Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب استحباب الوضع من الدين:
باب: قرض میں سے کچھ معاف کر دینا مستحب ہے (اگر قرضدار کو تکلیف ہو)۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1558 ترقیم شاملہ: -- 3986
قَالَ مُسْلِم: وَرَوَى اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ كَانَ لَهُ مَالٌ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ، فَلَقِيَهُ فَلَزِمَهُ، فَتَكَلَّمَا حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا، فَمَرَّ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " يَا كَعْبُ "، فَأَشَارَ بِيَدِهِ كَأَنَّهُ يَقُولُ: النِّصْفَ، فَأَخَذَ نِصْفًا مِمَّا عَلَيْهِ وَتَرَكَ نِصْفًا.
عبدالرحمٰن بن ہُرمز نے عبداللہ بن کعب بن مالک سے اور انہوں نے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ان کا کچھ مال عبداللہ بن ابی حدرد اسلمی رضی اللہ عنہ کے ذمے تھا۔ وہ انہیں ملے تو کعب رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ لگ گئے، ان کی باہم تکرار ہوئی حتیٰ کہ ان کی آوازیں بلند ہو گئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان سے پاس سے گزرا تو آپ نے فرمایا: کعب! پھر آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا، گویا آپ فرما رہے تھے کہ آدھا لے لو، چنانچہ انہوں نے اس مال میں سے جو اس (ابن ابی حدرد اسلمی رضی اللہ عنہ) کے ذمے تھا، آدھا لے لیا اور آدھا چھوڑ دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3986]
امام مسلم بیان کرتے ہیں کہ لیث بن سعد نے اپنی سند سے کعب بن مالک ؓ کی روایت بیان کی، کہ میرا، عبداللہ ابن ابی حدرد کے ذمے مال تھا، وہ مجھے مل گئے تو میں نے انہیں پکڑ لیا، دونوں میں تکرار ہوا، جس سے ان کی آوازیں بلند ہو گئیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے، اور فرمایا: اے کعب! آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا، گویا کہ آپ فرما رہے ہیں، آدھ لے لو، تو انہوں نے آدھا قرضہ ان سے لے لیا اور آدھا چھوڑ دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3986]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1558
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥كعب بن مالك الأنصاري، أبو بشير، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الله بن كعب الأنصاري، أبو فضالة، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن كعب الأنصاري ← كعب بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥عبد الرحمن بن هرمز الأعرج، أبو داود
Newعبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← عبد الله بن كعب الأنصاري
ثقة ثبت عالم
👤←👥جعفر بن ربيعة القرشي، أبو شرحبيل
Newجعفر بن ربيعة القرشي ← عبد الرحمن بن هرمز الأعرج
ثقة
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← جعفر بن ربيعة القرشي
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3986 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3986
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
امام صاحب نے لیث بن سعد سے یہ روایت تعلیقابیان کی ہے،
آغازسےسندحذف کر دی ہے،
امام بخاری نے اس روایت کو لیث سے متصل سند سے بیان کیا ہے،
اس طرح امام مسلم نے حدیث نمبر(19)
میں استاد کا نام نہیں لیا،
اس طرح مجہول استاد سے روایت بیان کی ہے،
لیکن بخاری میں یہی روایت اسماعیل بن ابی اویس کے واسطہ سے بیان کی،
اس لیے ممکن ہے،
امام مسلم کی مراد امام بخاری ہے امام مسلم اسماعیل بن ابی اویس سے بلا واسطہ بھی روایت کرتے ہیں اور بلواسطہ بھی۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسجد میں ضرورت کے تحت،
ضرورت کے مطابق،
آواز کو بلند کرنا جائز ہے اور مسجد میں کسی سے اپنے قرضہ کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے،
اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ،
فریقین کے پاس سے گزرے تھے،
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیال کیا،
یہ معاملہ حل کر لیں گے،
لیکن جب تکرار بڑھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم آواز سن کر باہر تشریف لائے،
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اعتماد اور وثوق پر سفارش کر دی کہ اس کو قبول کر لیا جائے گا،
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعتماد کے مطابق جھگڑے کے جوش کے دوران ہی حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے غور سے سنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اشارے کو سمجھ کر فورا اس پر عمل کیا اور اپنا قرض جو اسی (80)
درہم تھا،
اس میں سےآدھا معاف کردیا،
اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا،
مقروض کو جب کچھ حصہ معاف کر دیا جائے،
تو اسے باقی حصہ فوراادا کرنا چاہیے،
سکت ہوتے ہوئے ٹال مٹول سے کام نہیں لینا چاہیے،
اور اس حدیث میں مربها کا معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ابتدا میں تو آپ نے ان کے جھگڑے کی طرف توجہ نہیں دی اور مرورمعنوی بھی مراد ہو سکتا ہے،
کہ آپ کو گھر میں اس کا بلند آوازوں سے علم ہوگیا،
تو پھر آپ باہر نکلے،
جس سے معلوم ہوا،
جو اختلاف ختم کرواسکتاہو،
اس کو اختلاف ختم کرانے کے لیے اپنا کردارادا کرنا چاہیے،
اس سلسلہ میں سستی اور کاہلی نہیں کرنا چاہیے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3986]