🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. باب صلح الحديبية في الحديبية:
باب: حدیبیہ میں جو صلح ہوئی اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1786 ترقیم شاملہ: -- 4637
وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ، قَالَ: " لَمَّا نَزَلَتْ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا {1} لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ سورة الفتح آية 1-2 إِلَى قَوْلِهِ فَوْزًا عَظِيمًا سورة الفتح آية 5 مَرْجِعَهُ مِنْ الْحُدَيْبِيَةِ، وَهُمْ يُخَالِطُهُمُ الْحُزْنُ وَالْكَآبَةُ، وَقَدْ نَحَرَ الْهَدْيَ بِالْحُدَيْبِيَةِ، فَقَالَ: لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آيَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا جَمِيعًا "،
سعید بن ابی عروبہ نے ہمیں قتادہ سے حدیث سنائی کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث سنائی، کہا: جب آیت: (إِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِینًا ﴿﴾ لِّیَغْفِرَ لَکَ ٱللَّـہُ۔۔۔ فَوْزًا عَظِیمًا ﴿﴾) تک اتری (تو یہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیبیہ سے واپسی کا موقع تھا اور لوگوں کے دلوں میں غم اور دکھ کی کیفیت طاری تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں قربانی کے اونٹ نحر کر دیے تھے تو (اس موقع پر) آپ نے فرمایا: مجھ پر ایک ایسی آیت نازل کی گئی ہے جو مجھے پوری دنیا سے زیادہ محبوب ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4637]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب حدیبیہ سے واپسی پر سورہ فتح کی پانچ ابتدائی آیات ﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4637]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1786
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥سعيد بن أبي عروبة العدوي، أبو النضر
Newسعيد بن أبي عروبة العدوي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة حافظ
👤←👥خالد بن الحارث الهجيمي، أبو عثمان
Newخالد بن الحارث الهجيمي ← سعيد بن أبي عروبة العدوي
ثقة ثبت
👤←👥نصر بن علي الأزدي، أبو عمرو
Newنصر بن علي الأزدي ← خالد بن الحارث الهجيمي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
4637
نزلت إنا فتحنا لك فتحا مبينا ليغفر لك الله
جامع الترمذي
3263
نزلت علي آية أحب إلي مما على الأرض ثم قرأها النبي عليهم فقالوا هنيئا مريئا يا رسول الله قد بين الله لك ماذا يفعل بك ماذا يفعل بنا فنزلت عليه ليدخل المؤمنين والمؤمنات جنات تجري من تحتها الأنهار حتى بلغ فوزا عظيما
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4637 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4637
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
الكابة:
غم و حزن کی وجہ سے پزمردگی طاری ہونا،
حوصلہ ٹوٹ جانا۔
فوائد ومسائل:
ان آیات میں سے پہلے آیت میں،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے فتح،
مغفرت عامہ،
اتمام نعمت،
صراط مستقیم کی ہدایت اور نصر عزیز کی بشارت دی گئی ہے،
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تمام دنیا سے محبوب قرار دیا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4637]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3263
سورۃ الفتح سے بعض آیات کی تفسیر۔
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر حدیبیہ سے واپسی کے وقت «ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك وما تأخر» (اللہ نے جہاد اس لیے فرض کیا ہے) تاکہ اللہ تمہارے اگلے پچھلے گناہ بخش دے (الفتح: ۲)، نازل ہوئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو مجھے زمین کی ساری چیزوں سے زیادہ محبوب ہے، پھر آپ نے وہ آیت سب کو پڑھ کر سنائی، لوگوں نے (سن کر) «هنيأ مريئًا» (آپ کے لیے خوش گوار اور مبارک ہو) کہا، اے اللہ کے نبی! اللہ نے آپ کو بتا دیا کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جائے گا مگر ہمارے ساتھ کیا ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3263]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎: (اللہ نے جہاد اس لیے فرض کیا ہے) تاکہ اللہ تمہارے اگلے پچھلے گناہ بخش دے (الفتح: 2)

2؎:
تاکہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے باغوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی،
جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے اور ان سے ان کے گناہ دورکردے اوراللہ کے نزدیک یہ بہت بڑی کامیابی ہے (الفتح: 5)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3263]