صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
23. باب بيان سن البلوغ:
باب: آدمی کب جوان ہوتا ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1868 ترقیم شاملہ: -- 4838
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، وَعَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ جَمِيعًا، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمْ، وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً فَاسْتَصْغَرَنِي.
عبداللہ بن ادریس، عبدالرحیم بن سلیمان اور عبدالوہاب ثقفی نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، مگر ان کی حدیث میں ہے: ”اور جب میں چودہ سال کا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کم سن قرار دیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4838]
یہی روایت امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، اس میں ہے، ”میں چودہ سال کا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چھوٹا خیال فرمایا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4838]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1868
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4838 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4838
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جنگ اُحد میں،
چودہویں برس میں داخل ہو چکے تھے اور جنگ خندق میں پندرہ سے تجاوز کر چکے تھے،
اس لیے پہلی جگہ،
کمی کو پورا کر کے چودہ کہا اور دوسری جگہ زائد کو نظر انداز کر کے پندرہ کہہ دیا۔
امام شافعی،
احمد اور صاحبین نے اس حدیث کی بنا پر پندرہ سال کو سن بلوغت قرار دیا ہے اور امام ابو حنیفہ نے لڑکے کے لیے 18 یا 19 سال اور لڑکی کے لیے سترہ (17)
کو سن بلوغت قرار دیا ہے،
اگر اس سے پہلے لڑکے کو احتلام اور لڑکی کو حیض آنا شروع ہو جائے تو وہ بالاتفاق بالغ شمار ہوں گے،
بعض دفعہ زیر ناف بالوں کو بھی بلوغت کی علامت قرار دیا گیا ہے،
امام احمد کا یہی قول ہے،
امام مالک اور امام شافعی کا ایک قول بھی یہی ہے۔
بقول علامہ تقی مفتی یہ قول صاحبین کا ہے۔
(تکملہ:
ج،
3 ص: 382)
فوائد ومسائل:
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جنگ اُحد میں،
چودہویں برس میں داخل ہو چکے تھے اور جنگ خندق میں پندرہ سے تجاوز کر چکے تھے،
اس لیے پہلی جگہ،
کمی کو پورا کر کے چودہ کہا اور دوسری جگہ زائد کو نظر انداز کر کے پندرہ کہہ دیا۔
امام شافعی،
احمد اور صاحبین نے اس حدیث کی بنا پر پندرہ سال کو سن بلوغت قرار دیا ہے اور امام ابو حنیفہ نے لڑکے کے لیے 18 یا 19 سال اور لڑکی کے لیے سترہ (17)
کو سن بلوغت قرار دیا ہے،
اگر اس سے پہلے لڑکے کو احتلام اور لڑکی کو حیض آنا شروع ہو جائے تو وہ بالاتفاق بالغ شمار ہوں گے،
بعض دفعہ زیر ناف بالوں کو بھی بلوغت کی علامت قرار دیا گیا ہے،
امام احمد کا یہی قول ہے،
امام مالک اور امام شافعی کا ایک قول بھی یہی ہے۔
بقول علامہ تقی مفتی یہ قول صاحبین کا ہے۔
(تکملہ:
ج،
3 ص: 382)
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4838]
عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي ← عبيد الله بن عمر العدوي