صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
23. باب تحريم وطء الحامل المسبية:
باب: جو عورت قیدی، حاملہ ہو اس سے صحبت حرام ہونے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1441 ترقیم شاملہ: -- 3563
وحدثناه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حدثنا أَبُو دَاوُدَ ، جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ.
یزید بن ہارون اور ابوداؤد نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3563]
امام صاحب یہی روایت دو اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3563]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1441
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام | ثقة حافظ متقن عابد | |
👤←👥أبو داود الطيالسي، أبو داود أبو داود الطيالسي ← شعبة بن الحجاج العتكي | ثقة حافظ غلط في أحاديث | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← أبو داود الطيالسي | ثقة حافظ | |
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد يزيد بن هارون الواسطي ← محمد بن بشار العبدي | ثقة متقن | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← يزيد بن هارون الواسطي | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3563 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3563
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حاملہ عورت (لونڈی)
سے مباشرت جائز نہیں ہے،
کیونکہ حمل میں تاخیر کے باعث،
بچہ کے بارے میں شبہ پیدا ہو سکتا ہے کہ بچہ اس مسلمان کا ہے جس کی لونڈی ہے،
کیونکہ حمل چھ ماہ بعد وضع ہوا ہے اور مسلمان کا بن سکتا ہے یا یہ پہلے خاوند کا ہے اور اس نے اس کی کشت کوسیراب کیا ہے۔
اگر وہ کافر خاوند کا بچہ ہے تو وہ اس کا وارث کیسے بن سکتا ہے اوراگر وہ اس مسلمان مالک کا بچہ ہے تو پھر وہ اس کو غلام کیسے بنا سکتا ہے۔
اپنے بیٹے کو تو غلام نہیں بنا سکتا اس لیے اس خرابی اور فساد سے بچنے کے لیے شریعت نے یہ اصول مقرر کیا ہے کہ حاملہ عورت سے مباشرت نہیں ہو سکتی۔
فوائد ومسائل:
حاملہ عورت (لونڈی)
سے مباشرت جائز نہیں ہے،
کیونکہ حمل میں تاخیر کے باعث،
بچہ کے بارے میں شبہ پیدا ہو سکتا ہے کہ بچہ اس مسلمان کا ہے جس کی لونڈی ہے،
کیونکہ حمل چھ ماہ بعد وضع ہوا ہے اور مسلمان کا بن سکتا ہے یا یہ پہلے خاوند کا ہے اور اس نے اس کی کشت کوسیراب کیا ہے۔
اگر وہ کافر خاوند کا بچہ ہے تو وہ اس کا وارث کیسے بن سکتا ہے اوراگر وہ اس مسلمان مالک کا بچہ ہے تو پھر وہ اس کو غلام کیسے بنا سکتا ہے۔
اپنے بیٹے کو تو غلام نہیں بنا سکتا اس لیے اس خرابی اور فساد سے بچنے کے لیے شریعت نے یہ اصول مقرر کیا ہے کہ حاملہ عورت سے مباشرت نہیں ہو سکتی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3563]
أبو داود الطيالسي ← شعبة بن الحجاج العتكي