صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
73. باب بدء الوحي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم:
باب: اس بات کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی (یعنی اللہ کا پیام) اترنا کیونکر شروع ہوا۔
ترقیم عبدالباقی: 160 ترقیم شاملہ: -- 403
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا، قَالَتْ: " كَانَ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ، الرُّؤْيَا الصَّادِقَةَ فِي النَّوْمِ، فَكَانَ لَا يَرَى رُؤْيَا إِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ، ثُمَّ حُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلَاءُ، فَكَانَ يَخْلُ وَبِغَارِ حِرَاءٍ يَتَحَنَّثُ فِيهِ، وَهُوَ التَّعَبُّدُ اللَّيَالِيَ أُولَاتِ الْعَدَدِ، قَبْلَ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهِ وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِكَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى خَدِيجَةَ فَيَتَزَوَّدُ لِمِثْلِهَا حَتَّى فَجِئَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاءٍ فَجَاءَهُ الْمَلَكُ، فَقَالَ: اقْرَأْ، قَالَ: مَا أَنَا بِقَارِئٍ، قَالَ: فَأَخَذَنِي، فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: اقْرَأْ، قَالَ: قُلْتُ: مَا أَنَا بِقَارِئٍ، قَالَ: فَأَخَذَنِي، فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ، حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: اقْرَأْ، فَقُلْتُ: مَا أَنَا بِقَارِئٍ، فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ، حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ {1} خَلَقَ الإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ {2} اقْرَأْ وَرَبُّكَ الأَكْرَمُ {3} الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ {4} عَلَّمَ الإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ {5} سورة العلق آية 1-5 فَرَجَعَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَرْجُفُ بَوَادِرُهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ، فَقَالَ: زَمِّلُونِي، زَمِّلُونِي، فَزَمَّلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ، ثُمَّ قَالَ لِخَدِيجَةَ: أَيْ خَدِيجَةُ: مَا لِي، وَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ "، قَالَ: لَقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي، قَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ: كَلَّا أَبْشِرْ، فَوَاللَّهِ لَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا، وَاللَّهِ إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ، وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ، فَانْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ، حَتَّى أَتَتْ بِهِ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ ابْنِ عَبْدِ الْعُزَّى وَهُوَ ابْنُ عَمِّ خَدِيجَةَ أَخِي أَبِيهَا، وَكَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ يَكْتُبُ الْكِتَابَ الْعَرَبِيَّ وَيَكْتُبُ مِنَ الإِنْجِيلِ بِالْعَرَبِيَّةِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكْتُبَ، وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ عَمِيَ، فَقَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ: أَيْ عَمِّ، اسْمَعْ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ، قَالَ وَرَقَةُ بْنُ نَوْفَلٍ: يَا ابْنَ أَخِي، مَاذَا تَرَى؟ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرَ مَا رَآهُ، فَقَالَ لَهُ وَرَقَةُ: هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ، يَا لَيْتَنِي فِيهَا جَذَعًا، يَا لَيْتَنِي أَكُونُ حَيًّا حِينَ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ، قَالَ رَسُولُ اللّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوَ مُخْرِجِيَّ هُمْ، قَالَ وَرَقَةُ: نَعَمْ، لَمْ يَأْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمَا جِئْتَ بِهِ إِلَّا عُودِيَ، وَإِنْ يُدْرِكْنِي يَوْمُكَ أَنْصُرْكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا.
یونس نے ابن شہاب (زہری) سے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے حدیث سنائی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کا آغاز سب سے پہلے نیند میں سچے خواب آنے سے ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو خواب بھی دیکھتے اس کی تعبیر صبح کے روشن ہونے کی طرح سامنے آ جاتی، پھر خلوت نشینی آپ کو محبوب ہو گئی، آپ غار حراء میں خلوت اختیار فرماتے اور گھر واپس جا کر (دوبارہ) اسی غرض کے لیے زاد راہ لانے سے پہلے (مقررہ) تعداد میں راتیں تحنث میں مصروف رہتے، تحنث عبادت گزاری کو کہتے ہیں، (اس کے بعد) آپ پھر خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس واپس آ کر، اتنی ہی راتوں کے لیے زاد (سامان خور و نوش) لے جاتے، (یہ سلسلہ چلتا رہا) یہاں تک کہ اچانک آپ کے پاس حق (کا پیغام) آ گیا، اس وقت آپ غار حراء ہی میں تھے، چنانچہ آپ کے پاس فرشتہ آیا اور کہا: پڑھیے! آپ نے جواب دیا: میں پڑھ سکنے والا نہیں ہوں، آپ نے فرمایا: تو اس (فرشتے) نے مجھے پکڑ کر زور سے بھینچا یہاں تک کہ (اس کا دباؤ) میری برداشت کی آخری حد کو پہنچ گیا، پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا: پڑھیے! میں نے کہا: میں پڑھ سکنے والا نہیں ہوں، پھر اس نے مجھے پکڑا اور دوبارہ بھینچا یہاں تک کہ میری برداشت کی آخری حد آ گئی، پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا: پڑھیے! میں نے کہا: میں پڑھ سکنے والا نہیں ہوں، پھر اس نے تیسری دفعہ مجھے پکڑ کر پوری قوت سے بھینچا یہاں تک کہ میری برداشت کی آخری حد آ گئی، پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا: «اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ» ”اپنے رب کے نام سے پڑھیے جس نے پیدا کیا، اس نے انسان کو گوشت کے جونک جیسے لوتھڑے سے پیدا کیا، پڑھیے اور آپ کا رب سب سے بڑھ کر کریم ہے جس نے قلم کے ذریعے سے تعلیم دی اور انسان کو سکھایا جو وہ نہ جانتا تھا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان آیات کے ساتھ واپس لوٹے، (اس وقت) آپ کے کندھوں اور گردن کے درمیان کے گوشت کے حصے لرز رہے تھے یہاں تک کہ آپ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے اور فرمایا: ”مجھے کپڑا اوڑھاؤ، مجھے کپڑا اوڑھاؤ۔“ انہوں (گھر والوں) نے کپڑا اوڑھا دیا یہاں تک کہ آپ کا خوف زائل ہو گیا تو آپ نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ”خدیجہ! یہ مجھے کیا ہوا ہے؟“ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: ہرگز نہیں! (بلکہ) آپ کو خوشخبری ہو اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز رسوا نہ کرے گا، اللہ کی قسم! آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچی بات کہتے ہیں، کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، اسے کما کر دیتے ہیں جس کے پاس کچھ نہ ہو، مہمان نوازی کرتے ہیں، حق کے لیے پیش آنے والی مشکلات میں اعانت کرتے ہیں، پھر خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ کو لے کر ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبدالعزیٰ کے پاس پہنچیں، وہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے چچا زاد، ان کے والد کے بھائی کے بیٹے تھے، وہ ایسے آدمی تھے جو جاہلیت کے دور میں عیسائی ہو گئے تھے، عربی خط میں لکھتے تھے، اور جس قدر اللہ کو منظور تھا، انجیل کو عربی زبان میں لکھتے تھے، بہت بوڑھے تھے اور بینائی جاتی رہی تھی۔ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: چچا! اپنے بھتیجے کی بات سنیے، ورقہ بن نوفل نے پوچھا: برادر زادے! آپ کیا دیکھتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ دیکھا تھا، اس کا حال بتایا تو ورقہ نے آپ سے کہا: یہ وہی ناموس (رازوں کا محافظ) ہے جسے موسیٰ علیہ السلام کی طرف بھیجا گیا تھا، کاش! اس وقت میں جوان ہوتا، کاش! میں اس وقت زندہ (موجود) ہوں جب آپ کی قوم آپ کو نکال دے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تو کیا یہی لوگ مجھے نکالنے والے ہوں گے؟“ ورقہ نے کہا: ہاں، کبھی کوئی آدمی آپ جیسا پیغام لے کر نہیں آیا مگر اس سے دشمنی کی گئی اور اگر آپ کا (وہ) دن میری زندگی میں آ گیا تو میں آپ کی بھرپور مدد کروں گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 403]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وحی کا آغاز سب سے پہلے نیند میں سچے خوابوں سے ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو خواب بھی دیکھتے، اس کی تعبیر روشن صبح کی طرح ہوتی۔ پھر خلوت گزینی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک محبوب بنا دی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم غارِ حرا میں تنہائی اختیار کرتے اور اپنے اہل کی طرف واپسی سے پہلے کئی کئی راتیں وہاں گناہ سے بچتے، یعنی بندگی کرتے، اور اس کے لیے خورد و نوش کا سامان لے جاتے۔ پھر خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس واپس آکر اتنی ہی راتوں کے لیے پھر سامانِ خورد و نوش لے جاتے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اچانک حق (فرشتۂ وحی) آگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم غارِ حرا میں تھے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فرشتہ آیا اور اس نے کہا: ”پڑھیے!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔“ تو اس نے مجھے پکڑ کر زور سے دبایا، یہاں تک کہ اس کا دباؤ میری طاقت کی انتہا کو پہنچ گیا، پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا: ”پڑھیے!“ تو میں نے کہا: ”میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔“ پھر اس نے مجھے پکڑا اور دوبارہ مجھے بھینچا یہاں تک کہ اس کا دباؤ میری طاقت کی انتہا کو پہنچ گیا۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا: ”پڑھیے!“ میں نے کہا: ”میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔“ پھر اس نے مجھے پکڑا اور تیسری دفعہ دبوچا حتیٰ کہ مجھے پوری قوت سے دبایا پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا: ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ﴾ [سورة العلق: 1-5] یہ آیات لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس حال میں واپس خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کپکپی طاری تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے کپڑا اوڑھاؤ! مجھ پر کپڑا ڈالو۔“ گھر والوں نے کپڑا اوڑھایا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خوف زائل ہو گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدیجہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ”اے خدیجہ! مجھے کیا ہوا؟“ اور اسے پورا واقعہ سنایا، اور کہا: ”مجھے تو اپنی جان کا خطرہ پڑ گیا۔“ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیا: ”ہرگز نہیں! خوش ہو جائیے، اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہرگز رسوا نہیں کرے گا۔ اللہ شاہد ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم صلہ رحمی کرتے ہیں، سچی بات کرتے ہیں، کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، نایاب چیزیں دیتے ہیں (نایاب سے مراد وہ چیز ہے جو کسی اور سے نہ مل سکتی ہو، اس کی توجیہ آگے موجود ہے)، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کے لیے پیش آمدہ مصائب میں مدد کرتے ہیں۔“ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر اپنے چچا زاد ورقہ بن نوفل کے پاس پہنچیں، جس نے جاہلیت کے دور میں عیسائیت اختیار کر لی تھی اور وہ عربی خط میں لکھتے تھے، اور انجیل کا عربی میں ترجمہ جس قدر اللہ کو منظور ہوتا کرتے تھے، وہ بہت بوڑھے تھے اور بینائی جاتی رہی تھی۔ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اس سے کہا: ”اے چچا! اپنے بھتیجے کی بات سنیے۔“ ورقہ بن نوفل نے پوچھا: ”اے بھتیجے! آپ نے کیا دیکھا ہے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ دیکھا تھا اسے بتایا، تو ورقہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ”یہی وہ رازداں (فرشتہ) ہے جسے موسیٰ علیہ السلام کی طرف بھیجا گیا تھا۔ اے کاش! میں اس وقت جواں ہوتا۔ اے کاش! میں اس وقت زندہ ہوں جب آپ کی قوم آپ کو نکالے گی۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟“ ورقہ نے کہا: ”ہاں! کبھی کوئی آدمی آپ جیسا پیغام لے کر نہیں آیا مگر اس سے دشمنی کی گئی، اور اگر آپ کے اس دن کو میں نے پا لیا تو میں آپ کی بھرپور مدد کروں گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 403]
ترقیم فوادعبدالباقی: 160
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في التفسير، باب: ﴿ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ﴾ برقم (4953) انظر ((التحفة)) برقم (16706)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
4955
| أول ما بدئ به رسول الله الرؤيا الصالحة جاءه الملك فقال اقرأ باسم ربك الذي خلق خلق الإنسان من علق اقرأ وربك الأكرم |
صحيح البخاري |
4956
| أول ما بدئ به رسول الله الرؤيا الصادقة جاءه الملك فقال اقرأ باسم ربك الذي خلق خلق الإنسان من علق اقرأ وربك الأكرم الذي علم بالقلم |
صحيح مسلم |
403
| أول ما بدئ به رسول الله من الوحي الرؤيا الصادقة في النوم فكان لا يرى رؤيا إلا جاءت مثل فلق الصبح حبب إليه الخلاء فكان يخلو بغار حراء يتحنث فيه وهو التعبد الليالي أولات العدد قبل أن يرجع إلى أهله ويتزود لذلك ثم يرجع إلى خديجة فيتزود لمثلها حتى فجئه الحق وه |
جامع الترمذي |
3632
| أول ما ابتدئ به رسول الله من النبوة حين أراد الله كرامته ورحمة العباد به أن لا يرى شيئا إلا جاءت مثل فلق الصبح فمكث على ذلك ما شاء الله أن يمكث حبب إليه الخلوة فلم يكن شيء أحب إليه من أن يخلو |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 403 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 403
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
:
(1)
الْوَحْيُ:
وحی کا لغوی معنی ہے:
انتہائی خفیہ یا پوشیدہ طریقے سے خبر دینا،
اور اس کا اطلاق اشارتاً،
کتابت،
مکتوب،
رسالہ اور الہام و القاء پر بھی ہوتا ہے۔
اور شرعی طور پر:
اس کلام کو وحی کہا جاتا ہے جو کسی نبی یا رسول پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہو۔
(2)
الرُّؤْيَا الصَّادِقَة:
سچا خواب۔
جو چیز آپ خواب میں دیکھتے،
وہ ٹھیک اسی طرح بیداری میں سامنے آ جاتی۔
(3)
فَلَق الصُّبْحِ:
سپیدہ سحر،
صبح کی روشنی،
یعنی وہ خواب بالکل واضح ہوتا،
اس میں کسی قسم کا خفا و پوشیدگی نہ ہوتی۔
(4)
حُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلَاءُ:
تنہائی اور خلوت سے محبت پیدا ہو گئی،
تاکہ پورے اطمینان،
فراغت قلبی سے سوچ و بچار کا موقع ملے،
اور مالوفات انسانی سے الگ تھلگ ہو کر دل میں خشوع و خضوع پیدا ہو۔
(5)
يَتَحَنَّثُ:
گناہ سے بچنا،
حنث گناہ کو کہتے ہیں،
اور تحنث،
گناہ سے اجتناب کو،
گویا عبادت انسان کو گناہ سے بچاتی ہے،
اس لیے اس کی تفسیر تعبد (بندگی کرنا)
سے کی گئی ہے۔
(6)
اللَّيَالِيَ أُوْلَاتِ الْعَدَدِ:
اس کام میں کئی راتیں صرف فرماتے،
کبھی کبھی پورا ماہ رمضان،
اسی طرح گزر جاتا۔
(7)
حَتَّى فَجِئَهُ الْحَقُّ:
اچانک آپ کے پاس فرشتہ وحی لے کر آ گیا،
آپ کو اس کی امید یا توقع نہ تھی۔
تقدیر اللہ کے علم کے اعتبار سے تو ہر چیز آسمان و زمین کی تخلیق سے بھی پچاس ہزار سال پہلے،
لوح محفوظ میں لکھ دی گئی ہے،
جس میں نبوت،
ولایت،
سعادت و شقاوت،
نیکی و بدی ہر چیز کا ریکارڈ ہے،
اس اعتبار سے تو آپ کیا،
ہر نبی،
ہر صحابی،
ہر ولی بلکہ ہر انسان کا مقام و مرتبہ پہلے سے متعین ہے،
لیکن ہر چیز کا ظہور اپنے مقررہ وقت پر ہوتا ہے۔
ہر انسان کی پیدائش اور موت کا وقت مقرر ہے،
لیکن اس کا ظہور اپنے اپنے وقت پر ہو گا۔
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا وقت مقرر تھا،
لیکن جب آپ کی طرف وحی کی آمد شروع ہوئی،
تو آپ نبی بن گئے،
وحی کی آمد سے پہلے آپ نبی نہیں تھے (اگرچہ تقدیر اور اللہ کے علم میں نبی تھے)
۔
اس لیے یہ کہنا:
کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ولادت کے وقت بلکہ اس وقت نبی تھے کہ جب ابھی آدم علیہ السلام پیدا بھی نہیں ہوئے تھے،
یہ درست نہیں ہے،
اگر آپ پہلے ہی نبی تھے،
تو پھر اس بحث کی ضرورت کیا ہے،
کہ آپ غار حرا میں عبادت،
کس شریعت کے مطابق کرتے تھے،
نیز جو حالات پہلی وحی کے وقت پیش آئے،
کیا وہ بعد میں بھی پیش آئے؟ جب آپ پہلے سے نبی تھے،
اور آپ کو اس کا علم تھا،
تو پھر یہ صورت حال کیوں پیش آئی۔
(8)
مَا أَنَا بِقَارِئٍ:
میں پڑھا ہوا نہیں ہوں،
اکثر علماء نے (ما)
کو نافیہ قرار دیا ہے،
اور اس کا معنی ہے "مَا أُحْسِنُ الْقِرَاءَةَ"،
میں اچھی طرح نہیں پڑھ سکتا،
اور یہ اس صورت میں ہوتا ہے،
جب کسی کو کوئی لکھی ہوئی چیز دی جائے اور کہا جائے پڑھ۔
یا ویسے ہی اسے کہا جائے پڑھ،
لیکن اگر کوئی انسان،
اس کو لفظ کی شناخت کرا کر کہے:
پڑھ! یا عبارت بول کر کہے:
اس عبارت کو دہرا،
تو وہ پڑھ سکتا ہے،
اس لیے جب فرشتے نے وحی کے الفاظ آپ کے سامنے پڑھے،
تو آپ نے بھی پیچھے پڑھ دئیے۔
بعض علماء نے اس کا معنی استفہامیہ کیا ہے،
جیسا کہ ایک روایت کے الفاظ میں (كَيْفَ أَقْرَاءُ)
”میں کیسے پڑھوں“ (میں تو اپنے طور پر پڑھ نہیں سکتا)
دوسری روایت ہے (مَاذَا أَقْرَاءُ)
”میں کیا پڑھوں۔
“ تمام متقدمین شارحین کی تصریحات کے باوجود،
اور یہ ماننے کے باوجود کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُمی تھے۔
اگر بالفرض آپ پڑھے لکھے ہوتے تو لوگوں کو آپ کی نبوت میں شک پیدا ہوتا۔
یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھنے سے انکار فرمایا،
کہ میں پڑھنے والا نہیں ہوں،
میری عبادت میں خلل پیدا ہوتا ہے،
جب چوتھی بار جبرائیل علیہ السلام نے ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾ کہا،
تب آپ کا ذہن اس طرف متوجہ ہوا کہ یہ بھی تو اسی ذات کا نام لے رہا ہے جس کے مشاہدہ اور مطالعہ میں مستغرق ہوں،
سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھ لیا،
تو کیا جب جبریل علیہ السلام نے پہلی دفعہ دبوچا تھا،
اس سے آپ کی عبادت میں خلل پیدا نہیں ہوا تھا،
اور آپ کے جواب سے آپ کی عبادت متاثر نہیں ہوئی تھی،
اور آپ تو پہلے سے نبی تھے،
تو آپ کو پہلے کیوں پتہ نہ چلا۔
(9)
حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ:
جَُهْدٌ،
جیم پر فتح اور ضمہ دونوں پڑھنا درست ہیں،
معنی ہو گا غایت (انتہا)
اور مشقت،
دال پر اگر زبر ہو تو معنی ہو گا،
جبریل نے اپنی پوری قوت صرف کر دی،
اس نے پوری طاقت سے دبایا تھا،
چونکہ وہ انسانی شکل و صورت میں تھا،
اس لیے اس میں قوت بھی انسانی تھی کوئی انسان،
ملکی قوت و طاقت کو برداشت نہیں کر سکتا،
اور نہ ہی فرشتہ کو مشقت لائق ہوتی ہے۔
اگر دال پر پیش ہو تو معنی ہو گا:
میں نے دباؤ سہنے میں اپنی پوری طاقت نچوڑ دی،
میری طاقت آخری مراحل میں داخل ہو گئی۔
ممکن ہے پہلی دفعہ:
غط (دباؤ)
دنیا کے خیالات و تفکرات سے رخ پھیرنے کے لیے ہو۔
دوسری دفعہ:
آپ کے خیالات و توجہ کو اپنی طرف مبذول کرنے کے لیے اور تیسری دفعہ:
اپنے سے مانوس کرنے کے لیے کیا ہو۔
(ارشاد الساری: 1/63) (10)
تَرْجُفُ بَوَادِرُهُ:
بَوَادِر،
بَادِرَۃٌ کی جمع ہے،
شانے کے گوشت کو کہتے ہیں،
وہ گھبراہٹ اور اضطراب کی وجہ سے ہل رہا تھا،
(11)
زَمِّلُونِي:
مجھے کپڑے میں لپیٹ دو یا مجھ پر کپڑا ڈال دو۔
(12)
الرَّوْعُ:
گھبراہٹ،
پریشانی۔
(13)
لَقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي:
فرشتے کے دباؤ اور گھبراہٹ کی بنا پر مجھے اپنی جان کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا،
اس فقرہ کا تعلق غارِ حرا،
میں گزرنے والے حالات سے ہے،
کیونکہ یہ ماضی کا صیغہ ہے،
اور اس واقعہ کی شدت کو بیان کرنا مقصود ہے۔
اگر اس کا معنی حال و استقبال کا لیا جائے جیسا کہ حضرت خدیجہ ؓ کے جواب سے محسوس ہوتا ہے،
تو پھر معنی یہ ہو گا:
”کہ مجھے خطرہ ہے کہ میں اس عہدہ اور ذمہ داری کو کما حقہ ادا نہیں کر سکوں گا،
یا اس عظیم ذمہ داری کو اٹھا نہیں سکوں گا۔
“ تو تب حضرت خدیجہ ؓ نے کہا،
اگر آپ اس ذمہ داری کے اہل نہ ہوتے یا اس کو ادا نہ کر سکتے تو یہ ذمہ داری آپ پر ڈالی ہی نہ جاتی،
آپ جیسی صفات عالیہ اور اخلاق حسنہ کے مالک کو اللہ تعالیٰ رسوا نہیں کرے گا،
جس پر ذمہ داری ڈالی جائے اور وہ اس کو ادا نہ کر سکے،
تو یہ چیز اس کے لیے ذلت و رسوائی کا باعث بنتی ہے،
اس لیے یہ ممکن نہیں کہ آپ اس ذمہ داری کو پورا نہ کر سکیں۔
(14)
تَحْمِلُ الْكَلَّ:
كَلّ،
بوجھ۔
﴿هُوَ كَلٌّ عَلَىٰ مَوْلَاهُ﴾ ”وہ اپنے آقا کے لیے بوجھ ہے۔
“ یعنی:
آپ کمزوروں،
یتیموں اور بے کسوں کی مدد و اعانت کرتے ہیں،
ان کو نان و نفقہ مہیا کرتے ہیں۔
(15)
تُكْسِبُ الْمَعْدُومَ:
كَسَبَ اور اكْسَبَ کا معنی ہوتا ہے کسی کو کما کر دینا،
معدوم،
اگر محتاج کے معنی میں ہو یعنی فقیر و تنگدست،
تو پھر معنی ہو گا:
”فقیر و قلاش کو کما کر دیتے ہیں“،
کیونکہ معدوم غیر موجود کو کہتے ہیں اور فقیر و محتاج،
لا شیء معدوم و معدم کے معنی میں آ جاتا ہے،
یا معنی ہو گا کہ آپ نایاب چیزیں دیتے ہیں۔
آپ جیسی تعلیمات اور ہدایات کہیں سے حاصل نہیں ہو سکتیں،
اس صورت میں کَسَبَ ثلاثی مجرد سے ہو گا،
اور اس کو ثلاثی مزید فیہ سے مانیں،
تو مفعول اول محذوف ہو گا اور معدوم کا موصوف بھی محذوف ہو گا۔
تُكْسِبُ غَيْرَكَ الْمَالَ الْمَعْدُوْمَ:
”دوسروں کو نایاب مال کما کر دیتے ہیں۔
“ (16)
نَوَائِبُ الْحَقِّ:
نَوَائِبٌ،
نَائِبَةٌ کی جمع ہے،
حادثہ اور مصیبت کو کہتے ہیں،
کہ اگر کسی کو حق کی بنا پر مصیبت سے دوچار ہونا پڑے،
تو آپ اس کی اعانت کرتے ہیں،
غلط کاموں میں مدد نہیں کرتے۔
(17)
تَنَصَّرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ:
آپ کی بعثت سے پہلے اس نے عیسائیت اختیار کر لی تھی۔
(18)
نَامُوسٌ:
رازداں،
خیر کے رازداں کو ناموس اور شر کے رازداں کو جاسوس کہتے ہیں۔
(19)
الْجَذَعُ:
طاقتور نوجوان۔
(20)
نَصْرًا مُؤَزَّرًا:
مضبوط اور قوی مدد،
بھرپور طور پر ساتھ دینا۔
فوائد ومسائل:
(1)
وحی کی آمد سے پہلے آپ کو اس کے لیے تیار کیا گیا،
آپ کے دل میں یکسوئی اور خلوت گزینی کی محبت پیدا کی گئی،
تاکہ آپ الگ تھلگ ہو کر یکسوئی کےساتھ غور وفکر کے عادی بن جائیں،
اور لوگوں سے میل جول کم ہوجائے،
دل کے اندر صفائی پیدا ہوجائے۔
(2)
سچے خوابوں کے ذریعہ رشد وہدایت کی طرف رہنمائی کی گئی ہے کہ طلوع شمس سے پہلے سے سپیدہ سحر نمودار ہوتا ہے۔
(3)
جبرئیل علیہ السلام اچانک وحی لے کر آئے اور ایسا رویہ اختیار کیا کہ آئندہ وحی کا تحمل آسان ہوجائے،
اور کچھ عرصہ کے لیے وحی بند ہوگئی،
تا کہ آپ کے دل میں اس کے حصول کی محبت وشوق بڑھے۔
محبوب چیز ایک دفعہ حاصل ہوجائے،
پھر چھن جائے تو پھر اس کے حصول کا اشتیاق بہت بڑھ جاتا ہے،
اس بنا پر وحی کی بندش کے دور میں آپ غمگین ہوجاتے تھے اورجبریل علیہ السلام سامنے آکر آپ کے غم وحزن کو ہلکا کرتے تھے۔
(4)
حضر ت خدیجہ ؓ نے آپ کی چھ صفات کمال بیان کی ہیں،
جو آپ کی کامیابی وکامرانی کی ضامن تھیں:
(1)
صلہ رحمی۔
(2)
صدق مقال۔
(3)
ضعیفوں اور ناتواں لوگوں کی مدد ونصرت۔
(4)
محتاجوں فقیروں کی اعانت۔
(5)
مہمان نوازی۔
(6)
پیش آمدہ مصائب میں تعاون،
اور یہی صفات آج بھی دین کی تبلیغ اور نشر واشاعت کی ضامن ہیں،
اور مسلمان ان کو اپنا کر پوری دنیا میں دین کو غالب کر سکتے ہیں،
خاص طور پر علماء جو آپ کے وارث ہیں،
ان کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہیں۔
(5)
دوسروں کو متاثر کرنے کے لیے فیصلہ کن چیز انسان کی سیرت وکردار ہے،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدیجہ ؓ کونبوت کے تسلیم کرنے کی دعوت نہیں دی،
محض نزول وحی کا واقعہ سنایا اور اپنے اوپر گزرنے والی کیفیات سے آگاہ کیا،
اس نے خود بخود آپ کی نبوت کو تسلیم کیا،
بلکہ اپنے خیال کے مطابق آپ کو تسلی دی اور مزید اطمینان کے لیے اپنے چچا زاد کے پاس لے گئیں،
اس نے آپ کی نبوت کو تسلیم کیا اور آئندہ پیش آنے والے حالات سے آگاہ کیا اور بھر پور مدد کی یقین دہانی کرائی۔
(6)
دین کی تبلیغ اور اس کی نشر واشاعت کرنے والوں کو مصائب وآلام،
اور اپنوں کی دشمنی وعداوت سے گزرنا پڑتا ہے،
یہ میدان پھولوں کی سیج نہیں ہے،
کانٹوں بھری راہ ہے،
جس کی لیے صبر وثبات اور استقامت وپامردی کی ضرورت ہے۔
(7)
سب سے پہلے اترنے والی وحی،
سورۃ علق کی ابتدائی آیات ہیں جو غار حرا میں اتریں،
اور پھر تقریبا ڈھائی سال تک وحی کی آمد بند رہی۔
(8)
عربوں کے آداب کے مطابق بڑے کو چچا کے نام سے پکارا جاتا تھا،
ورقہ چونکہ عمر رسیدہ تھے،
اس لیے انہیں آپ کا چچا کہا۔
مفردات الحدیث:
:
(1)
الْوَحْيُ:
وحی کا لغوی معنی ہے:
انتہائی خفیہ یا پوشیدہ طریقے سے خبر دینا،
اور اس کا اطلاق اشارتاً،
کتابت،
مکتوب،
رسالہ اور الہام و القاء پر بھی ہوتا ہے۔
اور شرعی طور پر:
اس کلام کو وحی کہا جاتا ہے جو کسی نبی یا رسول پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہو۔
(2)
الرُّؤْيَا الصَّادِقَة:
سچا خواب۔
جو چیز آپ خواب میں دیکھتے،
وہ ٹھیک اسی طرح بیداری میں سامنے آ جاتی۔
(3)
فَلَق الصُّبْحِ:
سپیدہ سحر،
صبح کی روشنی،
یعنی وہ خواب بالکل واضح ہوتا،
اس میں کسی قسم کا خفا و پوشیدگی نہ ہوتی۔
(4)
حُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلَاءُ:
تنہائی اور خلوت سے محبت پیدا ہو گئی،
تاکہ پورے اطمینان،
فراغت قلبی سے سوچ و بچار کا موقع ملے،
اور مالوفات انسانی سے الگ تھلگ ہو کر دل میں خشوع و خضوع پیدا ہو۔
(5)
يَتَحَنَّثُ:
گناہ سے بچنا،
حنث گناہ کو کہتے ہیں،
اور تحنث،
گناہ سے اجتناب کو،
گویا عبادت انسان کو گناہ سے بچاتی ہے،
اس لیے اس کی تفسیر تعبد (بندگی کرنا)
سے کی گئی ہے۔
(6)
اللَّيَالِيَ أُوْلَاتِ الْعَدَدِ:
اس کام میں کئی راتیں صرف فرماتے،
کبھی کبھی پورا ماہ رمضان،
اسی طرح گزر جاتا۔
(7)
حَتَّى فَجِئَهُ الْحَقُّ:
اچانک آپ کے پاس فرشتہ وحی لے کر آ گیا،
آپ کو اس کی امید یا توقع نہ تھی۔
تقدیر اللہ کے علم کے اعتبار سے تو ہر چیز آسمان و زمین کی تخلیق سے بھی پچاس ہزار سال پہلے،
لوح محفوظ میں لکھ دی گئی ہے،
جس میں نبوت،
ولایت،
سعادت و شقاوت،
نیکی و بدی ہر چیز کا ریکارڈ ہے،
اس اعتبار سے تو آپ کیا،
ہر نبی،
ہر صحابی،
ہر ولی بلکہ ہر انسان کا مقام و مرتبہ پہلے سے متعین ہے،
لیکن ہر چیز کا ظہور اپنے مقررہ وقت پر ہوتا ہے۔
ہر انسان کی پیدائش اور موت کا وقت مقرر ہے،
لیکن اس کا ظہور اپنے اپنے وقت پر ہو گا۔
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا وقت مقرر تھا،
لیکن جب آپ کی طرف وحی کی آمد شروع ہوئی،
تو آپ نبی بن گئے،
وحی کی آمد سے پہلے آپ نبی نہیں تھے (اگرچہ تقدیر اور اللہ کے علم میں نبی تھے)
۔
اس لیے یہ کہنا:
کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ولادت کے وقت بلکہ اس وقت نبی تھے کہ جب ابھی آدم علیہ السلام پیدا بھی نہیں ہوئے تھے،
یہ درست نہیں ہے،
اگر آپ پہلے ہی نبی تھے،
تو پھر اس بحث کی ضرورت کیا ہے،
کہ آپ غار حرا میں عبادت،
کس شریعت کے مطابق کرتے تھے،
نیز جو حالات پہلی وحی کے وقت پیش آئے،
کیا وہ بعد میں بھی پیش آئے؟ جب آپ پہلے سے نبی تھے،
اور آپ کو اس کا علم تھا،
تو پھر یہ صورت حال کیوں پیش آئی۔
(8)
مَا أَنَا بِقَارِئٍ:
میں پڑھا ہوا نہیں ہوں،
اکثر علماء نے (ما)
کو نافیہ قرار دیا ہے،
اور اس کا معنی ہے "مَا أُحْسِنُ الْقِرَاءَةَ"،
میں اچھی طرح نہیں پڑھ سکتا،
اور یہ اس صورت میں ہوتا ہے،
جب کسی کو کوئی لکھی ہوئی چیز دی جائے اور کہا جائے پڑھ۔
یا ویسے ہی اسے کہا جائے پڑھ،
لیکن اگر کوئی انسان،
اس کو لفظ کی شناخت کرا کر کہے:
پڑھ! یا عبارت بول کر کہے:
اس عبارت کو دہرا،
تو وہ پڑھ سکتا ہے،
اس لیے جب فرشتے نے وحی کے الفاظ آپ کے سامنے پڑھے،
تو آپ نے بھی پیچھے پڑھ دئیے۔
بعض علماء نے اس کا معنی استفہامیہ کیا ہے،
جیسا کہ ایک روایت کے الفاظ میں (كَيْفَ أَقْرَاءُ)
”میں کیسے پڑھوں“ (میں تو اپنے طور پر پڑھ نہیں سکتا)
دوسری روایت ہے (مَاذَا أَقْرَاءُ)
”میں کیا پڑھوں۔
“ تمام متقدمین شارحین کی تصریحات کے باوجود،
اور یہ ماننے کے باوجود کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُمی تھے۔
اگر بالفرض آپ پڑھے لکھے ہوتے تو لوگوں کو آپ کی نبوت میں شک پیدا ہوتا۔
یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھنے سے انکار فرمایا،
کہ میں پڑھنے والا نہیں ہوں،
میری عبادت میں خلل پیدا ہوتا ہے،
جب چوتھی بار جبرائیل علیہ السلام نے ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾ کہا،
تب آپ کا ذہن اس طرف متوجہ ہوا کہ یہ بھی تو اسی ذات کا نام لے رہا ہے جس کے مشاہدہ اور مطالعہ میں مستغرق ہوں،
سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھ لیا،
تو کیا جب جبریل علیہ السلام نے پہلی دفعہ دبوچا تھا،
اس سے آپ کی عبادت میں خلل پیدا نہیں ہوا تھا،
اور آپ کے جواب سے آپ کی عبادت متاثر نہیں ہوئی تھی،
اور آپ تو پہلے سے نبی تھے،
تو آپ کو پہلے کیوں پتہ نہ چلا۔
(9)
حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ:
جَُهْدٌ،
جیم پر فتح اور ضمہ دونوں پڑھنا درست ہیں،
معنی ہو گا غایت (انتہا)
اور مشقت،
دال پر اگر زبر ہو تو معنی ہو گا،
جبریل نے اپنی پوری قوت صرف کر دی،
اس نے پوری طاقت سے دبایا تھا،
چونکہ وہ انسانی شکل و صورت میں تھا،
اس لیے اس میں قوت بھی انسانی تھی کوئی انسان،
ملکی قوت و طاقت کو برداشت نہیں کر سکتا،
اور نہ ہی فرشتہ کو مشقت لائق ہوتی ہے۔
اگر دال پر پیش ہو تو معنی ہو گا:
میں نے دباؤ سہنے میں اپنی پوری طاقت نچوڑ دی،
میری طاقت آخری مراحل میں داخل ہو گئی۔
ممکن ہے پہلی دفعہ:
غط (دباؤ)
دنیا کے خیالات و تفکرات سے رخ پھیرنے کے لیے ہو۔
دوسری دفعہ:
آپ کے خیالات و توجہ کو اپنی طرف مبذول کرنے کے لیے اور تیسری دفعہ:
اپنے سے مانوس کرنے کے لیے کیا ہو۔
(ارشاد الساری: 1/63) (10)
تَرْجُفُ بَوَادِرُهُ:
بَوَادِر،
بَادِرَۃٌ کی جمع ہے،
شانے کے گوشت کو کہتے ہیں،
وہ گھبراہٹ اور اضطراب کی وجہ سے ہل رہا تھا،
(11)
زَمِّلُونِي:
مجھے کپڑے میں لپیٹ دو یا مجھ پر کپڑا ڈال دو۔
(12)
الرَّوْعُ:
گھبراہٹ،
پریشانی۔
(13)
لَقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي:
فرشتے کے دباؤ اور گھبراہٹ کی بنا پر مجھے اپنی جان کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا،
اس فقرہ کا تعلق غارِ حرا،
میں گزرنے والے حالات سے ہے،
کیونکہ یہ ماضی کا صیغہ ہے،
اور اس واقعہ کی شدت کو بیان کرنا مقصود ہے۔
اگر اس کا معنی حال و استقبال کا لیا جائے جیسا کہ حضرت خدیجہ ؓ کے جواب سے محسوس ہوتا ہے،
تو پھر معنی یہ ہو گا:
”کہ مجھے خطرہ ہے کہ میں اس عہدہ اور ذمہ داری کو کما حقہ ادا نہیں کر سکوں گا،
یا اس عظیم ذمہ داری کو اٹھا نہیں سکوں گا۔
“ تو تب حضرت خدیجہ ؓ نے کہا،
اگر آپ اس ذمہ داری کے اہل نہ ہوتے یا اس کو ادا نہ کر سکتے تو یہ ذمہ داری آپ پر ڈالی ہی نہ جاتی،
آپ جیسی صفات عالیہ اور اخلاق حسنہ کے مالک کو اللہ تعالیٰ رسوا نہیں کرے گا،
جس پر ذمہ داری ڈالی جائے اور وہ اس کو ادا نہ کر سکے،
تو یہ چیز اس کے لیے ذلت و رسوائی کا باعث بنتی ہے،
اس لیے یہ ممکن نہیں کہ آپ اس ذمہ داری کو پورا نہ کر سکیں۔
(14)
تَحْمِلُ الْكَلَّ:
كَلّ،
بوجھ۔
﴿هُوَ كَلٌّ عَلَىٰ مَوْلَاهُ﴾ ”وہ اپنے آقا کے لیے بوجھ ہے۔
“ یعنی:
آپ کمزوروں،
یتیموں اور بے کسوں کی مدد و اعانت کرتے ہیں،
ان کو نان و نفقہ مہیا کرتے ہیں۔
(15)
تُكْسِبُ الْمَعْدُومَ:
كَسَبَ اور اكْسَبَ کا معنی ہوتا ہے کسی کو کما کر دینا،
معدوم،
اگر محتاج کے معنی میں ہو یعنی فقیر و تنگدست،
تو پھر معنی ہو گا:
”فقیر و قلاش کو کما کر دیتے ہیں“،
کیونکہ معدوم غیر موجود کو کہتے ہیں اور فقیر و محتاج،
لا شیء معدوم و معدم کے معنی میں آ جاتا ہے،
یا معنی ہو گا کہ آپ نایاب چیزیں دیتے ہیں۔
آپ جیسی تعلیمات اور ہدایات کہیں سے حاصل نہیں ہو سکتیں،
اس صورت میں کَسَبَ ثلاثی مجرد سے ہو گا،
اور اس کو ثلاثی مزید فیہ سے مانیں،
تو مفعول اول محذوف ہو گا اور معدوم کا موصوف بھی محذوف ہو گا۔
تُكْسِبُ غَيْرَكَ الْمَالَ الْمَعْدُوْمَ:
”دوسروں کو نایاب مال کما کر دیتے ہیں۔
“ (16)
نَوَائِبُ الْحَقِّ:
نَوَائِبٌ،
نَائِبَةٌ کی جمع ہے،
حادثہ اور مصیبت کو کہتے ہیں،
کہ اگر کسی کو حق کی بنا پر مصیبت سے دوچار ہونا پڑے،
تو آپ اس کی اعانت کرتے ہیں،
غلط کاموں میں مدد نہیں کرتے۔
(17)
تَنَصَّرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ:
آپ کی بعثت سے پہلے اس نے عیسائیت اختیار کر لی تھی۔
(18)
نَامُوسٌ:
رازداں،
خیر کے رازداں کو ناموس اور شر کے رازداں کو جاسوس کہتے ہیں۔
(19)
الْجَذَعُ:
طاقتور نوجوان۔
(20)
نَصْرًا مُؤَزَّرًا:
مضبوط اور قوی مدد،
بھرپور طور پر ساتھ دینا۔
فوائد ومسائل:
(1)
وحی کی آمد سے پہلے آپ کو اس کے لیے تیار کیا گیا،
آپ کے دل میں یکسوئی اور خلوت گزینی کی محبت پیدا کی گئی،
تاکہ آپ الگ تھلگ ہو کر یکسوئی کےساتھ غور وفکر کے عادی بن جائیں،
اور لوگوں سے میل جول کم ہوجائے،
دل کے اندر صفائی پیدا ہوجائے۔
(2)
سچے خوابوں کے ذریعہ رشد وہدایت کی طرف رہنمائی کی گئی ہے کہ طلوع شمس سے پہلے سے سپیدہ سحر نمودار ہوتا ہے۔
(3)
جبرئیل علیہ السلام اچانک وحی لے کر آئے اور ایسا رویہ اختیار کیا کہ آئندہ وحی کا تحمل آسان ہوجائے،
اور کچھ عرصہ کے لیے وحی بند ہوگئی،
تا کہ آپ کے دل میں اس کے حصول کی محبت وشوق بڑھے۔
محبوب چیز ایک دفعہ حاصل ہوجائے،
پھر چھن جائے تو پھر اس کے حصول کا اشتیاق بہت بڑھ جاتا ہے،
اس بنا پر وحی کی بندش کے دور میں آپ غمگین ہوجاتے تھے اورجبریل علیہ السلام سامنے آکر آپ کے غم وحزن کو ہلکا کرتے تھے۔
(4)
حضر ت خدیجہ ؓ نے آپ کی چھ صفات کمال بیان کی ہیں،
جو آپ کی کامیابی وکامرانی کی ضامن تھیں:
(1)
صلہ رحمی۔
(2)
صدق مقال۔
(3)
ضعیفوں اور ناتواں لوگوں کی مدد ونصرت۔
(4)
محتاجوں فقیروں کی اعانت۔
(5)
مہمان نوازی۔
(6)
پیش آمدہ مصائب میں تعاون،
اور یہی صفات آج بھی دین کی تبلیغ اور نشر واشاعت کی ضامن ہیں،
اور مسلمان ان کو اپنا کر پوری دنیا میں دین کو غالب کر سکتے ہیں،
خاص طور پر علماء جو آپ کے وارث ہیں،
ان کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہیں۔
(5)
دوسروں کو متاثر کرنے کے لیے فیصلہ کن چیز انسان کی سیرت وکردار ہے،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدیجہ ؓ کونبوت کے تسلیم کرنے کی دعوت نہیں دی،
محض نزول وحی کا واقعہ سنایا اور اپنے اوپر گزرنے والی کیفیات سے آگاہ کیا،
اس نے خود بخود آپ کی نبوت کو تسلیم کیا،
بلکہ اپنے خیال کے مطابق آپ کو تسلی دی اور مزید اطمینان کے لیے اپنے چچا زاد کے پاس لے گئیں،
اس نے آپ کی نبوت کو تسلیم کیا اور آئندہ پیش آنے والے حالات سے آگاہ کیا اور بھر پور مدد کی یقین دہانی کرائی۔
(6)
دین کی تبلیغ اور اس کی نشر واشاعت کرنے والوں کو مصائب وآلام،
اور اپنوں کی دشمنی وعداوت سے گزرنا پڑتا ہے،
یہ میدان پھولوں کی سیج نہیں ہے،
کانٹوں بھری راہ ہے،
جس کی لیے صبر وثبات اور استقامت وپامردی کی ضرورت ہے۔
(7)
سب سے پہلے اترنے والی وحی،
سورۃ علق کی ابتدائی آیات ہیں جو غار حرا میں اتریں،
اور پھر تقریبا ڈھائی سال تک وحی کی آمد بند رہی۔
(8)
عربوں کے آداب کے مطابق بڑے کو چچا کے نام سے پکارا جاتا تھا،
ورقہ چونکہ عمر رسیدہ تھے،
اس لیے انہیں آپ کا چچا کہا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 403]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3632
باب
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ پہلی وہ چیز جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ابتداء ہوئی اور جس وقت اللہ نے اپنے اعزاز سے آپ کو نوازنے اور آپ کے ذریعہ بندوں پر اپنی رحمت و بخشش کا ارادہ کیا وہ یہ تھی کہ آپ جو بھی خواب دیکھتے تھے اس کی تعبیر صبح کے پو پھٹنے کی طرح ظاہر ہو جاتی تھی ۱؎، پھر آپ کا حال ایسا ہی رہا جب تک اللہ نے چاہا، ان دنوں خلوت و تنہائی آپ کو ایسی مرغوب تھی کہ اتنی مرغوب کوئی اور چیز نہ تھی۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3632]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ پہلی وہ چیز جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ابتداء ہوئی اور جس وقت اللہ نے اپنے اعزاز سے آپ کو نوازنے اور آپ کے ذریعہ بندوں پر اپنی رحمت و بخشش کا ارادہ کیا وہ یہ تھی کہ آپ جو بھی خواب دیکھتے تھے اس کی تعبیر صبح کے پو پھٹنے کی طرح ظاہر ہو جاتی تھی ۱؎، پھر آپ کا حال ایسا ہی رہا جب تک اللہ نے چاہا، ان دنوں خلوت و تنہائی آپ کو ایسی مرغوب تھی کہ اتنی مرغوب کوئی اور چیز نہ تھی۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3632]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی جو خواب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے وہ بالکل واضح طور پر پورا ہو جاتا تھا،
یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ابتدائی حالت تھی،
پھر کلامی وحی کا سلسلہ ﴿إِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ﴾ سے شروع ہو گیا۔
وضاحت:
1؎:
یعنی جو خواب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے وہ بالکل واضح طور پر پورا ہو جاتا تھا،
یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ابتدائی حالت تھی،
پھر کلامی وحی کا سلسلہ ﴿إِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ﴾ سے شروع ہو گیا۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3632]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4955
4955. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”شروع شروع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچے خواب دکھائے جانے لگے۔ پھر آپ کے پاس فرشتہ آیا اور آپ سے کہا: آپ پڑھیں اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا۔ اس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا۔ آپ پڑھیں، آپ کا رب بڑا کریم ہے۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4955]
حدیث حاشیہ:
اسی پہلی وحی میں آپ کو تحصیل علم کی رغبت دلائی گئی۔
ساتھ ہی انسان کی خلقت کو بتلایا گیا۔
جس میں اشارہ تھا کہ انسان کا فرض اولین یہ ہے کہ پہلے اپنے رب کی معرفت حاصل کرے پھر خود اپنے وجود کو اور اپنے نفس کو پہچانے۔
تحصیل علم کے آداب پر بھی اس میں لطیف اشارے ہیں۔
تدبروا یا أولی الألباب۔
اسی پہلی وحی میں آپ کو تحصیل علم کی رغبت دلائی گئی۔
ساتھ ہی انسان کی خلقت کو بتلایا گیا۔
جس میں اشارہ تھا کہ انسان کا فرض اولین یہ ہے کہ پہلے اپنے رب کی معرفت حاصل کرے پھر خود اپنے وجود کو اور اپنے نفس کو پہچانے۔
تحصیل علم کے آداب پر بھی اس میں لطیف اشارے ہیں۔
تدبروا یا أولی الألباب۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4955]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4955
4955. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”شروع شروع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچے خواب دکھائے جانے لگے۔ پھر آپ کے پاس فرشتہ آیا اور آپ سے کہا: آپ پڑھیں اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا۔ اس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا۔ آپ پڑھیں، آپ کا رب بڑا کریم ہے۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4955]
حدیث حاشیہ:
1۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو انتہائی اختصار سے بیان کیا ہے۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
”میرے خیال کے مطابق امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے شیخ یحییٰ بن بکیر نے بھی آپ کو اس طرح بیان نہیں کیا ہو گا۔
اور نہ انھوں نے اس قسم کا اختصار ہی کیا ہے بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا تصرف ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اس قسم کے اختصارکو جائز سمجھتے ہیں۔
“ (فتح الباري: 8\923)
2۔
بہر حال امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ مذکورہ آیت کے متعلق بتانا چاہتے ہیں کہ وہ کس پس منظر میں نازل ہوئی تھی۔
1۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو انتہائی اختصار سے بیان کیا ہے۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
”میرے خیال کے مطابق امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے شیخ یحییٰ بن بکیر نے بھی آپ کو اس طرح بیان نہیں کیا ہو گا۔
اور نہ انھوں نے اس قسم کا اختصار ہی کیا ہے بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا تصرف ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اس قسم کے اختصارکو جائز سمجھتے ہیں۔
“ (فتح الباري: 8\923)
2۔
بہر حال امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ مذکورہ آیت کے متعلق بتانا چاہتے ہیں کہ وہ کس پس منظر میں نازل ہوئی تھی۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4955]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4956
4956. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا آغاز سچے خوابوں سے ہوا۔ آپ کے پاس فرشتہ آیا اور کہا: ”پڑھیے! اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ اس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا، پڑھیے، آپ کا رب بہت کریم ہے جس نے بذریعہ قلم تعلیم دی۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4956]
حدیث حاشیہ:
1۔
اللہ تعالیٰ اکرم اس اعتبار سے ہے کہ اس نے انسان کی پیدائش سے پہلے ہی اس کی زندگی اوراس کی بقا کے لیے وہ تمام اسباب مہیا کر دیے جو اس کے لیے ضروری تھے پھر اللہ تعالیٰ نے اس اسباب کو استعمال کرنے کا طریقہ بھی انسان کی فطرت میں رکھ دیا۔
اسی اکرم کا نام لے کر آپ پڑھیں۔
2۔
اللہ تعالیٰ انسان کے لیے زندگی کے ہر پہلو کے اعتبار سے اکرم ہے وہ اس اعتبار سے بھی اکرم ہے کہ اس نے انسان کو قلم کے استعمال کا طریقہ سکھایا جس سے علم کی وسیع پیمانے پر اشاعت ہو سکتی ہے اور لکھی ہوئی چیز کسی عالم کی موت کے بعد برقرار رہتی ہے اور نسل در نسل منتقل ہوتی چلی جاتی ہے۔
1۔
اللہ تعالیٰ اکرم اس اعتبار سے ہے کہ اس نے انسان کی پیدائش سے پہلے ہی اس کی زندگی اوراس کی بقا کے لیے وہ تمام اسباب مہیا کر دیے جو اس کے لیے ضروری تھے پھر اللہ تعالیٰ نے اس اسباب کو استعمال کرنے کا طریقہ بھی انسان کی فطرت میں رکھ دیا۔
اسی اکرم کا نام لے کر آپ پڑھیں۔
2۔
اللہ تعالیٰ انسان کے لیے زندگی کے ہر پہلو کے اعتبار سے اکرم ہے وہ اس اعتبار سے بھی اکرم ہے کہ اس نے انسان کو قلم کے استعمال کا طریقہ سکھایا جس سے علم کی وسیع پیمانے پر اشاعت ہو سکتی ہے اور لکھی ہوئی چیز کسی عالم کی موت کے بعد برقرار رہتی ہے اور نسل در نسل منتقل ہوتی چلی جاتی ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4956]
Sahih Muslim Hadith 403 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق