صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
8. باب وجوب طاعة الامراء في غير معصية وتحريمها في المعصية:
باب: بادشاہ یا حاکم یا امام کی اطاعت واجب ہے اس کام میں جو گناہ نہ ہو اور گناہ میں اطاعت کرنا حرام ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1836 ترقیم شاملہ: -- 4754
وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ كلاهما، عَنْ يَعْقُوبَ، قَالَ سَعِيدٌ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَيْكَ السَّمْعَ وَالطَّاعَةَ فِي عُسْرِكَ وَيُسْرِكَ، وَمَنْشَطِكَ وَمَكْرَهِكَ وَأَثَرَةٍ عَلَيْكَ ".
ابوصالح السمان سے روایت ہے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پر (امیر کا حکم) سننا اور ماننا واجب ہے، اپنی مشکل (کی کیفیت) میں بھی اور اپنی آسانی میں بھی، اپنی خوشی میں بھی اور اپنی ناخوشی میں بھی اور ترجیح دیے جانے کی صورت میں بھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4754]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے مخاطب! تم پر سننا اور اطاعت کرنا لازم ہے اپنی تنگی اور آسانی میں، طبیعت کی نشاط کے وقت اور ناگواری کے وقت، چاہے تم پر کسی کو ترجیح ہی دی جائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4754]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1836
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4754 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4754
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
عُسْرِ:
تنگی اورمشقت۔
(2)
يُسْرِ:
آسانی اور سہولت۔
(3)
مَنْشَطِكَ:
تمہاری نشاط اور خوشی کا باعث ہو۔
(4)
مَكْرَه:
کراہت وناپسندیدگی۔
(5)
أَثَرَة،
أُثرَة،
إِثرَة:
ترجیح اور ایثار۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے،
اگر امیر جائز کام کا حکم دے،
تو ہر قسم کے حالات میں اس کی اطاعت کرنا لازم ہے،
یہ نہیں کام اگر اپنی مرضی کے مطابق ہوا یا آسان اور سہل ہوا یا اپنے مفاد میں ہوا تو مان لیا،
وگرنہ ٹال مٹول سے کام لیا یا مخالفت شروع کر دی اور اس پر اعتراض کرنا شروع کر دئیے۔
مفردات الحدیث:
(1)
عُسْرِ:
تنگی اورمشقت۔
(2)
يُسْرِ:
آسانی اور سہولت۔
(3)
مَنْشَطِكَ:
تمہاری نشاط اور خوشی کا باعث ہو۔
(4)
مَكْرَه:
کراہت وناپسندیدگی۔
(5)
أَثَرَة،
أُثرَة،
إِثرَة:
ترجیح اور ایثار۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے،
اگر امیر جائز کام کا حکم دے،
تو ہر قسم کے حالات میں اس کی اطاعت کرنا لازم ہے،
یہ نہیں کام اگر اپنی مرضی کے مطابق ہوا یا آسان اور سہل ہوا یا اپنے مفاد میں ہوا تو مان لیا،
وگرنہ ٹال مٹول سے کام لیا یا مخالفت شروع کر دی اور اس پر اعتراض کرنا شروع کر دئیے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4754]
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي