صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
5. باب مَنِ اعْتَرَفَ عَلَى نَفْسِهِ بِالزِّنَا:
باب: جو شخص زنا کا اعتراف کر لے اس کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1696 ترقیم شاملہ: -- 4434
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ابان عطار نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4434]
یہی روایت امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور استاد سے یحییٰ بن ابی کثیر کی مذکورہ بالا سند سے ہی بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4434]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1696
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر | ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل | |
👤←👥أبان بن يزيد العطار، أبو يزيد أبان بن يزيد العطار ← يحيى بن أبي كثير الطائي | ثقة | |
👤←👥عفان بن مسلم الباهلي، أبو عثمان عفان بن مسلم الباهلي ← أبان بن يزيد العطار | ثقة ثبت | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← عفان بن مسلم الباهلي | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4434 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4434
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
(1)
بعض حضرات کے نزدیک یہ غامدیہ عورت ہی کا واقعہ ہے،
کیونکہ یہ خاندان قبیلہ جہینہ سے تعلق رکھتا ہے،
لیکن حافظ ابن حجر کے نزدیک یہ دو الگ الگ واقعات ہیں،
اس لیے یہاں عورت کے سرپرست کو یہ کہا گیا ہے کہ اس کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا،
کہیں غیرت میں آ کر اسے تنگ نہ کرنا،
کیونکہ خاندان کی بے عزتی کی بنا پر خاندان کے لوگ اس سے برا سلوک کر سکتے تھے،
نیز یہاں سرپرست کو کہا گیا ہے کہ وضع حمل کے بعد اس کو لے کر آنا،
جو اس بات کی دلیل ہے،
اس کا خاندان بچہ کی رضاعت کا انتظام کر سکتا تھا جبکہ غامدیہ عورت کے لیے کسی اور کو بچہ کی تربیت و کفالت کی ذمہ داری سونپی گئی تھی اور رجم کرتے وقت کپڑے باندھے گئے تاکہ پردہ دری نہ ہو،
اس لیے ائمہ کا اتفاق ہے کہ عورت کو بٹھا کر رجم کیا جائے گا اور مرد کو اکثر ائمہ کے نزدیک کھڑا کر کے رجم کیا جائے گا اور امام مالک کے نزدیک بٹھا کر اور بقول بعض امام کو اختیار ہے۔
(2)
امام شافعی اور امام مالک کے ماننے والوں کے ہاں رجم کے وقت امام کا حاضر ہونا ضروری نہیں ہے،
ہاں بقول ابن حجر مستحب ہے،
فتح الباری،
ج 12،
ص 154۔
اور نہ یہ ضروری ہے کہ وہ پتھر مارنے کا آغاز کرے،
امام ابو حنیفہ اور امام احمد کے نزدیک اگر رجم شہادت سے ثابت ہوا ہے تو ضروری ہے،
شاہد (گواہ)
رجم کا آغاز کریں اور اگر اقرار سے ثابت ہوا ہے تو امام آغاز کرے،
علامہ تقی نے بعض ائمہ احناف سے،
استحباب نقل کیا ہے اور خود بھی اس کو اختیار کیا ہے۔
(تکملہ ج 2،
ص 457)
فوائد ومسائل:
(1)
بعض حضرات کے نزدیک یہ غامدیہ عورت ہی کا واقعہ ہے،
کیونکہ یہ خاندان قبیلہ جہینہ سے تعلق رکھتا ہے،
لیکن حافظ ابن حجر کے نزدیک یہ دو الگ الگ واقعات ہیں،
اس لیے یہاں عورت کے سرپرست کو یہ کہا گیا ہے کہ اس کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا،
کہیں غیرت میں آ کر اسے تنگ نہ کرنا،
کیونکہ خاندان کی بے عزتی کی بنا پر خاندان کے لوگ اس سے برا سلوک کر سکتے تھے،
نیز یہاں سرپرست کو کہا گیا ہے کہ وضع حمل کے بعد اس کو لے کر آنا،
جو اس بات کی دلیل ہے،
اس کا خاندان بچہ کی رضاعت کا انتظام کر سکتا تھا جبکہ غامدیہ عورت کے لیے کسی اور کو بچہ کی تربیت و کفالت کی ذمہ داری سونپی گئی تھی اور رجم کرتے وقت کپڑے باندھے گئے تاکہ پردہ دری نہ ہو،
اس لیے ائمہ کا اتفاق ہے کہ عورت کو بٹھا کر رجم کیا جائے گا اور مرد کو اکثر ائمہ کے نزدیک کھڑا کر کے رجم کیا جائے گا اور امام مالک کے نزدیک بٹھا کر اور بقول بعض امام کو اختیار ہے۔
(2)
امام شافعی اور امام مالک کے ماننے والوں کے ہاں رجم کے وقت امام کا حاضر ہونا ضروری نہیں ہے،
ہاں بقول ابن حجر مستحب ہے،
فتح الباری،
ج 12،
ص 154۔
اور نہ یہ ضروری ہے کہ وہ پتھر مارنے کا آغاز کرے،
امام ابو حنیفہ اور امام احمد کے نزدیک اگر رجم شہادت سے ثابت ہوا ہے تو ضروری ہے،
شاہد (گواہ)
رجم کا آغاز کریں اور اگر اقرار سے ثابت ہوا ہے تو امام آغاز کرے،
علامہ تقی نے بعض ائمہ احناف سے،
استحباب نقل کیا ہے اور خود بھی اس کو اختیار کیا ہے۔
(تکملہ ج 2،
ص 457)
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4434]
Sahih Muslim Hadith 4434 in Urdu
أبان بن يزيد العطار ← يحيى بن أبي كثير الطائي