🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
77. باب معنى قول الله عز وجل: {ولقد رآه نزلة اخرى} وهل راى النبي صلى الله عليه وسلم ربه ليلة الإسراء:
باب: اس باب میں یہ بیان ہے کہ «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى» سے کیا مراد ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق تعالیٰ جل جلالہ کو معراج کی رات میں دیکھا تھا یا نہیں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 177 ترقیم شاملہ: -- 440
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ وَزَادَ، قَالَتْ: " وَلَوْ كَانَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَاتِمًا شَيْئًا مِمَّا أُنْزِلَ عَلَيْهِ، لَكَتَمَ هَذِهِ الآيَةَ وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَاهُ سورة الأحزاب آية 37 "،
(اسماعیل کے بجائے) عبدالوہاب نے کہا: ہمیں داود نے اسی طرح حدیث سنائی (اسماعیل بن ابراہیم) ابن علیہ سے بیان کی اور اس میں اضافہ کیا کہ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) فرمایا: اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کسی ایک چیز کو جو آپ پر نازل کی گئی، چھپانے والے ہوتے، تو آپ یہ آیت چھپا لیتے: «وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَاهُ» اور جب آپ اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے انعام فرمایا اور آپ نے (بھی) انعام فرمایا کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس روکے رکھو اور اللہ سے ڈرو اور آپ اپنے جی میں وہ ہر چیز چھپا رہے تھے جسے اللہ ظاہر کرنا چاہتا تھا، آپ لوگوں (کے طعن و تشنیع) سے ڈر رہے تھے، حالانکہ اللہ ہی سب سے زیادہ حقدار ہے کہ آپ اس سے ڈریں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 440]
اور اسی سند سے ابن علیہ رحمہ اللہ جیسی حدیث بیان کرتے ہیں اور جس میں یہ اضافہ ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کچھ اتارا گیا ہے، اس کو چھپانے والے ہوتے تو یہ آیت چھپا لیتے: «وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِيٓ أَنْعَمَ ٱللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَٱتَّقِ ٱللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا ٱللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى ٱلنَّاسَ وَٱللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَىٰهُ» (الأحزاب: 37) اس وقت کو یاد کرو! جب آپ اس شخص سے جس پر اللہ نے احسان فرمایا اور آپ نے انعام فرمایا، کہہ رہے تھے، اللہ سے ڈرو اور اپنی بیوی کو اپنے پاس روکے رکھو، اور آپ اپنے جی میں وہ چیز چھپا رہے تھے جسے اللہ ظاہر کرنا چاہتا تھا۔ آپ لوگوں کے (طعن و تشنیع) سے ڈر رہے تھے، حالانکہ ڈرنے کا حق دار اللہ ہی ہے کہ آپ اس سے ڈریں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 440]
ترقیم فوادعبدالباقی: 177
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (438)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥داود بن أبي هند القشيري، أبو محمد، أبو بكرثقة متقن
👤←👥عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي، أبو محمد
Newعبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي ← داود بن أبي هند القشيري
ثقة
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي
ثقة ثبت
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 440 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 440
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
جس پر اللہ اور آپ نے انعام فرمایا اس سے مراد:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متبنیٰ حضرت زید بن حارثہؓ ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی شادی اپنی پھوپھی زاد حضرت زینب بنت جحشؓ سے کی،
جو انتہائی حسین وجمیل تھیں،
اور قریشی ہونے کی بنا پر اس شادی پر آمادہ نہ تھیں۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے فیصلہ کو حتمی قرار دیا،
جس کی بنا پر وہ راضی ہوگئیں،
لیکن وہ اپنے حسن وجمال اور اپنے حسب ونسب کی بلندی کی بنا پر،
حضرت زیدؓ کو وہ اہمیت نہ دیتی تھیں جس کے وہ خاوند ہونے کی بنا پر حق دار تھے،
اس لیے میاں بیوی میں بحث وتکرار رہتی تھی۔
حضرت زیدؓ اس نتیجہ پر پہنچ چکے تھے،
کہ میرا ان سے نباہ ممکن نہیں ہے،
اس لیے مجھے اس کوطلاق دے دینی چاہیے۔
اس کے لیے حضرت زیدؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشورہ کیا،
اللہ تعالیٰ نے حضرت زیدؓ کے حوالہ سے جس طرح متبنی ٰ بنانے کی رسم اور جاہلیت کی اس بات کو ختم کیا،
کہ اسے اصل بیٹے کی حیثیت حاصل ہے،
اسی طرح جاہلیت کی اس رسم کو بھی ختم کرنا چاہا کہ متبنیٰ کی بیوی کی بیوی سے شادی نہیں ہو سکتی،
اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کر دیا کہ حضرت زیدؓ اپنی بیوی کو طلاق دیں گے،
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے شادی فرمائیں گے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اندیشہ تھا،
کہ اگر میں نے زینبؓ سے شادی کر لی،
تو کافروں اور منافقوں کو میرے خلاف طعن وتشنیع کا طوفان اٹھانے کا موقع ملے گا۔
لوگ کہیں گے:
یہ کیسا نبی ہے،
جس نے اپنے منہ بولے بیٹے کی بیوی اور اپنی بہو سے نکاح کر لیا ہے۔
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے،
کہ حضرت زیدؓ طلاق نہ دیں،
تاکہ میرے نکاح کی نوبت ہی پیش نہ آئے۔
لیکن چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری رسول ہیں،
اس لیے اگر اس مسئلہ کا حل آپ کی شریعت میں نہ کر دیا جاتا،
تو قیامت تک یہ رسم ختم نہیں ہو سکتی تھی۔
اس لیے اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا یہی تھا کہ حضرت زیدؓ اپنی بیوی کو طلاق دیں،
اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے شادی کر لیں،
اور آپ کا یہ فعل مسلمانوں کے لیے اس بات کی دلیل وحجت بنے،
کہ منہ بولا بیٹا،
جس طرح حقیقی بیٹا نہیں ہے،
اس طرح اس کی بیوی حقیقی بہو نہیں ہے،
کہ اس سے شادی نہ ہو سکے۔
تنبیہ:
اس واقعہ سے یہ استدلال کرنا،
کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم غیب حاصل ہے،
کیونکہ آپ کو معلوم تھا کہ انجام کار کیا ہونا درست نہیں ہے،
کیونکہ اگر آپ کوانجام کار کا پتہ تھا،
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زیدؓ کو طلاق دینے سے کیوں روکا؟ اور لوگوں کے طعن وتشنیع کا اندیشہ کیوں محسوس کیا؟ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم اور فیصلہ کی پابندی لازم ہے،
اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ آپ امتی کی جان اورمال کے مالک اور مختار ہیں۔
اگر یہ بات ہوتی تو حضرت بریرہؓ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت مغیثؓ کے نکاح میں رہنے کا کہا تھا،
آپ یہ نہ فرماتے:
یہ میرا مشورہ ہے جس کا ماننا یا نہ ماننا تیرے اختیار میں ہے۔
اس نے عرض کیا اگر آپ کا حکم اور فیصلہ ہے تو سر آنکھوں پر،
اگر مشورہ ہے تو میں مغیثؓ کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔
کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشورہ کی پابندی لازم نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 440]