صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
60. باب بيان الوسوسة في الإيمان وما يقوله من وجدها:
باب: ایمان میں وسوسہ کا بیان اور وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہیے؟
ترقیم عبدالباقی: 133 ترقیم شاملہ: -- 342
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الصَّفَّارُ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عَثَّامٍ ، عَنْ سُعَيْرِ بْنِ الْخِمْسِ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوَسْوَسَةِ، قَالَ: " تِلْكَ مَحْضُ الإِيمَانِ ".
حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وسوسے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”یہی تو خالص ایمان ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 342]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وسوسے کے بارے میں سوال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو خالص ایمان ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 342]
ترقیم فوادعبدالباقی: 133
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - ((التحفة)) برقم (9446)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 342 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 342
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
وسوسہ کا سبب یا وجہ ایمان ہے،
کیونکہ شیطان اس کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے جس کے گمراہ کرنے سے وہ نا امید ہوتا ہے۔
اورجو لوگ کافر وفاسق ہیں اور اس کے قابو میں ہیں ان کے دل میں اسے وسوسہ ڈالنے کی کیا ضرورت ہے،
اس لیے وسوسہ ایمان کی علامت ہے،
بشرطیکہ انسان اس کو ناگوار خیال کرے۔
فوائد ومسائل:
وسوسہ کا سبب یا وجہ ایمان ہے،
کیونکہ شیطان اس کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے جس کے گمراہ کرنے سے وہ نا امید ہوتا ہے۔
اورجو لوگ کافر وفاسق ہیں اور اس کے قابو میں ہیں ان کے دل میں اسے وسوسہ ڈالنے کی کیا ضرورت ہے،
اس لیے وسوسہ ایمان کی علامت ہے،
بشرطیکہ انسان اس کو ناگوار خیال کرے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 342]
Sahih Muslim Hadith 342 in Urdu
علقمة بن قيس النخعي ← عبد الله بن مسعود