ہے، اس کو ظاہر کرو یا چھپاؤ اللہ اس پر تمھارا مؤاخذہ کرے گا۔“ اتری۔ اس سے صحابہ رضی اللہ عنھم کے دل میں اس قدر خوف پیدا ہوا جو کسی شے سے پیدا نہیں ہوا تھا۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یوں کہو! ہم نے سنا ہم نے اطاعت کی اور ہم نے مان لیا۔“ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں یقین ڈال دیا، اس پر یہ آیت اتری: ”اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں ٹھہراتا۔ ہر شخص کو (ان کی نیکیوں پر ثواب ملے گا) جو اس نے کی ہیں۔ (اور ان اعمال کا اس پر وبال ہوگا) جو اس نے کیے ہیں۔ اے ہمارے آقا! اگر ہم بھول جائیں یا چوک جائیں تو ہمارا مؤاخذہ نہ کرنا (اللہ نے فرمایا: میں نے ایسا کردیا) اے ہمارے رب! ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جیسا کہ تو نے ان لوگوں پر ڈالا جو ہم سے پہلے تھے (فرمایا: میں نے ایسا کر دیا) ہم سے درگزر فرما، ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما، تو ہی ہمارا مددگار اور کارساز ہے (اللہ نے فرمایا، میں نے ایسا کردیا)۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 330]
ترقیم فوادعبدالباقی: 126
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه الترمذي في ((جامعه)) في التفسير، باب: ومن سورة البقرة وقال: حديث حسن برقم (2992) انظر ((التحفة)) برقم (5434)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
330
| قولوا سمعنا وأطعنا وسلمنا قال فألقى الله الإيمان في قلوبهم فأنزل الله لا يكلف الله نفسا إلا وسعها لها ما كسبت وعليها ما اكتسبت ربنا لا تؤاخذنا إن نسينا أو أخطأنا |
جامع الترمذي |
2992
| قولوا سمعنا وأطعنا فألقى الله الإيمان في قلوبهم فأنزل الله آمن الرسول بما أنزل إليه من ربه والمؤمنون |
المعجم الصغير للطبراني |
1107
| لما نزلت على رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم وإن تبدوا ما فى أنفسكم أو تخفوه يحاسبكم به الله سورة البقرة آية 284 شق ذلك على أصحاب رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ، فنزلت فيغفر لمن يشاء ويعذب من يشاء سورة البقرة آية 284 ، فسري ذلك عنهم |
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي