🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
80. باب إثبات رؤية المؤمنين في الآخرة ربهم سبحانه وتعالى:
باب: اللہ تعالیٰ کا دیدار مؤمنوں کو آخرت میں ہو گا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 180 ترقیم شاملہ: -- 448
حَدَّثَنَا نَصْر بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، وأَبُو غَسَّانَ الْمَسْمَعِيُّ ، وإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ الصَّمَدِ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي غَسَّانَ، قَال: حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " جَنَّتَانِ مِنْ فِضَّةٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا، وَجَنَّتَانِ مِنْ ذَهَبٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا، وَمَا بَيْنَ الْقَوْمِ وَبَيْنَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى رَبِّهِمْ، إِلَّا رِدَاءُ الْكِبْرِيَاءِ، عَلَى وَجْهِهِ فِي جَنَّةِ عَدْنٍ ".
عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو جنتیں چاندی کی ہیں، ان کے برتن بھی اور جو کچھ ان میں ہے (وہ بھی۔) اور دو جنتیں سونے کی ہیں، ان کے برتن بھی اور جو کچھ ان میں ہے۔ جنت عدن میں لوگوں کے اور ان کے رب کی رؤیت کے درمیان اس کے چہرے پر عظمت و کبریائی کی جو چادر ہے، اس چادر کے سوا کوئی چیز نہیں ہو گی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 448]
حضرت عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو جنتیں ایسی ہیں کہ ان کے برتن اور جو کچھ ان میں ہے چاندی کے ہوں گے، اور دو جنتیں ایسی ہیں کہ ان کے برتن اور جو کچھ ان میں ہے سونے کے ہوں گے، اور لوگوں اور ان کے رب کی جنتِ عدن میں رویت کے درمیان اس کے چہرے پر عظمت و بڑائی کی چادر کے سوا کوئی چیز حائل نہیں ہوگی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 448]
ترقیم فوادعبدالباقی: 180
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في التفسير، باب: ﴿وَمِن دُونِهِمَا جَنَّتَانِ﴾ برقم (4878 و 4880) وفى التوحيد، باب: قول الله تعالى ﴿ وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ ‎،‏ إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ ﴾ برقم (7444) والترمذى في ((جامعه)) في صفة الجنة، باب: ما جاء في صفة غرف الجنة۔ وقال: هذا حديث حسن صحيح برقم (2528) وابن ماجه في ((سننه)) في المقدمة، باب: ما انكرت الجهمية، برقم (186) انظر ((التحفة)) برقم (9135)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن قيس الأشعري، أبو موسىصحابي
👤←👥أبو بكر بن أبي موسى الأشعري، أبو بكر
Newأبو بكر بن أبي موسى الأشعري ← عبد الله بن قيس الأشعري
ثقة
👤←👥عبد الملك بن حبيب الأسدي، أبو عمران
Newعبد الملك بن حبيب الأسدي ← أبو بكر بن أبي موسى الأشعري
ثقة
👤←👥عبد العزيز بن عبد الصمد العمي، أبو عبد الصمد
Newعبد العزيز بن عبد الصمد العمي ← عبد الملك بن حبيب الأسدي
ثقة حافظ
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← عبد العزيز بن عبد الصمد العمي
ثقة حافظ إمام
👤←👥مالك بن عبد الواحد المسمعي، أبو غسان
Newمالك بن عبد الواحد المسمعي ← إسحاق بن راهويه المروزي
ثقة
👤←👥نصر بن علي الأزدي، أبو عمرو
Newنصر بن علي الأزدي ← مالك بن عبد الواحد المسمعي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
7444
جنتان من فضة آنيتهما وما فيهما وجنتان من ذهب آنيتهما وما فيهما ما بين القوم وبين أن ينظروا إلى ربهم إلا رداء الكبر على وجهه في جنة عدن
صحيح البخاري
4878
جنتان من فضة آنيتهما وما فيهما وجنتان من ذهب آنيتهما وما فيهما ما بين القوم وبين أن ينظروا إلى ربهم إلا رداء الكبر على وجهه في جنة عدن
صحيح مسلم
448
جنتان من فضة آنيتهما وما فيهما وجنتان من ذهب آنيتهما وما فيهما ما بين القوم وبين أن ينظروا إلى ربهم إلا رداء الكبرياء على وجهه في جنة عدن
جامع الترمذي
2527
في الجنة جنتين آنيتهما وما فيهما من فضة وجنتين آنيتهما وما فيهما من ذهب ما بين القوم وبين أن ينظروا إلى ربهم إلا رداء الكبرياء على وجهه في جنة عدن
سنن ابن ماجه
186
جنتان من فضة آنيتهما وما فيهما وجنتان من ذهب آنيتهما وما فيهما ما بين القوم وبين أن ينظروا إلى ربهم تبارك و إلا رداء الكبرياء على وجهه في جنة عدن
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 448 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 448
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
صحابہ کرامؓ اور سلف امت کے نزدیک،
آخرت میں مومنوں کو اللہ تعالیٰ کا دیدار ہوگا۔
اللہ تعالیٰ اپنے چہرے سے عظمت وکبریائی کا پردہ اٹھائے گا،
متکلمین کی طرح اسمیں کسی قسم کی تاویل کی ضرورت نہیں ہے۔
کہ وہ کسی جہت یا مکان میں نہیں ہوگا،
اس طرح سے وجہ سے مراد ذات ہے درست نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ کا دیدار ہوگا اور وہ اوپر ہوگا،
قرآن وحدیث دونوں سے دیدار الہٰی ثابت ہے،
معتزلہ،
خوارج اور بعض مرجئہ نے رویت کا انکار کیا ہے،
اور انکار میں وہی چیزیں پیش کی ہیں (جن)
کی متکلمین نے بلاوجہ تاویل کی ہے۔
وہ کہتے ہیں:
نہ اس کا جسم ہے،
نہ اس کا کوئی رنگ ہے،
نہ کوئی مکان اورجہت ہے،
پھر اس کو کیسے دیکھا جا سکتا ہے۔
اورمتکلمین بھی اس انکار میں ان کے ہمنوا ہیں اور کہتے ہیں:
جس طرح وہ مخلوق کو ان چیزوں سے پاک ہونے کے باوجود دیکھتا ہے اس طرح مخلوق بھی اس کو دیکھے گی۔
صحابہ کرامؓ،
سلف امت اور محدثینؒ کے نزدیک اللہ تعالیٰ عرش پر ہے،
اس کے لیے جہت علو اور فوقیت ثابت ہے،
اور اس کی آنکھیں،
چہرہ،
ہاتھ وغیرہ جس کا احادیث میں تذکرہ آیا ہے موجود ہیں،
لیکن مخلوق کے لیے یہ چیزیں ان کی حیثیت اورشان کے مطابق ہیں،
اورخالق کے لیے اس کے شایان شان ہیں،
جس طرح وہ اپنی ذات صفات میں بے مثال ہے،
اس طرح ان چیزوں میں بھی بے مثال ہے۔
جس طرح اس کی حقیقت وماہیت کو نہیں جانا جا سکتا،
اس طرح ان چیزوں کی حقیقت وماہیت اور کیفیت کو نہیں جاتا سکتا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 448]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 4878
جنت کے باغ
«. . . قَالَ:" جَنَّتَانِ مِنْ فِضَّةٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا، وَجَنَّتَانِ مِنْ ذَهَبٍ آنِيَتُهُمَا . . .»
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (جنت میں) دو باغ ہوں گے جن کے برتن اور تمام دوسری چیزیں چاندی کی ہوں گی اور دو دوسرے باغ ہوں گے جن کے برتن اور تمام دوسری چیزیں سونے کے ہوں گے . . . [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/بَابُ قَوْلِهِ: {وَمِنْ دُونِهِمَا جَنَّتَانِ: 4878]
تخريج الحديث:
[113۔ البخاري فى: 65 كتاب التفسير: 1 باب قوله ومن دونهما جنتان 4878 مسلم 180]

لغوی توضیح:
«جَنَّتَان» کی واحد «جَنَّة» ہے، معنی ہے باغ۔
«آنِيَتُهُمَا» ان کے برتن۔
«رِدَاء» چادر۔
[جواہر الایمان شرح الولووالمرجان، حدیث/صفحہ نمبر: 113]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث186
جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ۔
ابوموسیٰ اشعری (عبداللہ بن قیس) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو جنتیں ایسی ہیں کہ ان کے برتن اور ساری چیزیں چاندی کی ہیں، اور دو جنتیں ایسی ہیں کہ ان کے برتن اور ان کی ساری چیزیں سونے کی ہیں، جنت عدن میں لوگوں کے اور ان کے رب کے دیدار کے درمیان صرف اس کے چہرے پہ پڑی کبریائی کی چادر ہو گی جو دیدار سے مانع ہو گی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 186]
اردو حاشہ:
(1)
اس حدیث میں دیدار الہی کا اثبات ہے۔

(2)
اہل جنت جب جنت میں داخل ہو جائیں گے تو اللہ کی زیارت ہو سکے گی۔
صرف اللہ تعالیٰ کی کبریائی کی چادر دیدار سے مانع ہو گی۔
جب اللہ تعالیٰ اپنی رحمت و فضل کا اظہار کرے گا تو وہ مانع دور اور دیدار کا شرف حاصل ہو جائے گا۔

(3)
اللہ تعالیٰ کے چہرہ اقدس پر کبریائی کی چادر ہو گی۔
اس امر کو یوں ہی تسلیم کرنا ہو گا، تاویل کی ضرورت نہیں، ورنہ انکار لازم آئے گا۔

(4)
جنت کی نعمتیں بے شمار اور بے مثال ہیں۔
قرآن و حدیث میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ صرف اس حد تک ہے جس قدر انسان سمجھ سکیں۔
جنت کی چاندی اور سونا بھی دنیا کی چاندی اور سونے کی طرح نہیں، بلکہ اس قدر عمدہ اور اعلیٰ ہے کہ اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

(5)
ان جنتوں کی چیزیں سونے چاندی کی ہوں گی، مثلا:
برتن، پلنگ، تخت، اور درخت وغیرہ۔
واللہ أعلم.
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 186]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2527
جنت کے کمروں کا بیان۔
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ایسے کمرے ہیں جن کا بیرونی حصہ اندر سے اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آئے گا۔‏‏‏‏ ایک دیہاتی نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ کن لوگوں کے لیے ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: یہ اس کے لیے ہوں گے جو اچھی گفتگو کرے، کھانا کھلائے، پابندی سے روزے رکھے اور جب لوگ سو رہے ہوں تو اللہ کی رضا کے لیے رات میں نماز پڑھے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب صفة الجنة/حدیث: 2527]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(دیکھیے:
مذکورہ حدیث کے تحت اس پر بحث)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2527]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4878
4878. حضرت عبداللہ بن قیس (ابو موسٰی اشعری) ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو باغ چاندی کے ہیں۔ ان دونوں کے برتن اور ان کا دیگر ساز و سامان چاندی کا ہو گا۔ اور دوسرے دو باغ سونے کے ہیں۔ ان کے برتن اور دیگر ساز و سامان بھی سونے کا ہو گا۔ اور جنت عدن میں اہل جنت اور ان کے رب کے دیدار میں کوئی چیز حائل نہیں ہو گی، ہاں! رب کبریاء کے چہرے پر کبریائی کی چادر ضرور ہو گی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4878]
حدیث حاشیہ:
یا اللہ! قیامت کے دن ہم سب کو اپنے دیدار پر انوار سے مشرف فرمائیو۔
آمین۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4878]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7444
7444. سیدنا عبداللہ بن قیس ؓ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نےفرمایا: دو جنتیں ایسی ہوں گی جو خود ان کے برتن اور ان کا تمام سازو کے برتن اور ان کا تمام سازو سامان سونے کا ہوگا۔ اور جنت عدن میں اہل جنت اور اللہ کے دیدار کے درمیان صرف کبریائی کی چادر حائل ہوگی جو ذات باری تعالیٰ کے چہرےپر ہوگی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:7444]
حدیث حاشیہ:
معلوم ہوکہ جب پروردگار کو منظور ہوگا اس کبریائی کی چادر کو اپنے منہ سے ہٹا دے گا اورجنتی اس کے دیدار سےمشرف ہوں گا۔
یہ بھی معلوم ہو کہ جنت عدن تمام حجابوں کے پرے ہے۔
جنت العدن میں جب آدمی پہنچ گیا تواس نےسارے حجابوں کوطے کرلیا۔
اللہ پاک ہم سب کو ہمارے ماں باپ آل واولاد اور تمام قارئیں بخاری شریف کو جنت العدن کا داخلہ نصیب کرے آمین یارب العالمین۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7444]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4878
4878. حضرت عبداللہ بن قیس (ابو موسٰی اشعری) ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو باغ چاندی کے ہیں۔ ان دونوں کے برتن اور ان کا دیگر ساز و سامان چاندی کا ہو گا۔ اور دوسرے دو باغ سونے کے ہیں۔ ان کے برتن اور دیگر ساز و سامان بھی سونے کا ہو گا۔ اور جنت عدن میں اہل جنت اور ان کے رب کے دیدار میں کوئی چیز حائل نہیں ہو گی، ہاں! رب کبریاء کے چہرے پر کبریائی کی چادر ضرور ہو گی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4878]
حدیث حاشیہ:

اس حدیث میں باغات کی اقسام بیان کی گئی ہیں کہ دو باغ تو اعلیٰ قسم کے ہوں گے اور دو باغ ان سے کچھ کم درجے کے ہوں گے۔
یہ اقسام اہل جنت کے درجات کےفرق کی بنیاد پر ہیں۔
مقربین اور سابقین کے لیے سونے کے دو باغ اور عام اہل ایمان کے لیے چاندی دو باغ ہوں گے۔

روئیت باری، یعنی اللہ تعالیٰ کے دیدار کے متعلق بحث کتاب التوحید میں آئے گی، إن شاء اللہ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قیامت کے دن جنت میں اپنا دیدار نصیب فرمائے۔
آمین یارب العالمین۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4878]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7444
7444. سیدنا عبداللہ بن قیس ؓ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نےفرمایا: دو جنتیں ایسی ہوں گی جو خود ان کے برتن اور ان کا تمام سازو کے برتن اور ان کا تمام سازو سامان سونے کا ہوگا۔ اور جنت عدن میں اہل جنت اور اللہ کے دیدار کے درمیان صرف کبریائی کی چادر حائل ہوگی جو ذات باری تعالیٰ کے چہرےپر ہوگی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:7444]
حدیث حاشیہ:

ایک حدیث میں ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی:
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمیں جنت کے متعلق بتائیں وہ کس چیز سے بنائی گئی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اس کی کچھ اینٹیں سونے کی اور کچھ چاندی کی ہیں۔
اس کا گارا بہترین کستوری کا، اس کی کنکریاں قیمتی جواہرات اور اس کی مٹی زعفران کی ہے (جامع الترمذي، صفة الجنة، حدیث: 2526)
یہ حدیث پیش کردہ حدیث کے بظاہر معارض ہے۔
اس کا جواب اس طرح دیا گیا ہے کہ پہلی حدیث میں جنت کے برتنوں وغیرہ کا ذکر ہے جبکہ دوسری حدیث میں اس کی تعمیر اور دیواروں کا بیان ہے۔
(فتح الباري: 533/13)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے چہرے کے آگے کبریائی کی چادر ہے۔
وہ جب چاہے گا کہ اپنے بندوں کو دیدار سے مشرف کرے اس چادر کو منہ سے ہٹا دے گا، پھر اہل جنت اپنے رب سے محودیدار ہوں گے، جبکہ بعض عقل پرست حضرات ان نورانی پردوں کا انکار کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ کبریائی کی چادر متشابہات میں سے ہے کیونکہ درحقیقت وہاں نہ کوئی چادر ہے اور نہ کوئی چہرہ ہی اس لیے اس کی حقیقت کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کیا جائے یا وجه کی تاویل ذات سے کی جائے رداء يعنی چادر اس ذات کی صفت ہے جو مخلوقات کی مشابہت سے پاک صاف ہے۔
(فتح الباري: 534/13)
لیکن یہ تفویض یا تاویل ظاہر نصوص کے خلاف ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام اہل عرب سے زیادہ فصیح تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کو ظاہر مفہوم سے پھیر کر کوئی دوسرا معنی لینا فصاحت وبلاغت کے خلاف ہے۔
پھر ظاہر مفہوم سے ہٹ کر کوئی دوسرامفہوم مراد لینے کی دلیل چاہیے، جبکہ ہمارے اسلاف نے اسے ظاہر معنی پر محمول کیا جائے اور اسے مبنی برحقیقت تسلیم کیا ہے۔
(شرح کتاب التوحید للغنیمان: 161/2)
واضح رہے کہ جنت عدن میں اللہ تعالیٰ کا دیدار بہت قریب سے ہوگا۔
صرف نورانی پردے ہٹانے سے اللہ تعالیٰ کا دیدار ہوسکے گا۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7444]

Sahih Muslim Hadith 448 in Urdu