صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
60. باب بيان الوسوسة في الإيمان وما يقوله من وجدها:
باب: ایمان میں وسوسہ کا بیان اور وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہیے؟
ترقیم عبدالباقی: 134 ترقیم شاملہ: -- 344
وحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْمُؤَدِّبُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَأْتِي الشَّيْطَانُ أَحَدَكُمْ، فَيَقُولُ: مَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ، مَنْ خَلَقَ الأَرْضَ؟، فَيَقُولُ: اللَّهُ "، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِهِ، وَزَادَ وَرُسُلِهِ.
ابوسعید مؤدب نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کے پاس شیطان آتا ہے اور کہتا ہے: آسمان کو کس نے پیدا کیا؟ زمین کو کس نے پیدا کیا؟ تو وہ (جواب میں) کہتا ہے اللہ نے .....“ پھر اوپر والی روایت کی طرح بیان کی ”اور اس کے رسولوں پر (ایمان لایا)“ کے الفاظ کا اضافہ کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 344]
امام مسلم رحمہ اللہ ایک اور سند سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کے پاس شیطان آ کر کہتا ہے: آسمان کو کس نے پیدا کیا؟ زمین کو کس نے پیدا کیا؟ تو وہ جواب دیتا ہے: اللہ نے۔“ پھر اوپر والی روایت بیان کی اور «آمَنْتُ بِاللّٰهِ» کے بعد «وَرُسُلِهِ» ”اور اس کے رسولوں پر“ کا اضافہ کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 344]
ترقیم فوادعبدالباقی: 134
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه برقم (341)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
Sahih Muslim Hadith 344 in Urdu
محمد بن مسلم القضاعي ← هشام بن عروة الأسدي