صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
13. باب الامر بلزوم الجماعة عند ظهور الفتن وتحذير الدعاة إلى الكفر:
باب: فتنہ اور فساد کے وقت بلکہ ہر وقت مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنا۔
ترقیم عبدالباقی: 1848 ترقیم شاملہ: -- 4787
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ الْقَيْسِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِ جَرِيرٍ، وَقَالَ: لَا يَتَحَاشَ مِنْ مُؤْمِنِهَا.
ایوب نے غیلان بن جریر سے، انہوں نے زیاد بن ریاح قیسی سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس طرح جریر کی حدیث ہے، البتہ انہوں نے لا يتحاشى من مومنها کہا۔ (معنی ”کنارے پر نہیں رہتا، لحاظ نہیں کرتا“ ہی کے ہیں۔) [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4787]
امام صاحب ایک اور استاد کی سند سے یہی روایت بیان کرتے ہیں اس میں لا يتحاش [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4787]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1848
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥زياد بن رياح القيسي، أبو قيس زياد بن رياح القيسي ← أبو هريرة الدوسي | ثقة | |
👤←👥غيلان بن جرير المعولي غيلان بن جرير المعولي ← زياد بن رياح القيسي | ثقة | |
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر أيوب السختياني ← غيلان بن جرير المعولي | ثقة ثبتت حجة | |
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل حماد بن زيد الأزدي ← أيوب السختياني | ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور | |
👤←👥عبيد الله بن عمر الجشمي، أبو سعيد عبيد الله بن عمر الجشمي ← حماد بن زيد الأزدي | ثقة ثبت |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4787 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4787
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
عُمِّيَّة:
اندھا معاملہ جس کی حقیقت واضح نہیں ہے۔
(2)
عَصَبِيَّة:
حق اور سچ کی بجائے محض خاندانی،
قومی،
لسانی یا صوبائی تعصب پر کارروائی کرتا ہے۔
(3)
فقتلته جاهلية:
فعله کا وزن ہیت یا حالت پر دلالت کرتا ہے،
یعنی جس طرح جاہلیت میں لوگ عصیبت پر لڑتے مرتے تھے،
حق اور سچ کو نہیں دیکھتے تھے،
اس طرح یہ اس جاہلیت کے دور کی ہیئت پر لڑتا ہے۔
فوائد ومسائل:
ان حدیثوں سے واضح ہوتا ہے،
محض اپنے مال اور جان کے تحفظ کے لیے حکمرانوں کے خلاف بغاوت کرنا،
محض لسانی،
قومی،
قبائلی اور صوبائی تعصب کی بنا پر حکمرانوں کے خلاف خروج کرنا یا بلا سوچے سمجھے ہر ایک کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا اور ہر ایک کو اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنانا جائز نہیں ہے اور آج بدقسمتی سے یہی سب کچھ ہو رہا ہے۔
مفردات الحدیث:
(1)
عُمِّيَّة:
اندھا معاملہ جس کی حقیقت واضح نہیں ہے۔
(2)
عَصَبِيَّة:
حق اور سچ کی بجائے محض خاندانی،
قومی،
لسانی یا صوبائی تعصب پر کارروائی کرتا ہے۔
(3)
فقتلته جاهلية:
فعله کا وزن ہیت یا حالت پر دلالت کرتا ہے،
یعنی جس طرح جاہلیت میں لوگ عصیبت پر لڑتے مرتے تھے،
حق اور سچ کو نہیں دیکھتے تھے،
اس طرح یہ اس جاہلیت کے دور کی ہیئت پر لڑتا ہے۔
فوائد ومسائل:
ان حدیثوں سے واضح ہوتا ہے،
محض اپنے مال اور جان کے تحفظ کے لیے حکمرانوں کے خلاف بغاوت کرنا،
محض لسانی،
قومی،
قبائلی اور صوبائی تعصب کی بنا پر حکمرانوں کے خلاف خروج کرنا یا بلا سوچے سمجھے ہر ایک کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا اور ہر ایک کو اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنانا جائز نہیں ہے اور آج بدقسمتی سے یہی سب کچھ ہو رہا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4787]
زياد بن رياح القيسي ← أبو هريرة الدوسي