صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
44. باب بيان قدر ثواب من غزا فغنم ومن لم يغنم:
باب: جو شخص جہاد کرے اور لوٹ کمائے اس کا ثواب اس سے کم ہے جو جہاد کرے اور لوٹ نہ کمائے۔
ترقیم عبدالباقی: 1906 ترقیم شاملہ: -- 4926
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ غَازِيَةٍ أَوْ سَرِيَّةٍ تَغْزُو، فَتَغْنَمُ وَتَسْلَمُ إِلَّا كَانُوا قَدْ تَعَجَّلُوا ثُلُثَيْ أُجُورِهِمْ، وَمَا مِنْ غَازِيَةٍ أَوْ سَرِيَّةٍ تُخْفِقُ وَتُصَابُ إِلَّا تَمَّ أُجُورُهُمْ ".
نافع بن یزید نے کہا: مجھے ابوہانی نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے ابوعبدالرحمٰن حبلی نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی غازی جماعت یا لشکر جہاد کرے، غنیمت حاصل کرے اور سلامت رہے تو انہوں نے اپنے دو تہائی اجر فوراً (یہیں) حاصل کر لیے اور جو بھی غازی جماعت یا لشکر خالی ہاتھ لوٹے اور زخم کھائے تو ان لوگوں کے اجر مکمل ہوں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4926]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو جہاد میں شرکت کرنے والی جماعت یا پارٹی جہاد کرتی ہے اور غنیمت حاصل کرنے کے ساتھ سلامت رہتی ہے تو وہ دنیا میں اپنا دو تہائی صلہ حاصل کر لیتے ہیں اور جو جماعت یا پارٹی غنیمت حاصل کرنے سے محروم رہتی ہے اور نقصان اٹھاتی ہے (شہادت یا زخم) تو ان کا اجر پورا رہتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4926]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1906
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4926 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4926
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
تخفق:
اخفاق کا معنی ہے،
انسان جہاد میں حصہ لے،
لیکن غنیمت حاصل نہ کرسکے،
یعنی اس کے حصول میں ناکام رہے،
اصاب:
وہ دستہ شہادت حاصل کرتا ہے،
یا زخمی ہوتا ہے گویا محفوظ وسلامت نہیں رہا۔
مفردات الحدیث:
تخفق:
اخفاق کا معنی ہے،
انسان جہاد میں حصہ لے،
لیکن غنیمت حاصل نہ کرسکے،
یعنی اس کے حصول میں ناکام رہے،
اصاب:
وہ دستہ شہادت حاصل کرتا ہے،
یا زخمی ہوتا ہے گویا محفوظ وسلامت نہیں رہا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4926]
Sahih Muslim Hadith 4926 in Urdu
عبد الله بن يزيد المعافري ← عبد الله بن عمرو السهمي