علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
5. باب فضيلة الإمام العادل وعقوبة الجائر والحث على الرفق بالرعية والنهي عن إدخال المشقة عليهم:
باب: حاکم عادل کی فضیلت اور حاکم ظالم کی برائی۔
ترقیم عبدالباقی: 142 ترقیم شاملہ: -- 4732
وحَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنِي سَوَادَةُ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ مَرِضَ، فَأَتَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ يَعُودُهُ نَحْوَ حَدِيثِ الْحَسَنِ، عَنْ مَعْقِلٍ.
سوادہ بن ابواسود نے خبر دی کہ میرے والد نے مجھے حدیث بیان کی کہ حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے تو عبیداللہ بن زیاد ان کی عیادت کے لیے گیا۔ (آگے) حسن بصری کی حضرت معقل رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ حدیث کی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4732]
سوادہ بن ابی الاسود اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت معقل بن یسار رضی اللہ تعالی عنہ بیمار ہو گئے، تو عبیداللہ بن زیاد ان کی عیادت کے لیے گیا، آگے حسن بصری کی طرح، حضرت معقل رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4732]
ترقیم فوادعبدالباقی: 142
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4732 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4732
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ جو امیر اپنی رعایا کے امور ومعاملات خیر خواہی اور ان کی بھلائی کے جذبہ سے سرشار ہو کر محنت اور کوشش سے سرانجام نہیں دیتا،
بلکہ دھوکہ دہی اور خیانت سے کام لیتا ہے،
تو یہ اتنا سنگین جرم ہے،
جو اس کے لیے جنت سے محرومی کا باعث بنتا ہے،
اس لیے وہ اپنی رعایا کے ساتھ جنت میں داخل نہیں ہوگا،
اگرچہ اپنے ایمان کی برکت سے سزا بھگت کر،
اگر اس کے دوسرے اعمال اس کی معافی کا باعث نہ بنے،
جنت میں داخل ہوگا۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ جو امیر اپنی رعایا کے امور ومعاملات خیر خواہی اور ان کی بھلائی کے جذبہ سے سرشار ہو کر محنت اور کوشش سے سرانجام نہیں دیتا،
بلکہ دھوکہ دہی اور خیانت سے کام لیتا ہے،
تو یہ اتنا سنگین جرم ہے،
جو اس کے لیے جنت سے محرومی کا باعث بنتا ہے،
اس لیے وہ اپنی رعایا کے ساتھ جنت میں داخل نہیں ہوگا،
اگرچہ اپنے ایمان کی برکت سے سزا بھگت کر،
اگر اس کے دوسرے اعمال اس کی معافی کا باعث نہ بنے،
جنت میں داخل ہوگا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4732]
Sahih Muslim Hadith 4732 in Urdu
مسلم بن مخراق العبدي ← معقل بن يسار المزني