علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
11. باب الصدق في البيع والبيان:
باب: تجارت اور بیان میں راست بازی کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1532 ترقیم شاملہ: -- 3859
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ ، يُحَدِّثُ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ، قَالَ مُسْلِم بْن الْحَجَّاج: وُلِدَ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ فِي جَوْفِ الْكَعْبَةِ، وَعَاشَ مِائَةً وَعِشْرِينَ سَنَةً.
ابوتیاح سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے عبداللہ بن حارث سے سنا، وہ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔ امام مسلم بن حجاج رحمہ اللہ نے کہا: حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے 120 سال زندگی پائی۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3859]
امام صاحب اپنے استاد عمرو بن علی کی دوسری سند سے بھی مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔اور امام مسلم بن حجاج فرماتے ہیں: حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالی عنہ کعبہ میں پیدا ہوئے تھے اور ایک سو بیس سال تک زندہ رہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3859]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1532
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3859 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3859
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
سامان کی خرید و فروخت میں اگر بائع اور مشتری دونوں سچ بولیں،
بائع مشتری کو سامان کی صحیح صورت و کیفیت اور کوالٹی سے آگاہ کرے اور مشتری،
قیمت صحیح صحیح ادا کرے اور دونوں اگر سامان یا قیمت (نقدی)
میں کوئی عیب و نقص ہو تو اس کو بیان کر دیں،
تو یہ سودا ان کے لیے برکت کا باعث ہو گا،
اس کے برعکس اگر وہ جھوٹ بولیں گے اور اپنی اپنی چیز کے عیب و نقص کو چھپائیں گے تو سودے میں برکت نہیں رہے گی۔
اس حدیث کے راوی حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ،
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے ہیں جو حادثہ فیل سے تیرہ سال پہلے کعبہ کے اندر پیدا ہوئے تھے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت نبوت سے پہلے ہی سے آپ سے تعلق خاطر رکھتے تھے،
جو آپ کے دعویٰ نبوت کے بعد بھی برقرار رہے،
لیکن وہ مسلمان فتح مکہ کے سال ہوئے،
اور وہ قریش کی پارلیمنٹ ہاؤس کے منتظم تھے۔
فوائد ومسائل:
سامان کی خرید و فروخت میں اگر بائع اور مشتری دونوں سچ بولیں،
بائع مشتری کو سامان کی صحیح صورت و کیفیت اور کوالٹی سے آگاہ کرے اور مشتری،
قیمت صحیح صحیح ادا کرے اور دونوں اگر سامان یا قیمت (نقدی)
میں کوئی عیب و نقص ہو تو اس کو بیان کر دیں،
تو یہ سودا ان کے لیے برکت کا باعث ہو گا،
اس کے برعکس اگر وہ جھوٹ بولیں گے اور اپنی اپنی چیز کے عیب و نقص کو چھپائیں گے تو سودے میں برکت نہیں رہے گی۔
اس حدیث کے راوی حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ،
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے ہیں جو حادثہ فیل سے تیرہ سال پہلے کعبہ کے اندر پیدا ہوئے تھے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت نبوت سے پہلے ہی سے آپ سے تعلق خاطر رکھتے تھے،
جو آپ کے دعویٰ نبوت کے بعد بھی برقرار رہے،
لیکن وہ مسلمان فتح مکہ کے سال ہوئے،
اور وہ قریش کی پارلیمنٹ ہاؤس کے منتظم تھے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3859]
Sahih Muslim Hadith 3859 in Urdu
عبد الله بن الحارث الهاشمي ← حكيم بن حزام القرشي