🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب الامر بقتل الكلاب وبيان نسخه وبيان تحريم اقتنائها إلا لصيد او زرع او ماشية ونحو ذلك.
باب: کتوں کے قتل کا حکم پھر اس حکم کا منسوخ ہونا اور اس امر کا بیان کہ کتے کا پالنا حرام ہے مگر شکار یا کھیتی یا جانوروں کی حفاظت کے لیے یا ایسے ہی اور کسی کام کے واسطے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1572 ترقیم شاملہ: -- 4020
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ . ح وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، حَتَّى إِنَّ الْمَرْأَةَ تَقْدَمُ مِنَ الْبَادِيَةِ بِكَلْبِهَا فَنَقْتُلُهُ، ثُمَّ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِهَا "، وَقَالَ: " عَلَيْكُمْ بِالْأَسْوَدِ الْبَهِيمِ ذِي النُّقْطَتَيْنِ، فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ ".
ابوزبیر نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا حتیٰ کہ کوئی عورت بادیہ سے اپنے کتے کے ساتھ آتی تو ہم اس کتے کو بھی مار ڈالتے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ان کو مارنے سے منع کر دیا اور فرمایا: تم (آنکھوں کے اوپر) دو (سفید) نقطوں والے کالے سیاہ کتے کو نہ چھوڑو، بلاشبہ وہ شیطان ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4020]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا، حتی کہ کوئی عورت جنگل سے اپنے کتے کو ساتھ لے کر آتی تو ہم اسے بھی قتل کر دیتے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قتل کرنے سے روک دیا، اور فرمایا: تم سیاہ کالے کتے کو جس کی آنکھوں پر دو نقطے ہوں، اسے قتل کرو، کیونکہ وہ شیطان ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4020]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1572
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← محمد بن مسلم القرشي
ثقة
👤←👥روح بن عبادة القيسي، أبو محمد
Newروح بن عبادة القيسي ← ابن جريج المكي
ثقة
👤←👥إسحاق بن منصور الكوسج، أبو يعقوب
Newإسحاق بن منصور الكوسج ← روح بن عبادة القيسي
ثقة ثبت
👤←👥روح بن عبادة القيسي، أبو محمد
Newروح بن عبادة القيسي ← إسحاق بن منصور الكوسج
ثقة
👤←👥محمد بن أبي خلف السلمي، أبو عبد الله
Newمحمد بن أبي خلف السلمي ← روح بن عبادة القيسي
ثقة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4020 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4020
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
آغاز میں کتوں سے نفرت دلانے کے لیے ان کے قتل کا عمومی حکم دیا گیا،
آہستہ آہستہ،
جب ان سے نفرت پختہ ہو گئی،
تو پھر وہ کتے جو تکلیف اور ضرر کا باعث نہیں بنتے تھے،
ان کے قتل کرنے سے روک دیا،
انتہائی سیاہ کتا خوفناک ہوتا ہے اور اس سے لوگ خطرہ اور ڈر محسوس کرتے ہیں،
اس لیے اس کو قتل کرنے کی اجازت برقرار رکھی،
اور اس کی مضرت و خطرہ کی بنا پر اس کو شیطان سے تعبیر کیا،
یا سیاہ کتا جس کی آنکھوں پر دو نقطے ہوں فی الواقع ہی شیطان ہے اور اس بات کی حقیقت اللہ بہتر جانتا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4020]