🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب فضيلة الإمام العادل وعقوبة الجائر والحث على الرفق بالرعية والنهي عن إدخال المشقة عليهم:
باب: حاکم عادل کی فضیلت اور حاکم ظالم کی برائی۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1830 ترقیم شاملہ: -- 4733
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، أَنَّ عَائِذَ بْنَ عَمْرٍو ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَخَلَ عَلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ، فَقَالَ: أَيْ بُنَيَّ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ شَرَّ الرِّعَاءِ الْحُطَمَةُ، فَإِيَّاكَ أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ، فَقَالَ لَهُ: اجْلِسْ، فَإِنَّمَا أَنْتَ مِنْ نُخَالَةِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: وَهَلْ كَانَتْ لَهُمْ نُخَالَةٌ؟، إِنَّمَا كَانَتِ النُّخَالَةُ بَعْدَهُمْ وَفِي غَيْرِهِمْ ".
حسن بصری رحمہ اللہ نے بتایا کہ عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے، عبیداللہ بن زیاد کے پاس گئے اور فرمایا: میرے بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بدترین راعی، سخت گیر اور ظلم کرنے والا ہوتا ہے، تم اس سے بچنا کہ تم ان میں سے ہو۔ اس نے کہا: آپ بیٹھیے: آپ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے چھلنی میں بچ جانے والے آخری حصے کی طرح ہیں۔ (آخر میں چونکہ تنکے، پتھر، بھوسی بچ جاتے ہیں، اس لیے) انہوں نے کہا: کیا ان میں بھوسی، تنکے، پتھر تھے؟ یہ تو ان کے بعد ہوئے اور ان کے علاوہ دوسروں میں ہوئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4733]
حضرت حسن بصری بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائذ بن عمرہ رضی اللہ تعالی عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے ہیں، عبیداللہ بن زیاد کے پاس گئے اور کہا، اے بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے، بدترین، ذلیل (نگران) سخت گیر ہے تو ان میں سے ہونے سے بچاؤ کر۔ تو اس نے جواب دیا، بیٹھئے، تو تو بس محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کا چھان بورا ہے، تو حضرت عائذ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، کیا ان میں چھان بورا بھی تھا؟ چھان بورا تو ان کے بعد اور دوسروں میں پیدا ہوا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4733]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1830
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائذ بن عمرو المزني، أبو هبيرةصحابي
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد
Newالحسن البصري ← عائذ بن عمرو المزني
ثقة يرسل كثيرا ويدلس
👤←👥جرير بن حازم الأزدي، أبو النضر
Newجرير بن حازم الأزدي ← الحسن البصري
ثقة
👤←👥شيبان بن أبي شيبة الحبطي، أبو محمد
Newشيبان بن أبي شيبة الحبطي ← جرير بن حازم الأزدي
صدوق حسن الحديث
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4733 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4733
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
خُطَمَة:
بہت زیادہ توڑنے پھوڑنے والا،
جو رعایا کے ساتھ نرمی،
کی بجائے سختی اور شدت سے پیش آئے اور ان کو ظلم وستم کا نشانہ بنائے۔
(2)
نُخَالة:
چھان بورا،
یعنی تو صحابہ میں سے کوئی مقام ومرتبہ نہیں رکھتا،
محض نکما اور ردی ہے،
جس کی کوئی حیثیت نہیں،
اس طرح ابن زیاد نے ان سے انتہائی ناشائستہ اور گستاخانہ انداز اختیار کیا،
تو انہوں نے انتہائی وقار اور متانت کے ساتھ بے باکانہ انداز میں پوچھا،
کہ کیا،
وہ لوگ جو تمام انسانوں میں برگزیدہ اور پسندیدہ تھے اور پوری امت کے پیشوا اور رہنما تھے،
جو بعد والے لوگوں کے لیے قدوہ اور نمونہ تھے،
ان میں کوئی نکما اور حقیر ہو سکتا ہے،
یہ جنس تو بعد والے لوگوں میں پیدا ہوئی ہے،
اس لیے تم اپنا خیال کرو۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4733]

Sahih Muslim Hadith 4733 in Urdu