صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
16. باب النهي عن المحاقلة والمزابنة وعن المخابرة وبيع الثمرة قبل بدو صلاحها وعن بيع المعاومة وهو بيع السنين:
باب: محاقلہ اور مزابنہ اور مخابرہ کی ممانعت اور پھل کی بیع قبل صلاحیت کے اور معاومہ کا منع ہونا۔
ترقیم عبدالباقی: 1536 ترقیم شاملہ: -- 3914
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَذْكُرُ بَيْعُ السِّنِينَ: هِيَ الْمُعَاوَمَةُ.
اسماعیل بن علیہ نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوزبیر سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔۔ اسی کے مانند، البتہ انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا کہ کئی سالوں کے لیے بیع کرنا ہی معاومہ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3914]
امام صاحب اپنے دو اساتذہ سے یہی روایت حضرت جابر رضی اللہ عنہما کے شاگرد ابو زبیر سے بیان کرتے ہیں اور اس میں «مُعَاوَمَة» کی تشریح بیان نہیں کی گئی۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3914]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1536
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري | صدوق إلا أنه يدلس | |
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر أيوب السختياني ← محمد بن مسلم القرشي | ثقة ثبتت حجة | |
👤←👥إسماعيل بن علية الأسدي، أبو بشر إسماعيل بن علية الأسدي ← أيوب السختياني | ثقة حجة حافظ | |
👤←👥علي بن حجر السعدي، أبو الحسن علي بن حجر السعدي ← إسماعيل بن علية الأسدي | ثقة حافظ | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← علي بن حجر السعدي | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3914 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3914
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
معاومہ،
عام یا سال سے ہے،
جس کا مقصد کسی پھل دار درخت یا باغ کو چند سال کے لیے فروخت کرنا،
اور اس کو منع کرنے کا سبب غرر کا احتمال ہے،
کیونکہ معلوم نہیں اگلے سال پھل آئے گا یا نہیں،
اور اگر آئے گا تو باقی رہے گا یا کسی ناگہانی آفت کا شکار ہو جائے گا،
جس سے خریدار کو نقصان پہنچے گا اور وہ قیمت کی ادائیگی میں پس و پیش کرے گا،
جس سے آپس میں نزاع اور جھگڑا پیدا ہو گا۔
ثنیا:
اس سے مراد باغ کے کسی درخت کو فروخت کرنے سے مستثنیٰ قرار دینا ہے،
اگر بائع اپنا باغ فروخت کرتا ہے،
یا کوئی اور چیز فروخت کرتا ہے اور ایک غیر متعین درخت یا چیز کا استثناء کر لیتا ہے،
مثلا کہے کہ دو درخت یا ایک درخت میرا ہو گا۔
یا کچھ چیز میری ہو گی تو یہ بالاتفاق منع ہے۔
لیکن اگر درختوں کی تعداد معلوم ہے یا چیز کی مقدار معلوم ہے پھر وہ ایک مخصوص اور معین فروخت کو مستثنیٰ کر لیتا ہے یا چیز کی معین مقدار کا استثناء کر لیتا ہے تو پھر بالاتفاق جائز ہے۔
لیکن اگر سامان کی مقدار معلوم نہیں ہے،
مثلا گندم کا ڈھیر پڑا ہے معلوم نہیں ہے کہ گندم کتنی ہے پھر اگر وہ معین مقدار کا استثناء کرتا ہے،
مثلا اس ڈھیر سے دو صاع میں رکھوں گا۔
تو پھر امام ابو حنیفہ،
شافعی اور جمہور کے نزدیک جائز نہیں ہے۔
لیکن امام مالک کے نزدیک جائز ہے۔
صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ اگر بہت کم چیز کا استثناء آتا ہے،
جس میں نزاع اور جھگڑے کا خطرہ نہیں ہے،
تو جائز ہونا چاہیے،
جس طرح اس صورت میں جائز ہے،
جب یہ کہتا ہے،
اس کا آدھا حصہ میرا ہو گا یا چوتھا حصہ میرا ہو گا۔
فوائد ومسائل:
معاومہ،
عام یا سال سے ہے،
جس کا مقصد کسی پھل دار درخت یا باغ کو چند سال کے لیے فروخت کرنا،
اور اس کو منع کرنے کا سبب غرر کا احتمال ہے،
کیونکہ معلوم نہیں اگلے سال پھل آئے گا یا نہیں،
اور اگر آئے گا تو باقی رہے گا یا کسی ناگہانی آفت کا شکار ہو جائے گا،
جس سے خریدار کو نقصان پہنچے گا اور وہ قیمت کی ادائیگی میں پس و پیش کرے گا،
جس سے آپس میں نزاع اور جھگڑا پیدا ہو گا۔
ثنیا:
اس سے مراد باغ کے کسی درخت کو فروخت کرنے سے مستثنیٰ قرار دینا ہے،
اگر بائع اپنا باغ فروخت کرتا ہے،
یا کوئی اور چیز فروخت کرتا ہے اور ایک غیر متعین درخت یا چیز کا استثناء کر لیتا ہے،
مثلا کہے کہ دو درخت یا ایک درخت میرا ہو گا۔
یا کچھ چیز میری ہو گی تو یہ بالاتفاق منع ہے۔
لیکن اگر درختوں کی تعداد معلوم ہے یا چیز کی مقدار معلوم ہے پھر وہ ایک مخصوص اور معین فروخت کو مستثنیٰ کر لیتا ہے یا چیز کی معین مقدار کا استثناء کر لیتا ہے تو پھر بالاتفاق جائز ہے۔
لیکن اگر سامان کی مقدار معلوم نہیں ہے،
مثلا گندم کا ڈھیر پڑا ہے معلوم نہیں ہے کہ گندم کتنی ہے پھر اگر وہ معین مقدار کا استثناء کرتا ہے،
مثلا اس ڈھیر سے دو صاع میں رکھوں گا۔
تو پھر امام ابو حنیفہ،
شافعی اور جمہور کے نزدیک جائز نہیں ہے۔
لیکن امام مالک کے نزدیک جائز ہے۔
صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ اگر بہت کم چیز کا استثناء آتا ہے،
جس میں نزاع اور جھگڑے کا خطرہ نہیں ہے،
تو جائز ہونا چاہیے،
جس طرح اس صورت میں جائز ہے،
جب یہ کہتا ہے،
اس کا آدھا حصہ میرا ہو گا یا چوتھا حصہ میرا ہو گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3914]
Sahih Muslim Hadith 3914 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري