🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
41. باب ثبوت الجنة للشهيد:
باب: شہید کے لیے جنت کا ثابت ہونا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1903 ترقیم شاملہ: -- 4918
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ : " عَمِّيَ الَّذِي سُمِّيتُ بِهِ لَمْ يَشْهَدْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدْرًا، قَالَ: فَشَقَّ عَلَيْهِ، قَالَ: أَوَّلُ مَشْهَدٍ شَهِدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: غُيِّبْتُ عَنْهُ وَإِنْ أَرَانِيَ اللَّهُ مَشْهَدًا فِيمَا بَعْدُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَرَانِي اللَّهُ مَا أَصْنَعُ، قَالَ: فَهَابَ أَنْ يَقُولَ غَيْرَهَا، قَالَ: فَشَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ، قَالَ: فَاسْتَقْبَلَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، فَقَالَ لَهُ أَنَسٌ: يَا أَبَا عَمْرٍ وَأَيْنَ؟، فَقَالَ: وَاهًا لِرِيحِ الْجَنَّةِ أَجِدُهُ دُونَ أُحُدٍ، قَالَ: فَقَاتَلَهُمْ حَتَّى قُتِلَ، قَالَ: فَوُجِدَ فِي جَسَدِهِ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ مِنْ بَيْنِ ضَرْبَةٍ وَطَعْنَةٍ وَرَمْيَةٍ، قَالَ: فَقَالَتْ أُخْتُهُ عَمَّتِيَ الرُّبَيِّعُ بِنْتُ النَّضْرِ: " فَمَا عَرَفْتُ أَخِي إِلَّا بِبَنَانِهِ، وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلا سورة الأحزاب آية 23، قَالَ: فَكَانُوا يُرَوْنَ أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيهِ وَفِي أَصْحَابِهِ ".
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے چچا جن کے نام پر میرا نام رکھا گیا ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ بدر میں حاضر نہیں ہو سکے تھے اور یہ بات ان پر بہت شاق گزری تھی۔ انہوں نے کہا: یہ پہلا معرکہ تھا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شریک ہوئے اور میں اس سے غیر حاضر رہا، اس کے بعد اگر اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں کوئی معرکہ مجھے دکھایا تو اللہ مجھے بھی دیکھے گا کہ میں کیا کرتا ہوں۔ وہ ان کلمات کے علاوہ کوئی اور بات کہنے سے ڈرے (دل میں بہت کچھ کر گزرنے کا عزم تھا لیکن اس فقرے سے زیادہ کچھ نہیں کہا۔)، پھر وہ غزوہ اُحد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے، کہا: پھر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ان کے سامنے آئے تو (میرے چچا) انس (بن نضر) رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ابوعمرو! کدھر؟ (پھر کہا:) جنت کی خوشبو کیسی عجیب ہے! جو مجھے کوہِ احد کے پیچھے سے آ رہی ہے، پھر وہ کافروں سے لڑے یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔ ان کے جسم پر تلوار، نیزے اور تیروں کے اسی سے اوپر زخم پائے گئے۔ ان کی بہن (انس بن نضر کی بہن)، میری پھوپھی، ربیع بنت نضر رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے اپنے بھائی (کی لاش) کو صرف ان کی انگلیوں کے پوروں سے پہچانا تھا، (اسی موقع پر) یہ آیت نازل ہوئی: (مومنوں میں سے) کتنے مرد ہیں کہ جس (قول) پر انہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا، اسے سچ کر دکھایا، ان میں سے کچھ ایسے ہیں جنہوں نے اپنا ذمہ پورا کر دیا، اور ان میں سے کوئی ایسے ہیں جو منتظر ہیں، وہ ذرہ برابر تبدیل نہیں ہوئے (اپنے اللہ کے ساتھ کیے ہوئے عہد پر قائم ہیں۔) صحابہ کرام کا خیال یہ تھا کہ یہ آیت حضرت انس (بن نضر) رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4918]
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرا وہ چچا جس کے نام پر میرا نام رکھا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ بدر میں شریک نہ ہو سکا اور یہ چیز اس کے لیے بہت ناگواری کا باعث بنی، کہ پہلا معرکہ جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شریک ہوئے، میں اس سے غیر حاضر رہا، اگر اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد مجھے کوئی معرکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں دکھایا، تو اللہ تعالیٰ دیکھے گا میں کیا معرکہ سر انجام دیتا ہوں، اس کے سوا وہ کچھ کہنے سے خوف زدہ ہوئے، پھر وہ جنگ اُحد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے، اس کے سامنے سے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالی عنہ آئے تو حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ نے ان سے کہا، اے ابو عمرو! کدھر جا رہے ہو؟ پھر کہا حسرت ہے (تم پر) میں اُحد کے پیچھے سے جنت کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں اور دشمن سے ٹکرا گئے، حتیٰ کہ قتل کر دئیے گئے، تو ان کے جسم پر تلوار، نیزہ اور تیر کے اسی (80) سے زائد زخم پائے گئے۔ تو ان کی بہن اور میری پھوپھی ربیع بنت نضر نے بتایا، میں نے اپنے بھائی کو صرف ان کے پوروں سے شناخت کیا اور ان کے حق میں یہ آیت اتری ان میں سے کچھ ایسے مردان میدان ہیں، جنہوں نے اللہ سے اپنے کئے ہوئے عہد کو سچ کر دکھایا، تو ان میں سے کچھ ایسے ہیں جنہوں نے اپنی نذر پوری کر ڈالی اور ان میں سے بعض اس کے منتظر ہیں اور انہوں نے اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4918]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1903
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد
Newثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥سليمان بن المغيرة القيسي، أبو سعيد
Newسليمان بن المغيرة القيسي ← ثابت بن أسلم البناني
ثقة ثقة
👤←👥بهز بن أسد العمي، أبو الأسود
Newبهز بن أسد العمي ← سليمان بن المغيرة القيسي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن حاتم السمين، أبو عبد الله
Newمحمد بن حاتم السمين ← بهز بن أسد العمي
صدوق ربما وهم وكان فاضلا
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
4918
إن أراني الله مشهدا فيما بعد مع رسول الله ليراني الله ما أصنع
جامع الترمذي
3200
واها لريح الجنة أجدها دون أحد فقاتل حتى قتل فوجد في جسده بضع وثمانون من بين ضربة وطعنة ورمية فقالت عمتي الربيع بنت النضر فما عرفت أخي إلا ببنانه ونزلت هذه الآية رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه فمنهم من قضى نحبه ومنهم من ينتظر وما بدلوا تبديلا
جامع الترمذي
3201
اللهم إني أبرأ إليك مما جاء به هؤلاء يعني المشركين وأعتذر إليك مما صنع هؤلاء يعني أصحابه ثم تقدم فلقيه سعد فقال يا أخي ما فعلت أنا معك فلم أستطع أن أصنع ما صنع فوجد فيه بضع وثمانون من ضربة بسيف وطعنة برمح ورمية بسهم فكنا نقول فيه وفي أصحابه نزلت فمنهم من