صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
7. باب استحباب الدعاء بالنصر عند لقاء العدو:
باب: دشمن سے ملاقات (جنگ) کے وقت فتح کی دعا مانگنے کے استحباب کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 1743 ترقیم شاملہ: -- 4546
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ، يَقُولُ يَوْمَ أُحُدٍ: " اللَّهُمَّ إِنَّكَ إِنْ تَشَأْ لَا تُعْبَدْ فِي الْأَرْضِ ".
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (جنگِ) احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (بار بار) یہ فرما رہے تھے: ”اے اللہ! اگر تو یہ چاہتا ہے تو (آج کے بعد) زمین میں تیری عبادت نہ کی جائے گی۔“ (تیری عبادت کرنے والی آخری امت ختم ہو جائے گی)۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4546]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگِ احد کے دن یہ فرما رہے تھے: «اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ لَا تُعْبَدْ فِي الْأَرْضِ» ”اے اللہ! اگر تو چاہے تو زمین میں تیری عبادت نہ کی جائے۔“ (تو مسلمانوں کو شکست دے دے) [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4546]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1743
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4546 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4546
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
ان حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے،
فتح و شکست اللہ کے قبضہ میں ہے،
اس کی نصرت و حمایت اور توفیق و تائید کے بغیر مسلمان محض ہتھیاروں کے بل بوتہ پر فتح نہیں پا سکتے کیونکہ مادی اور ظاہری اسباب عام طور پر دشمن کے پاس زیادہ ہوتے ہیں،
اس لیے ان میں ان کا مقابلہ نہیں ہو سکتا،
دشمن کے مقابلہ کی واحد صورت اللہ کی نصرت و حمایت ہے،
جو ایمان اور عمل صالح کے نتیجہ میں حاصل ہوتی ہے،
جس سے بدقسمتی سے مسلمان آج بحیثیت مجموعی محروم ہیں،
اللہ ان کے ایمان کو مضبوط کرے اور عمل صالح کی توفیق سے نوازے،
آمین۔
فوائد ومسائل:
ان حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے،
فتح و شکست اللہ کے قبضہ میں ہے،
اس کی نصرت و حمایت اور توفیق و تائید کے بغیر مسلمان محض ہتھیاروں کے بل بوتہ پر فتح نہیں پا سکتے کیونکہ مادی اور ظاہری اسباب عام طور پر دشمن کے پاس زیادہ ہوتے ہیں،
اس لیے ان میں ان کا مقابلہ نہیں ہو سکتا،
دشمن کے مقابلہ کی واحد صورت اللہ کی نصرت و حمایت ہے،
جو ایمان اور عمل صالح کے نتیجہ میں حاصل ہوتی ہے،
جس سے بدقسمتی سے مسلمان آج بحیثیت مجموعی محروم ہیں،
اللہ ان کے ایمان کو مضبوط کرے اور عمل صالح کی توفیق سے نوازے،
آمین۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4546]
Sahih Muslim Hadith 4546 in Urdu
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري