صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
74. باب الإسراء برسول الله صلى الله عليه وسلم إلى السموات وفرض الصلوات:
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آسمانوں پر تشریف لے جانا (یعنی معراج) اور نمازوں کا فرض ہونا۔
ترقیم عبدالباقی: 162 ترقیم شاملہ: -- 413
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ، فَأَخَذَهُ فَصَرَعَهُ، فَشَقَّ عَنْ قَلْبِهِ، فَاسْتَخْرَجَ الْقَلْبَ، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ عَلَقَةً، فَقَالَ: هَذَا حَظُّ الشَّيْطَانِ مِنْكَ، ثُمَّ غَسَلَهُ فِي طَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ بِمَاءِ زَمْزَمَ، ثُمَّ لَأَمَهُ، ثُمَّ أَعَادَهُ فِي مَكَانِهِ، وَجَاءَ الْغِلْمَانُ يَسْعَوْنَ إِلَى أُمِّهِ يَعْنِي ظِئْرَهُ، فَقَالُوا: إِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ قُتِلَ، فَاسْتَقْبَلُوهُ وَهُوَ مُنْتَقِعُ اللَّوْنِ، قَالَ أَنَسٌ: وَقَدْ كُنْتُ أَرَى أَثَرَ ذَلِكَ الْمِخْيَطِ فِي صَدْرِهِ "
(سلیمان بن مغیرہ کے بجائے) حماد بن سلمہ نے ثابت کے واسطے سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبریل آئے جبکہ آپ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے، انہوں نے آپ کو پکڑا، نیچے لٹایا، آپ کا سینہ چاک کیا اور دل نکال لیا، پھر اس سے ایک لوتھڑا نکالا اور کہا: ”یہ آپ (کے دل میں) سے شیطان کا حصہ تھا۔“ پھر اس (دل) کو سونے کے طشت میں زمزم کے پانی سے دھویا، پھر اس کو جوڑا اور اس کی جگہ پر لوٹا دیا، بچے دوڑتے ہوئے آپ کی والدہ، یعنی آپ کی رضاعی ماں کے پاس آئے اور کہا: ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیا گیا ہے۔“ (یہ سن کر لوگ دوڑے) تو آپ کے سامنے سے آتے ہوئے پایا، آپ کا رنگ بدلا ہوا تھا، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں اس سلائی کا نشان آپ کے سینے پر دیکھا کرتا تھا۔“ (یہ بچپن کا شق صدر ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 413]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبریل علیہ السلام اس وقت آئے جب کہ آپ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑ کر گرایا اور آپ کا سینہ چاک کر کے دل نکال لیا، پھر اس سے جما ہوا خون نکالا اور کہا: یہ آپ میں شیطان کا حصہ تھا۔ پھر اس کو سونے کے تھال (طشت) میں رکھ کر زمزم کے پانی سے دھویا، پھر اس کو (دل کو) جوڑا اور اس کی جگہ پر لوٹا دیا، اور بچے دوڑتے ہوئے آپ کی والدہ یعنی آپ کی انا (رضاعی ماں) کے پاس آئے اور کہا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیا گیا ہے (یہ سن کر لوگ آئے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگے سے ملے اور آپ کا رنگ (خوف یا گھبراہٹ کی بنا پر) بدل چکا ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اس سلائی کا نشان آپ کے سینہ پر دیکھا کرتا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 413]
ترقیم فوادعبدالباقی: 162
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (346)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← ثابت بن أسلم البناني | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥شيبان بن أبي شيبة الحبطي، أبو محمد شيبان بن أبي شيبة الحبطي ← حماد بن سلمة البصري | صدوق حسن الحديث |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 413 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 413
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
:
(1)
لَأَمَ:
جمع کیا،
ملا دیا۔
(2)
ظِئْرَ:
دودھ پلانے والی۔
(3)
مُنْتَقِعُ اللَّوْنِ:
رنگ کا خوف و حزن کی بنا پر فق ہو جانا۔
(4)
مِخْيَط:
سوئی،
سینے کا آلہ۔
فوائد ومسائل:
بچپن میں شق صدر کا واقعہ اس وقت پیش آیا،
جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر چار یا پانچ سال تھی،
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دایہ مائی حلیمہ کے پاس بنو سعد ہی میں رہ رہے تھے۔
مفردات الحدیث:
:
(1)
لَأَمَ:
جمع کیا،
ملا دیا۔
(2)
ظِئْرَ:
دودھ پلانے والی۔
(3)
مُنْتَقِعُ اللَّوْنِ:
رنگ کا خوف و حزن کی بنا پر فق ہو جانا۔
(4)
مِخْيَط:
سوئی،
سینے کا آلہ۔
فوائد ومسائل:
بچپن میں شق صدر کا واقعہ اس وقت پیش آیا،
جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر چار یا پانچ سال تھی،
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دایہ مائی حلیمہ کے پاس بنو سعد ہی میں رہ رہے تھے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 413]
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري