صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
85. باب فضل المدينة ودعاء النبي صلى الله عليه وسلم فيها بالبركة وبيان تحريمها وتحريم صيدها وشجرها وبيان حدود حرمها:
باب: مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت کی دعا اور اس کی حرمت اور اس کے شکار، اور درخت کاٹنے کی حرمت، اور اس کے حدود حرم کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1364 ترقیم شاملہ: -- 3320
وحدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، جميعا عَنِ الْعَقَدِيِّ ، قَالَ عبدَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ : أَنَّ سَعْدًا رَكِبَ إِلَى قَصْرِهِ بِالْعَقِيقِ، فَوَجَدَ عَبْدًا يَقْطَعُ شَجَرًا أَوْ يَخْبِطُهُ فَسَلَبَهُ، فَلَمَّا رَجَعَ سَعْدٌ جَاءَهُ أَهْلُ الْعَبْدِ، فَكَلَّمُوهُ أَنْ يَرُدَّ عَلَى غُلَامِهِمْ أَوْ عَلَيْهِمْ مَا أَخَذَ مِنْ غُلَامِهِمْ، فقَالَ: مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ أَرُدَّ شَيْئًا نَفَّلَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَى أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ.
اسماعیل بن محمد نے عامر بن سعد سے روایت کی کہ حضرت سعد (بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) (مدینہ کے قریب) عقیق میں اپنے محل کی طرف روانہ ہوئے، انہوں نے ایک غلام کو دیکھا وہ درخت کاٹ رہا تھا یا اس کے پتے چھاڑ رہا تھا، انہوں نے اس سے (اس کا لباس اور سازو سامان) سلب کر لیا۔ جب حضرت سعد رضی اللہ عنہ (مدینہ) لوٹے تو غلام کے مالک ان کے پاس حاضر ہوئے اور ان سے گفتگو کی کہ انہوں نے جو ان کے غلام سے (سامان لیا)، وہ واپس کر دیں۔ انہوں نے کہا: اللہ کی پناہ کہ میں کوئی ایسی چیز واپس کروں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بطور غنیمت دی ہے اور انہوں نے وہ (سامان) انہیں واپس کرنے سے انکار کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3320]
عامر بن سعد بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سوار ہو کر اپنے گھر جو عقیق میں واقع تھا کی طرف چلے تو راستہ میں ایک غلام کو درخت کاٹتے یا اس کے پتے جھاڑتے پایا، تو اس کا سامان چھین لیا، تو جب حضرت سعد واپس آئے، ان کے پاس غلام کے مالک آئے اور ان سے کہا، (گفتگو کی) کہ ان کے غلام کو یا ان کو وہ کچھ واپس کر دیں، جو ان کے غلام سے لیا ہے، تو انہوں نے کہا، اللہ کی پناہ کہ میں وہ چیز واپس کر دوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور انعام عنایت فرمائی ہے، اور سامان واپس کرنے سے انکار کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3320]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1364
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3320 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3320
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی انسان مدینہ کی حرمت وعظمت کو پامال کرتے ہوئے وہاں سے درخت کاٹے گا یا شکار کرے گا تو اس سے اس کا سازوسامان چھین لیا جائے گا لیکن جمہور ائمہ کے نزدیک اس نے ایک نا جائز کام کیا لیکن اس پر کسی قسم کا تاوان یا فدیہ نہیں ہے،
لیکن صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کا عمل تو اس حدیث کے مطابق رہا ہے۔
اگرچہ بعد والوں نے اس کو نظر انداز کر دیا ہے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی انسان مدینہ کی حرمت وعظمت کو پامال کرتے ہوئے وہاں سے درخت کاٹے گا یا شکار کرے گا تو اس سے اس کا سازوسامان چھین لیا جائے گا لیکن جمہور ائمہ کے نزدیک اس نے ایک نا جائز کام کیا لیکن اس پر کسی قسم کا تاوان یا فدیہ نہیں ہے،
لیکن صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کا عمل تو اس حدیث کے مطابق رہا ہے۔
اگرچہ بعد والوں نے اس کو نظر انداز کر دیا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3320]
عامر بن سعد القرشي ← سعد بن أبي وقاص الزهري