صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
10. باب صحة الإقرار بالقتل وتمكين ولي القتيل من القصاص واستحباب طلب العفو منه:
باب: قتل کا اقرار صحیح ہے اور قاتل کو مقتول کے ولی کے حوالہ کر دیں گے اور اس سے معافی کی درخواست کرنا مستحب ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1680 ترقیم شاملہ: -- 4388
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ قَتَلَ رَجُلًا، فَأَقَادَ وَلِيَّ الْمَقْتُولِ مِنْهُ، فَانْطَلَقَ بِهِ، وَفِي عُنُقِهِ نِسْعَةٌ يَجُرُّهَا، فَلَمَّا أَدْبَرَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ "، فَأَتَى رَجُلٌ الرَّجُلَ، فَقَالَ لَهُ: مَقَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَلَّى عَنْهُ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِحَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَشْوَعَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا سَأَلَهُ أَنْ يَعْفُوَ عَنْهُ فَأَبَى.
اسماعیل بن سالم نے علقمہ بن وائل سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس نے کسی شخص کو قتل کیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کے ولی کو اس سے قصاص لینے کا حق دیا، وہ اسے لے کر چلا جبکہ اس کی گردن میں چمڑے کا ایک مینڈھی نما رسہ تھا جسے وہ کھینچ رہا تھا، جب اس نے پشت پھیری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قاتل اور مقتول (دونوں) آگ میں ہیں۔“ (یہ سن کر) ایک آدمی اس (ولی) کے پاس آیا اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات بتائی تو اس نے اسے چھوڑ دیا۔ اسماعیل بن سالم نے کہا: میں نے یہ حدیث حبیب بن ثابت سے بیان کی تو انہوں نے کہا: مجھے ابن اشوع نے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (ولی) سے مطالبہ کیا تھا کہ اسے معاف کر دے تو اس نے انکار کر دیا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات/حدیث: 4388]
حضرت وائل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ایسا آدمی لایا گیا، جس نے دوسرے آدمی کو قتل کر ڈالا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کے ولی کو اس سے قصاص لینے کا حکم دے دیا، وہ اسے لے کر چلا اور قاتل کی گردن میں ایک تسمہ تھا، جس سے وہ اسے کھینچ رہا تھا، جب وارث نے پشت پھیر لی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قاتل اور مقتول دونوں دوزخ میں ہوں گے۔“ تو ایک آدمی نے آ کر وارث آدمی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات بتائی، تو اس نے اس کو چھوڑ دیا، اسماعیل بن سالم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث حبیب بن ابی ثابت رحمہ اللہ کو بتائی، تو انہوں نے کہا: مجھے ابن اشوع رحمہ اللہ نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ولیِ مقتول سے معاف کرنے کی سفارش کی تھی اور اس نے انکار کر دیا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات/حدیث: 4388]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1680
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥وائل بن حجر الحضرمي، أبو هنيد، أبو هنيدة | صحابي | |
👤←👥علقمة بن وائل الحضرمي علقمة بن وائل الحضرمي ← وائل بن حجر الحضرمي | ثقة | |
👤←👥إسماعيل بن سالم الأسدي، أبو يحيى إسماعيل بن سالم الأسدي ← علقمة بن وائل الحضرمي | ثقة ثبت | |
👤←👥هشيم بن بشير السلمي، أبو معاوية هشيم بن بشير السلمي ← إسماعيل بن سالم الأسدي | ثقة ثبت كثير التدليس والإرسال الخفي | |
👤←👥سعيد بن سليمان الضبي، أبو عثمان سعيد بن سليمان الضبي ← هشيم بن بشير السلمي | ثقة حافظ | |
👤←👥محمد بن حاتم السمين، أبو عبد الله محمد بن حاتم السمين ← سعيد بن سليمان الضبي | صدوق ربما وهم وكان فاضلا |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4388 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4388
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قاتل اور مقتول دونوں کو دوزخی قرار دیا،
یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بات عمومی انداز میں فرمائی تھی،
کیونکہ عام طور پر دونوں فریق ایک دوسرے کے قتل کے درپے ہوتے ہیں اور دونوں اس کے لیے،
ایک دوسرے پر وار کرتے ہیں،
لیکن ایک کامیاب ہو جاتا ہے اور دوسرا اپنے عزم و قصد میں ناکام رہتا ہے،
اس لیے دونوں اپنے مقصد اور عزم کی بناء پر،
سزا کے مستحق ٹھہرتے ہیں،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات عمومی انداز میں تعریض و کنایہ کے طور پر فرمائی تھی تاکہ وہ معاف کرنے پر جس کے لیے وہ تیار نہیں تھا،
آمادہ ہو جائے اور ایسے ہی ہوا،
اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سن کر قاتل کو چھوڑ دیا اور ان الفاظ کا مقصد بھی وہی ہے،
ان قتله فهو مثله،
لیکن راوی نے،
روایت بالمعنی کی بناء پر اس کو یوں تعبیر کر دیا ہے اور یہ بھی ممکن ہے،
جیسا کہ اوپر کی روایت میں گزرا ہے،
قاتل نے تو اپنے گناہ کے سبب دوزخ میں جانا تھا اور ولی نے اپنے گناہوں کی سزا میں،
لیکن معاف کرنے کی صورت میں ولی کے گناہ،
اس معافی کی بناء پر معاف ہو جاتے،
اس لیے وہ دوزخ سے بچ جاتا،
اس لیے آپ اس کو مختلف طریقوں سے معافی کی ترغیب دے رہے تھے اور آخر کار وہ معاف کرنے کے لیے تیار ہو گیا اور اس نے معاف کر دیا۔
فوائد ومسائل:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قاتل اور مقتول دونوں کو دوزخی قرار دیا،
یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بات عمومی انداز میں فرمائی تھی،
کیونکہ عام طور پر دونوں فریق ایک دوسرے کے قتل کے درپے ہوتے ہیں اور دونوں اس کے لیے،
ایک دوسرے پر وار کرتے ہیں،
لیکن ایک کامیاب ہو جاتا ہے اور دوسرا اپنے عزم و قصد میں ناکام رہتا ہے،
اس لیے دونوں اپنے مقصد اور عزم کی بناء پر،
سزا کے مستحق ٹھہرتے ہیں،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات عمومی انداز میں تعریض و کنایہ کے طور پر فرمائی تھی تاکہ وہ معاف کرنے پر جس کے لیے وہ تیار نہیں تھا،
آمادہ ہو جائے اور ایسے ہی ہوا،
اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سن کر قاتل کو چھوڑ دیا اور ان الفاظ کا مقصد بھی وہی ہے،
ان قتله فهو مثله،
لیکن راوی نے،
روایت بالمعنی کی بناء پر اس کو یوں تعبیر کر دیا ہے اور یہ بھی ممکن ہے،
جیسا کہ اوپر کی روایت میں گزرا ہے،
قاتل نے تو اپنے گناہ کے سبب دوزخ میں جانا تھا اور ولی نے اپنے گناہوں کی سزا میں،
لیکن معاف کرنے کی صورت میں ولی کے گناہ،
اس معافی کی بناء پر معاف ہو جاتے،
اس لیے وہ دوزخ سے بچ جاتا،
اس لیے آپ اس کو مختلف طریقوں سے معافی کی ترغیب دے رہے تھے اور آخر کار وہ معاف کرنے کے لیے تیار ہو گیا اور اس نے معاف کر دیا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4388]
Sahih Muslim Hadith 4388 in Urdu
علقمة بن وائل الحضرمي ← وائل بن حجر الحضرمي