صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
3. باب نكاح المتعة وبيان انه ابيح ثم نسخ ثم ابيح ثم نسخ واستقر تحريمه إلى يوم القيامة:
باب: متعہ کے حلال ہونے کا پھر حرام ہونے کا پھر حلال ہونے کا اور پھر قیامت تک حرام رہنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1406 ترقیم شاملہ: -- 3420
حدثنا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حدثنا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ ، حدثنا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ، أَنَّ أَبَاهُ " غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتْحَ مَكَّةَ قَالَ: فَأَقَمْنَا بِهَا خَمْسَ عَشْرَةَ ثَلَاثِينَ بَيْنَ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ، فَأَذِنَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مُتْعَةِ النِّسَاءِ، فَخَرَجْتُ أَنَا، وَرَجُلٌ مِنْ قَوْمِي، وَلِي عَلَيْهِ فَضْلٌ فِي الْجَمَالِ، وَهُوَ قَرِيبٌ مِنَ الدَّمَامَةِ، مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنَّا بُرْدٌ، فَبُرْدِي خَلَقٌ، وَأَمَّا بُرْدُ ابْنِ عَمِّي فَبُرْدٌ جَدِيدٌ غَضٌّ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِأَسْفَلِ مَكَّةَ أَوْ بِأَعْلَاهَا، فَتَلَقَّتْنَا فَتَاةٌ مِثْلُ الْبَكْرَةِ الْعَنَطْنَطَةِ، فَقُلْنَا: هَلْ لَكِ أَنْ يَسْتَمْتِعَ مِنْكِ أَحَدُنَا؟ قَالَت: وَمَاذَا تَبْذُلَانِ؟ فَنَشَرَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنَّا بُرْدَهُ، فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَى الرَّجُلَيْنِ وَيَرَاهَا صَاحِبِي تَنْظُرُ إِلَى عِطْفِهَا، فقَالَ: إِنَّ بُرْدَ هَذَا خَلَقٌ، وَبُرْدِي جَدِيدٌ غَضٌّ، فَتَقُولُ: بُرْدُ هَذَا لَا بَأْسَ بِهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ أَوْ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ اسْتَمْتَعْتُ مِنْهَا، فَلَمْ أَخْرُجْ حَتَّى حَرَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "،
بشر بن مفضل نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عمارہ بن غزیہ نے ربیع بن سبرہ سے حدیث بیان کی کہ ان کے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ فتح مکہ میں شرکت کی، کہا: ہم نے وہاں پندرہ روز۔ (الگ الگ دن اور راتیں گنیں تو) تیس شب و روز۔ قیام کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عورتوں سے متعہ کرنے کی اجازت دے دی، چنانچہ میں اور میری قوم کا ایک آدمی نکلے۔ مجھے حسن میں اس پر ترجیح حاصل تھی اور وہ تقریباً بدصورت تھا۔ ہم دونوں میں سے ہر ایک کے پاس چادر تھی، میری چادر پرانی تھی اور میرے چچا زاد کی چادر نئی (اور) ملائم تھی، حتیٰ کہ جب ہم مکہ کے نشیبی علاقے میں یا اس کے بالائی علاقے میں پہنچے تو ہماری ملاقات لمبی گردن والی جوان اور خوبصورت اونٹنی جیسی عورت سے ہوئی، ہم نے کہا: کیا تم چاہتی ہو کہ ہم میں سے کوئی ایک تمہارے ساتھ متعہ کرے؟ اس نے کہا: تم دونوں کیا خرچ کرو گے؟ اس پر ہم میں سے ہر ایک نے اپنی اپنی چادر (اس کے سامنے) پھیلا دی، اس پر اس نے دونوں آدمیوں کو دیکھنا شروع کر دیا اور میرا ساتھی اس کو دیکھنے لگا اور اس کے پہلو پر نظریں گاڑ دیں اور کہنے لگا: اس کی چادر پرانی ہے اور میری چادر نئی اور ملائم ہے۔ اس پر وہ کہنے لگی: اس کی چادر میں بھی کوئی خرابی نہیں۔ تین بار یا دو بار یہ بات ہوئی۔ پھر میں نے اس سے متعہ کر لیا اور پھر میں اس کے ہاں سے (اس وقت تک) نہ نکلا حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (متعے کو) حرام قرار دے دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3420]
ربیع بن سبرہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد (سبرہ بن معبد رضی اللہ عنہ) فتحِ مکہ کے غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، انہوں نے کہا کہ ہم وہاں پندرہ یعنی رات اور دن شمار کر کے تیس دن رات رہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں «مُتْعَةُ النِّسَاءِ» ”عورتوں سے متعہ کرنے“ کی اجازت دے دی، تو میں اور میرے خاندان کا ایک آدمی چلے، میں اس سے زیادہ خوبصورت تھا اور وہ تقریباً بدصورت تھا، ہم میں سے ہر ایک کے پاس ایک چادر تھی، میری چادر پرانی تھی اور میرے عم زاد کی چادر نئی، تازہ اور چمکدار تھی، حتیٰ کہ جب ہم مکہ کے نشیب یا بالائی حصہ میں پہنچے تو ہمیں ایک نوجوان عورت ملی جو ایک توانا اور دراز گردن والی اونٹنی کی طرح تھی، ہم نے پوچھا: کیا تو ہم میں سے کسی ایک کے ساتھ متعہ کرنے کے لیے آمادہ ہے؟ اس نے پوچھا: تم دونوں کیا خرچ کرو گے؟ تو ہم میں سے ہر ایک نے اپنی چادر پھیلا دی، وہ ہم دونوں مردوں کو دیکھنے لگی، میرا ساتھی اسے دیکھ رہا تھا اور وہ اس کے میلان کا منتظر تھا یا اس کے پہلو کو دیکھ رہا تھا، اس نے کہا: اس کی چادر بوحضرت ہے اور میری چادر نئی اور ترو تازہ (خوش رنگ) ہے، تو اس عورت نے دو تین بار کہا: اس کی چادر میں کوئی حرج نہیں، یعنی کوئی مضائقہ نہیں، پھر میں نے اس سے فائدہ اٹھایا اور اس کے پاس سے اس وقت تک نہیں نکلا جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ کو حرام قرار نہیں دے دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3420]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1406
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3420 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3420
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
بَكْرَةٌ:
طاقتور نوجوان اونٹ۔
عَيْطَاءٌ:
دراز گردن معتدل جسم۔
عَنَطْنَطَةِ:
کا بھی یہی معنی ہے۔
مفردات الحدیث:
بَكْرَةٌ:
طاقتور نوجوان اونٹ۔
عَيْطَاءٌ:
دراز گردن معتدل جسم۔
عَنَطْنَطَةِ:
کا بھی یہی معنی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3420]
Sahih Muslim Hadith 3420 in Urdu
الربيع بن سبرة الجهني ← سبرة بن معبد الجهني