علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
46. باب استحباب طلب الشهادة في سبيل الله تعالى:
باب: اللہ کی راہ میں شہادت مانگنے کا ثواب۔
ترقیم عبدالباقی: 1908 ترقیم شاملہ: -- 4929
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ طَلَبَ الشَّهَادَةَ صَادِقًا أُعْطِيَهَا وَلَوْ لَمْ تُصِبْهُ ".
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے سچے دل سے شہادت طلب کی، اسے عطا کر دی جاتی ہے (اجر عطا کر دیا جاتا ہے) چاہے وہ اسے (عملاً) حاصل نہ ہو سکے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4929]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص صدق دل سے شہادت کا متلاشی ہو، اسے اس کا درجہ مل جاتا ہے، اگرچہ اسے شہادت نہ ملے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4929]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1908
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← ثابت بن أسلم البناني | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥شيبان بن أبي شيبة الحبطي، أبو محمد شيبان بن أبي شيبة الحبطي ← حماد بن سلمة البصري | صدوق حسن الحديث |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4929 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4929
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
شہادت کی آرزو اور تمنا کرنا،
اس مقصد کے لیے نہیں ہے کہ کافر کو مسلمان پر غلبہ حاصل ہو،
بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ جہاد کے لیے جان کا نذرانہ پیش کرنے کی ضرورت ہے،
کیونکہ اس کے بغیر دشمن پر فتح حاصل کرنا اور اسے ہزیمت سے دوچار کرنا ممکن نہیں ہے،
اس لیے ایک مومن دل میں تہہ دل سے یہ جذبہ رکھتا ہے کہ اعلائے کلمۃ اللہ اور اسلام کی سربلندی کے لیے اور مسلمانوں کے کافروں پر غلبہ پانے اور فتح حاصل کرنے کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کروں تاکہ میرے اس ایثار اور قربانی کے نتیجہ میں مسلمانوں کو مطلوبہ نتائج حاصل ہوں،
بہرحال مقصد یہ ہے کہ جان تو بہر صورت جانی ہے اور اپنے وقت مقررہ پر جانی ہے،
تو یہ میری خوش نصیبی ہے کہ میری جان اللہ کی راہ میں کام آئے،
اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں میں یہ جذبہ پیدا کرے تاکہ انہیں کافروں پر غلبہ اور برتری حاصل ہو کیونکہ کوئی بزدل اور کوتاہ ہمت قوم کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتی۔
فوائد ومسائل:
شہادت کی آرزو اور تمنا کرنا،
اس مقصد کے لیے نہیں ہے کہ کافر کو مسلمان پر غلبہ حاصل ہو،
بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ جہاد کے لیے جان کا نذرانہ پیش کرنے کی ضرورت ہے،
کیونکہ اس کے بغیر دشمن پر فتح حاصل کرنا اور اسے ہزیمت سے دوچار کرنا ممکن نہیں ہے،
اس لیے ایک مومن دل میں تہہ دل سے یہ جذبہ رکھتا ہے کہ اعلائے کلمۃ اللہ اور اسلام کی سربلندی کے لیے اور مسلمانوں کے کافروں پر غلبہ پانے اور فتح حاصل کرنے کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کروں تاکہ میرے اس ایثار اور قربانی کے نتیجہ میں مسلمانوں کو مطلوبہ نتائج حاصل ہوں،
بہرحال مقصد یہ ہے کہ جان تو بہر صورت جانی ہے اور اپنے وقت مقررہ پر جانی ہے،
تو یہ میری خوش نصیبی ہے کہ میری جان اللہ کی راہ میں کام آئے،
اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں میں یہ جذبہ پیدا کرے تاکہ انہیں کافروں پر غلبہ اور برتری حاصل ہو کیونکہ کوئی بزدل اور کوتاہ ہمت قوم کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4929]
Sahih Muslim Hadith 4929 in Urdu
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري