Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب بيان اختلاف المجتهدين:
باب: مجتہدوں کا اختلاف۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1720 ترقیم شاملہ: -- 4496
وحَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ مَيْسَرَةَ الصَّنْعَانِيَّ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ جَمِيعًا، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ مَعْنَى حَدِيثِ وَرْقَاءَ.
موسیٰ بن عقبہ اور محمد بن عجلان نے ابوزناد سے اسی سند کے ساتھ ورقاء کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4496]
امام صاحب مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی حدیث اپنے دو اور اساتذہ کی سندوں سے، ابو الزناد کی مذکورہ بالا سند ہی سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4496]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1720
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن ذكوان القرشي، أبو عبد الرحمنإمام ثقة ثبت
👤←👥محمد بن عجلان القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن عجلان القرشي ← عبد الله بن ذكوان القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥روح بن القاسم التميمي، أبو غياث
Newروح بن القاسم التميمي ← محمد بن عجلان القرشي
ثقة حافظ
👤←👥يزيد بن زريع العيشي، أبو معاوية
Newيزيد بن زريع العيشي ← روح بن القاسم التميمي
ثقة ثبت
👤←👥أمية بن بسطام العيشي، أبو بكر
Newأمية بن بسطام العيشي ← يزيد بن زريع العيشي
ثقة
👤←👥موسى بن عقبة القرشي، أبو محمد
Newموسى بن عقبة القرشي ← أمية بن بسطام العيشي
ثقة فقيه إمام في المغازي
👤←👥حفص بن ميسرة العقيلي، أبو عمرو، أبو عمر
Newحفص بن ميسرة العقيلي ← موسى بن عقبة القرشي
ثقة
👤←👥سويد بن سعيد الهروي، أبو محمد
Newسويد بن سعيد الهروي ← حفص بن ميسرة العقيلي
صدوق يخطئ كثيرا
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4496 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4496
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس،
جب دونوں عورتیں مقدمہ لائیں تو ان میں سے کسی کے پاس شہادت یا دلیل نہ تھی تو اب فیصلہ قرائن و آثار کی روشنی میں ہو سکتا تھا تو حضرت داؤد علیہ السلام کی نظر کسی ایسے قرینہ پر پڑی جو بڑی کے حق میں جاتا تھا،
مثلا بچہ بڑی کے پاس تھا اور چھوٹی کے پاس شہادت نہ تھی یا بچہ کی رنگت و شکل و شباہت بڑی سے ملتی جلتی تھی یا بڑی کا انداز و اسلوب اور ھئیت مثلا اس کا مطمئن و خوش و خرم ہونا اور انتہائی پراعتماد ہونا،
اس کے حق میں جاتا تھا،
جبکہ چھوٹی پثر مردہ اور پریشان تھی،
اس لیے حضرت داؤد علیہ السلام نے فیصلہ اس کے حق میں کر دیا،
جبکہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے سامنے یہ ماجرا اور فیصلہ آیا تو انہوں نے ایک نفسیاتی طریقہ اختیار کیا کہ میں بچہ دونوں میں تقسیم کر دیتا ہوں،
جس پر بڑی راضی ہو گئی کہ اگر میرا بچہ نہیں رہا تو یہ بھی محروم ہو جائے اور اسے دیکھ کر اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کر سکے تو اس نفسیاتی اور واقعاتی قرینہ سے حضرت سلیمان علیہ السلام نے بھانپ لیا کہ بچہ چھوٹی کا ہے اور بڑی نے بھی اعتراض نہ کیا کہ بڑی عدالت سے فیصلہ میرے حق میں ہو گیا ہے،
آپ اس کو تبدیل کرنے کے مجاز کیسے ہو گئے ہیں،
اس طرح گویا اس نے بچہ کے چھوٹی کے ہونے کا اقرار و اعتراف کر لیا اور حضرت سلیمان علیہ السلام نے یہ صورت حال اپنے باپ کے سامنے رکھی تو انہوں نے اپنا فیصلہ تبدیل کر کے بیٹے کے فیصلہ کی توثیق کر دی،
وگرنہ بڑی عدالت کا فیصلہ چھوٹی عدالت بدلنے کی مجاز نہیں ہے،
بہرحال اس سے اصل مقصود یہ ہے کہ اہل صلاحیت و استعداد اور اہل علم کے فہم میں اختلاف ہو سکتا،
جیسا کہ خود قرآن مجید میں آیا ہے:
﴿فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ ۚ وَكُلًّا آتَيْنَا حُكْمًا وَعِلْمًا﴾ (الانبیاء: 79)
ہم نے فیصلہ کی صورت حال سلیمان کو سمجھا دی اور ہم نے دونوں کو حکمت و علم سے نوازا تھا،
فہم کے اختلاف کی بنا پر فیصلہ اور مسائل میں اختلاف ہو سکتا ہے،
لیکن حق بات بہرحال ایک ہو گی،
اس لیے اگر تبادلہ خیال سے دوسرے کی بات کی درستگی واضح ہو جائے تو اس کو خوش دلی سے قبول کرنا چاہیے اور یہ عظمت کی دلیل ہے،
اس میں توہین و تخفیف کا کوئی پہلو نہیں ہے اور نہ کسر شان کا باعث ہے۔
اللہ تعالیٰ نے دونوں کی تعریف کی ہے،
اس لیے ائمہ کے اختلاف کی بنا پر،
ان کی تکریم و توقیر میں کمی کرنا اور ان پر زبان طعن دراز کرنا،
درست نہیں ہے،
لیکن بات اس کی مانی جائے گی جس کی بات قرآن و سنت کے مطابق یا اس سے قریب تر ہے اور اس سے کسی امام کی گستاخی یا بے ادبی لازم نہیں آتی،
بلکہ گستاخی اور سوء ادبی یہ ہے کہ امام کے قول کی تاویل کی بجائے احادیث کو تاویل کا نشانہ بنایا جائے،
گویا کہ امام واجب الاتباع ہے،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واجب الاتباع نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4496]