پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
2. باب فضل الغرس والزرع:
باب: درخت لگانے کی اور کھیتی کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 1553 ترقیم شاملہ: -- 3974
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ نَخْلًا لِأُمِّ مُبَشِّرٍ امْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ غَرَسَ هَذَا النَّخْلَ، أَمُسْلِمٌ أَمْ كَافِرٌ؟ "، قَالُوا: مُسْلِمٌ، بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ.
ابان بن یزید نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں قتادہ نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انصار کی ایک عورت ام مبشر رضی اللہ عنہا کے نخلستان میں داخل ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کھجور کے درخت کس نے لگائے ہیں، کسی مسلمان نے یا کسی کافر نے؟“ ان لوگوں نے کہا: مسلمان نے۔۔۔ (آگے) ان سب کی حدیث کی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3974]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری عورت ام مبشر رضی اللہ عنہا کے باغ میں تشریف لے گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کھجور کے درخت کس نے لگائے ہیں؟ کیا مسلمان نے یا کافر نے؟“ انہوں (ام مبشر رضی اللہ عنہا) نے کہا: مسلمان نے، آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3974]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1553
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3974 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3974
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
ان تمام احادیث میں یہ سوال موجود ہے کہ درخت کافر نے لگائے یا مسلمان نے،
پھر آپ نے صراحتا مسلمانون کے لیے اجرو ثواب بیان کیا،
جس سے معلوم ہوتا ہے،
یہ اجروثواب ایمان کی برکت سے حاصل ہوا ہے اور کافر اس سے محروم ہے،
اس لیے وہ اجروثواب سے بھی محروم ہوگا،
ہاں دنیا میں اس کو اس سے فائدہ حاصل ہوگا۔
فوائد ومسائل:
ان تمام احادیث میں یہ سوال موجود ہے کہ درخت کافر نے لگائے یا مسلمان نے،
پھر آپ نے صراحتا مسلمانون کے لیے اجرو ثواب بیان کیا،
جس سے معلوم ہوتا ہے،
یہ اجروثواب ایمان کی برکت سے حاصل ہوا ہے اور کافر اس سے محروم ہے،
اس لیے وہ اجروثواب سے بھی محروم ہوگا،
ہاں دنیا میں اس کو اس سے فائدہ حاصل ہوگا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3974]
Sahih Muslim Hadith 3974 in Urdu
قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري